تحریک ریشمی رومال کے ایک اہم کردارمولانامحمد میاں منصور انصاریؒ

ولادت : 10 مارچ 1884ء ٭ وفات : 11 جنوری 1946ء

 

 

محمد عارف انصاری
رابطہ : 9572908382

مجاہد آزادی مولانامحمد میاں منصور انصاری رحمة اللہ علیہ نے برطانوی حکومت کے خلاف تحریک ریشمی رومال میں کلیدی کردار ادا کیاتھا۔ وہ10 مارچ 1884 ءکو اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے تحت انبہٹہ قصبے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام مولانا عبداللہ انصاری تھا جو علی گڑھ یونیورسٹی میں ناظم دینیات تھے اورمولانامحمد قاسم نانوتوی بانی دارلعلوم دیوبندکے نواسے ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ منبع العلوم، گلاؤٹھی میں اپنے والدکی نگرانی میں حاصل کی جہاں وہ ان دنوں صدر مدرس تھے۔ اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور 1903ءمیں فارغ ہونے کے بعد مختلف مقامات پرتدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔بعدہ شیخ الہندمولانامحمودالحسن علیہ رحمةکی خدمت میں اعانت ترجمہ قرآن کے لیے مقرر کیے گئے اوران کے زیرِ تربیت رہے ۔
1909ءمیں جب” جمعیة الانصار“ قائم ہوئی تو مولانا عبید اللہ سندھی رحمة اللہ علیہ کے ساتھ نائب ناظم کی ذمہ داریاں نبھائیں۔پہلی جنگ عظیم 1914ءکے دوران شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمة اللہ علیہ نے ریشمی رومال تحریک شروع کی توانہیں بھی اپنے اس منصوبے میں شریک کر لیا۔ 1915ءمیں شیخ الہندرحمة اللہ علیہ کے ساتھ حجاز گئے جہاں مکہ معظمہ کے گورنر غالب پاشا نے ظا لم انگریزوں کے خلاف جدو جہد میں تعاون کی یقین دہانی کے تحریری دستاویز ات دیے جن میں کوششیں تیز کردینے کی بات مسلمانان ہند سے کہی گئی تھی۔ یہی وہ تحریر ہے جو ” غالب نامہ“ کے نام سے مشہور ہے جسے ہندُستان اور کابل پہنچانے کا انتہائی اہم کام مولانا منصور انصاری ہی کے سپرد کیا گیاتھا۔
1916ءمیں مولانا نے مذکورہ خط ہندُستان اوریاغستان میں دکھانے کے بعدکابل جا کر مولانا عبیداللہ سندھی رحمة اللہ علیہ تک وہ پیغام پہنچایاجس کی تحریری تفصیل شیخ الہندرحمة اللہ علیہ کوارسال کی ۔انگریزوں کی سی آئی ڈی رپورٹ میںجن ریشمی رومال خطوط کا تذکرہ ہے، اس میں یہ خط بھی شامل ہے۔اس کے بعد ترکی گئے اور ایک موقع پر ماسکوبھی گئے جہاں سیاسی مشن میں انہیں بہ طورِ مشیر نامزد کیا گیا۔1929ءمیں افغانستان کے حالات کے پیشِ نظر چند ماہ تک روس میں جلاوطنی کی زندگی بسر کی۔ افغانستان میں اعلیٰ سطح کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔
مولانا انصاری رحمة اللہ علیہ نے ایک رسالہ ”حکومتِ الٰہی : دستورِ اساسی امامت اُمت“ اورسیاسیات کے موضوع پر متعدد کتب اور رسائل تحریر فرمائے۔ وہ ایسی سماجی تشکیل کے داعی تھے جس میں ملک کے باشندے نئے آنے والے دور کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مولانا آزاد ان کی شخصیت سے بڑے متاثر تھے اور ان کی یہ رائے بن گئی تھی کہ مولانامنصور انصاری رحمة اللہ علیہ جیسے ذہین انسان کی وطنِ کو اشد ضرورت ہے اس لیے انہیں واپس بلا لیا جائے۔ مگر آزادی وطن کی خاطر31 سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے یہ عظیم رہنماء11 جنوری 1946ءکو جلال آباد (افغانستان) میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
٭ ٭ ٭

Comments are closed.