فرانسیسی  دولہا اور  آگے’ ڈنکی‘ بارات 

 

ڈاکٹر سلیم خان

یومِ جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے لیے مہمانِ خصوصی کے طور پر امریکی صدر جو بائیڈن کو  دعوت دی گئی تو انہوں نے پیار سے اسے ٹھکرا دیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی مرتبہ  جی ٹوینٹی کے اجلاس میں وہ  آئے تھے تو انہیں ایک پریس کانفرنس تک  کرنے کی اجازت نہیں  دی گئی ۔ اپنے من کی بات کرنے کے لیے انہیں ویتنام جانے تک کا انتظار کرنا پڑا ۔ اس  لیے ایسے ملک کے دورے کا کیا فائدہ جہاں بند کمرے میں کھُسر پھُسر تو ہوتی ہو مگر عوام میں صرف تالیاں بجائی جاتی ہوں۔ اس کے بعد فرانس کے صدرایمانوئیل  میکرون  کو بلانے کا خیال آیا پیرس میں  ہندوستانی سفیر جاوید اشرف نے ان کو راضی کرلیا۔ اس  سے پہلے کہ پیرس سے دولہے میاں ےشریف لاتے بھی حکومت ِ فرانس نے ایک جہاز بھر کر غیر قانونی ہندوستانی مسافروں   کی بارات بھیج دی ۔  اس طرح گویا  شاہ رخ خان کی نئی فلم ’ڈنکی‘ زندہ ہوگئی یعنی جو بات پردۂ سیمیں پر ایک کہانی کے طور پر دکھائی گئی ہے وہ حقیقت کا بھیس  بدل  کر  دنیا کے سامنے آگئی۔ یہ ایک تلخ  حقیقت ہے جس کو لوگ  دیکھنا نہیں چاہتے  یہی وجہ ہے راج کمار ہیرانی جیسے مشہور ہدایتکار کی  ’ ڈنکی‘ پٹھان ، جوان اور سالار سب سے پیچھے رہ گئی ۔ عصرِ حاضر کا ایک  المیہ یہ بھی  ہے کہ یہاں لوگ حقائق سے نظریں چرا کر سراب کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔

وطنِ عزیز میں ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ  مودی جی کی قیادت میں ملک سنہری دور(سورن کال ) میں داخل  ہوگیا اور بہت جلد  امرت کال (ابدی عروج کا دور)  شروع ہو جائے گا اور دوسری جانب لوگ یہاں سے  جان جوکھم میں ڈال  کر فرار ہو رہے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا  کہ اس خوشحالی کے دور سے استفادے کی خاطر  دنیا بھر کے لوگ یہاں آتے  یا کم ازکم غیر ممالک  میں پھیلے ہوئے ہندوستانی ہی  لوٹ کر اپنے وطن  کا رخ کرتے  یعنی بقول وزیر اعظم ’برین ڈرین ‘  (brain drain)کے بجائے ’برین گین‘(brain gain)کا معاملہ ہوتا لیکن یہ خواب دیکھنا جس قدر آسان ہے اسے شرمندۂ تعبیر کرنا اتنا ہی مشکل ہے اس لیے اب ( brain pain)   ہورہا ہے یعنی  الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں تو  للت مودی، نیرو مودی ، میہول چوکسی اور وجئے مالیا کے ملک کو لوٹ کر بھاگنے کے چرچے ہوتے ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی ایک بہت بڑی تعداد یہاں سے نکل جانے کے فراق میں ہے حالانکہ ایسے لٹیروں کو روکنے کے لیے پچھلے ۹؍ برسوں میں مودی سرکار نے 13؍ لاکھ کروڈ روپیوں کا بینک قرض معاف کردیا مگر پھر بھی  نقل مکانی کا یہ  سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ان بھاگنے والوں پر  انشاء اللہ خان انشاء  کا یہ شعر ایک منفرد تناظر  میں منطبق ہوتا ہے؎

کمر باندھے ہوئے یاں سب یار بیٹھے ہیں                  بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

ابھی حال میں  دبئی سے نکارگوا جانے والے ایک طیارہ کو فرانس کے وٹری ہوائی اڈے پر انسانی اسمگلنگ کے شبہ میں روک لیا گیا۔  اس ہوائی جہاز  میں 303؍ ہندوستانی سوار تھے ۔ ان کے  تعلق سے اندیشہ تھا کہ  وہ سینٹرل نکارگوا پہنچنے کے بعد غیر قانونی طور پر امریکہ یا کنیڈا میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے ۔   ان  مسافروں کا تعلق زیادہ تر پنجاب اورمودی و شاہ کے آدرش  گجرات سے تھا ۔ فرانسیسی حکام نے بتایا کہ  طیارے میں 13؍بے ضرر  بچے بھی ہیں ۔  رومانیہ کی فضائی کمپنی’لیجنڈ ایئر لائنس‘ کے یہ مسافر  دبئی میں زیر ملازمت تھے اورغیر قانونی طور پر امریکہ یا کنیڈا میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے  تھے۔   ہندوستانی قونصل خانہ نے لیپا پوتی  کے لیے کہا کہ وہ سیاحت کے مقاصد کیلئے سفر کر رہے تھے ۔سوال یہ ہے کہ  سیاحوں کی نہ تو اس طرح درمیان جانچ پڑتال ہوتی ہے اور نہ انہیں آگے جانے سے روکا جاتا ہے۔ آج کل جھوٹ بھی ایسا بولتے ہیں کہ فوراً پکڑا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ میکسیکو کے راستے امریکہ میں داخلے پر پابندیوں کے بعد امریکہ میں داخلے کے خواہشمند افراد کی خاطر  نکاراگوا  نیا غیر قانونی راستہ بن گیا ہے۔ حکومت ہند کو ان مسافروں کی  قید سے بچانے اور  واپس  لانےمیں  جزوی کامیابی ملی۔

فرانس میں ہندوستانی سفیر اشرف جاوید چار دن  کی محنت کے بعداس  طیارے کے  276 مسافروں کو ہندوستان  روانہ کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر ان میں سے  دو نابالغوں سمیت 25 ؍افراد نے حکومتِ فرانس سیاسی پناہ کی درخواست دے دی یعنی 27 کے علاوہ سارے بدھو لوٹ کے اپنے گھر آگئے لیکن اس طرح ہندوستانی  شہریوں کا  پکڑا جانا باعث شرم  تھا اس لیے گودی میڈیا نے اس کی جانب سے آنکھیں موند لیں۔ ان میں سے دو افراد کو  حراست میں لینے کے بعد رہا کرکے معاون گواہ بنالیا  گیا ہے ۔ ممبئی  پہنچنے کے بعد سی آئی ایس  ایف کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کے بعد انہیں  چھوڑتودیا مگر کسی نے نامہ نگاروں  سے گفتگو نہیں کی ۔  امریکہ  میں  کسٹمز اینڈ بارڈر پٹرول کے کے مطابق امسال (2023) میں 96,917 ہندوستانیوں نے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کی، ان میں 30,010 کینیڈا کی سرحد پر پکڑے گئے جبکہ41,770 میکسیکو کی سرحد پر گرفتار ہوئے۔

 امریکی رکن پارلیمان لِنک فورڈ کے مطابق یہ لوگ  اپنے ہی ملک میں خوف محسوس  کرتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل نے لکھا کہ سیاسی اور مذہبی تعذیب اور مواقع کی کمی ان  کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ 2012 سے 2022 درمیان میکسیکو سے داخل ہونے والوں کی  تعداد میں سو گنا اضافہ ہواکیونکہ پہلے یہ تعداد642 تھی۔ یہ بیچارے کس طرح اپنی جان جوکھم میں ڈالتے ہیں اس کا انداز پچھلے سال جنوری میں امریکہ سے 30 میل دور چار لوگوں کی موت کے واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ گجراتی خاندان برفیلے طوفان کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا تھا  اسی طرح جون  میں 6 لوگوں کو ڈوبتی کشتی سے بچا کر گرفتار کرلیا گیا۔ یہ تو غیر قانونی طریقوں سے امریکہ و کینیڈا جانے والوں کا حال ہے مگر امسال 10؍فروری (2023)  کو ایوانِ پارلیمان میں مرکزی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے بتایا کہ 2011 کے بعد 16 لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں نے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے۔ اس میں تنہا 2022 میں 2 لاکھ 25 ہزار 620 افراد ہندوستانی شہریت سے برضا و رغبت ہندوستانی شہریت سے  دستبردار ہوگئے یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 618 ہندوستانیوں نے ایسا کیا۔ ایسے لوگوں نے البانیہ، امریکہ، برطانیہ، ویٹکن اور زمبابوے سمیت 135 ممالک میں سے کسی ایک کی شہریت حاصل کی۔

وزیر خارجہ جئے شنکر نے 2014 سے پہلے اور بعد کے جواعداد و شمار بھی پیش کیے تھےان  سے پتہ چلا  کہ 2021 میں ہندوستانی شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد  گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے این سی پی کے ترجمان کریسٹو نے کہا  تھا کہ اب حکومت کو 2014 سے پہلے اور بعد کے خام تیل کی قیمتوں کے بجائے بے روزگاری، مہنگائی، جی ڈی پی اور ایندھن کی قیمت کا ڈاٹا بھی سامنے لائے ۔ وزارت داخلہ کے مطابق سنہ 2021 میں جن  163,370 افراد نے شہریت چھوڑی ان میں سے 78,284 ؍افراد نے امریکی شہریت کے لیے شہریت ترک کی مگر 23,533 لوگوں نے آسٹریلیا کی شہریت لے لی  جبکہ 21,597 لوگوں نے کینیڈا کی شہریت کو ترجیح دی ۔حد تو یہ ہے کہ چین میں رہنے والے 300 ہندوستانیوں  نے وہاں کی شہریت اختیار کرلی  اور  41 لوگوں نے پاکستان کی شہریت لے لی۔مودی جی کے اقتدار پر فائز ہونے کے بعد  2015 اور 2020 کے درمیان آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی۔اسی لیے این سی پی ترجمان  نے کہا تھا کہ  بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے دعویٰ  کہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ہمارا ملک آگے بڑھا اور خوشحال ہوا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دعویٰ واقعی میں حقیقت پر مبنی ہوتا  تو دنیا بھر میں بسے ہندوستانیوں کو بڑی تعداد میں اپنے وطن واپس آنا چاہیےتھا۔

ایک طرف تو مودی سرکار سی اے اے کا قانون بناکر دنیا بھر کے ہندووں کو اپنے یہاں  پناہ دے کر شہریت دینے کا وعدہ کررہی ہے اور دوسری جانب اپنے ہی ملک سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی طور پر راہِ فرار اختیار کررہے ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً دس سالوں کے اقتدار میں مودی جی نے ملک کی کیا حالت کردی ہے۔ یہ تو خیر جانے والوں کا معاملہ ہے لیکن اس موقع پر ملک میں آنے والوں کی حالتِ زار کا بھی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ اس بابت  سی اے اے کے سب سے بڑے وکیل    امیت شاہ کو یہ جان کر دکھ ہوگا کہ راجستھان میں رہنے والے تقریباً 800 پاکستانی ہندو 2021 میں واپس چلے گئے ۔کسی ہندو راشٹر سے مایوس ہوکر ہندووں کا مسلم پاکستان میں چلے جانا کس قدر حیرت کی بات ہے؟  وزارت داخلہ کے مطابق  اس کے   آن لائن ماڈیول پر2021 تک شہریت کے لیے 10,365 درخواستیں شہریت کے لیے زیر التواتھیں مگر ان پر کوئی فیصلہ نہیں ہوابس تقریریں ہوتی رہیں۔ ملک کے پرچار منتری اور ان کے دائیں ہاتھ  کا مسئلہ یہ ہے انہیں  انتخابی مہم سے فرصت ملے تو وہ کوئی کام کریں  اور جب تک ملک کا سربراہ اپنے فرض سے غافل رہے گا ’ڈنکی‘ راستے سے لوگ ملک چھوڑ کر بھاگتے رہیں گے۔   

Comments are closed.