نیا سال اور ہماری ذمہ داریاں

 

از قلم: مفتی محمد ثاقب قاسمی

(مہتمم جامعہ اسلامیہ عزیزیہ مالیر کوٹلہ، پنجاب)

موبائل نمبر: 9557440552

 

کسی بھی زندہ قوم کے لیے سال و تاریخ کا اہتمام نہایت ہی ضروری امر ہے، اسی لیے زمانۂ قدیم سے اکثر اقوام کے پاس اپنی اپنی تاریخ تھی جس سے وہ اپنے سارے کام انجام دیا کرتے تھے اور یہ لوگ بعض مشہور واقعات سے تاریخ مقرر کیا کرتے تھے اور بعض لوگ بادشاہوں کی بادشاہت کے عروج وزوال سے تاریخ متعین کرتے تھے، یہود نے بیت المقدس کی ویرانی کے واقعے سے تاریخ مقرر کی اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰؑ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد سے تاریخ بنائی، اسی طرح عرب کے لوگوں نے واقعۂ فیل سے تاریخ مقرر کی، جب ابرہہ شاہِ یمن نے کعبۃ اللہ کو ڈھانے کے لیے کوہ پیکر ہاتھیوں کے ذریعے کوشش کی تھی، مگر اللہ کی قدرت کہ اس کی بے ایمانی اور کعبے کی (شان میں) گستاخی کے نتیجے میں وہ خود ابابیل نامی پرندوں کے ذریعے ہلاک کردیا گیا، عربوں نے اسی واقعے سے تاریخ مقرر کرلی۔

 

سال 2023 عیسوی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ بارہ مہینے، باون ہفتے، تین سو پینسٹھ دن، آٹھ ہزار سات سو ساٹھ گھنٹے، پانچ لاکھ پچیس ہزار چھ سو منٹ اور اکتیس کروڑ ترپن لاکھ چھ ہزار سیکنڈ گزار کر رخصت ہو گیا ہے، ہمارے لاکھ چاہنے سے بھی ہم اسے رخصت ہونے سے نہ روک سکے اور نہ ہی کسی لمحے کا اضافہ کر سکے کیونکہ ہمیں نہ تو قانون قدرت میں دخل اندازی کا اختیار ہے نہ طاقت، ہر انسان طوعاً و کرھاً اپنے خالق کائنات کے قانون قدرت کا تابعدار ہے، وقت دنیا میں کسی بھی شخص کے لیے نہیں ٹھہرا، یہ وقت اسی طرح گزرتا چلا جائے گا۔

 

نیا سال 2024 شروع ہوچکا ہے، دنیا کے مختلف ممالک میں نئے سال کا مختلف طریقوں سے استقبال کیا جاتا ہے، ہر طرف دکانوں میں نیو ایئر کارڈز فروخت ہورہے ہیں، پرانے کیلنڈرز دیواروں سے اتارے جارہے ہیں اور نئے کیلنڈرز دیواروں پر لگائے جارہے ہیں، سن عیسوی کے ہندسے بدل چکے ہیں، نئے سال کی آمد کے موقع پر ہر کوئی جشن کا ماحول بنا رہا ہے، ساری دنیا میں لوگ اس موقع پر اپنے اپنے انداز سے جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، نئے سال کے جشن میں دنیا بھر میں رنگ برنگی لائٹوں اورقمقموں سے اہم عمارتوں کو سجایا جاتا ہے اور 31/دسمبر کی رات میں 12 بجنے کا انتظار کیا جاتا ہے، 12 بجتے ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ہے، کیک کاٹا جاتا ہے، ہر طرف ہیپی نیو ایئر کی صدائیں گونجتی ہیں، آتش بازیاں کی جاتی ہیں اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتا ہے، جس میں شراب وکباب اور ڈانس کا بھرپور انتظام رہتا ہے، اس موقع پر نوجوان کچھ زیادہ ہی پرجوش نظر آتے ہیں، کہیں فون وغیرہ کے ذریعہ مبارک بادیاں دی جاتی ہیں تو کہیں ٹیکسٹ میسیج کے ذریعہ مبارک بادیوں کا سلسلہ چلتا ہے، کہیں نئے سال کے موقع پر پر تکلف جشن منایا جاتا ہے۔

 

دراصل اس نیو ایئر نائٹ کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز میں نیوی کے نوجوان کی طرف سے کیا گیا، برطانیہ کی رائل نیوی کے نوجوانوں کا زیادہ حصہ بحری جہازوں میں گزرتا تھا، یہ لوگ سمندر کے تھکا دینے والے سفر سے بیزار ہوجاتے تھے تو جہازوں کے اندر ہی اپنی دلچسپی کا سامان تیار کرلیتے تھے، یہ لوگ تقریبات کے مواقع تلاش کرتے رہتے تھے، سالگرہ، ویک اینڈ اور کرسمس کا اہتمام کرتے، انہیں تقریبات کے دوران کسی نے یہ کہا: کیوں نہ ہم سب مل کر نئے سال کو خوش آمدید کہیں، انہیں یہ تجویز اچھی لگی، لہٰذا دسمبر کی 31 تاریخ کو سارا عملہ اکٹھا ہوا اور جہاز کا ہال روم سجا کر میوزک کا انتظام کرکے ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دی، برٹش رائل نیوی کے جہاز سے شروع ہونے والا یہ تہوار دوسرے جہازوں پر پہنچا، اور اس طرح یہ دنیا میں منایا جانے والا تہوار بن گیا، اگرچہ یہ عیسائیوں کی ایک رسم ہے، لیکن افسوس کہ آج غیروں کی دیکھا دیکھی میں نئے سال کی خوشی کے اظہار اور جشن کے اہتمام میں بہت سارے مسلمان بھی پیش پیش رہتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیں اپنی فکر اور ذمہ داری کو اور بڑھاناچاہیے تھا، ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور وقت کو منظم کرکے اچھے اختتام کی کوشش میں لگ جانا چاہیے تھا اور اپنا محاسبہ کرکے کمزوریوں کو دور کرنے اور اچھائیوں کو انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، لیکن افسوس صد افسوس اس کے برعکس ہوتا یہ ہے کہ عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پر غیروں کی طرح بہت سارے مسلمان بالخصوص نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دھوم دھام سے خوشیاں مناتے ہیں، اور اظہار مسرت کے اس بے محل موقع پر وہ جائز اور مناسب حدود سے نکل کر بہت سے ایسے کام بھی کرتے ہیں، جنہیں ایک عقلمند انسان اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا، اور نہ ہی انسانی سماج کے لیے وہ کام کسی طرح مفید ہیں، بلکہ نگاہ بصیرت سے دیکھا جائے تو حد درجہ مضر ہیں، ان حرام کاموں پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے، اور وقت کا ضیاع بھی کرتے ہیں، لیکن اگر ہم شریعت مطہرہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا اسلام میں نئے سال کی ابتداء پر یوں مرد و عورت کو آزاد ہوجانے کی کوئی اجازت نہیں ہے، اور المیہ یہ ہے کہ آج ہم پر مغربی ثقافت کا ایسا رنگ چھایا ہے کہ ہم بھول ہی گئے کہ ہم نمازوں کو چھوڑ کر، سنت رسول چھوڑ کر، دین اسلام کی تعلیمات کو چھوڑ کر غیروں کے طریقے اختیار کرنے لگے جبکہ آج سے چودہ سو سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ” مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ“۔ (ابودوٴد ۲/۲۰۳) ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھیں میں سے ہے، لہذا مسلمانوں کو اس برے عمل سے بچنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ دوسری قوموں کی مشابہت سے بچا جاسکے۔

 

عام طور پر لوگ نئے سال کے آغاز کو ایک جشن کی صورت میں مناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت افراد و اشخاص کے لئے بھی اداروں اور تنظیموں کے لئے بھی اور جماعتوں اور قوموں کے لئے بھی اپنے احتساب کا وقت ہے، کہ انھوں نے اس عرصہ میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے اور وقت کی صورت میں جو عظیم نعمت اللہ نے انسان کو عطا فرمائی ہے، اس کا کس طور پر استعمال کیا ہے؟ جو قوم خود اپنا محاسبہ نہیں کرتی اور جو جماعت اپنا گریباں آپ تھامنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، دوسرے ان کے گریبان تھامتے ہیں اور خیر و شر کا حساب کرکے اس کا بدلہ چکاتے ہیں، لمحوں کی ناقدری سے بعض اوقات صدیوں کا نقصان ہوتا ہے اور قومیں زوال وانحطاط کے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بہت سی نعمتیں اس کا ئنات میں دی ہیں، ان میں ایک بہت بڑی نعمت وقت ہے، انسان سمجھتا ہے کہ اس کی عمر بڑھ رہی ہے، اس کے اوقات بڑھ رہے ہیں، لیکن در حقیقت عمر گھٹتی جاتی ہے اور ہر لمحہ وقت کی متاع گراں مایہ اس کے ہاتھوں سے نکلتی جاتی ہے۔

 

در حقیقت نئے سال میں نیا پن کچھ بھی نہیں بلکہ سب کچھ ویسا ہی ہوتا ہے، دن، رات، زمین، آسمان، سورج اور چاند سب کچھ وہی ہے اور وقت کی کڑوی یادیں بھی اسی طرح ہمارے ساتھ رہتی ہیں، ہر آنے والا سال امیدیں اور توقعات لے کر آتا ہے اور انسان کے عزم کو پھر سے جوان کرتا ہے کہ جو کام پچھلے سال ادھورے رہ گئے انہیں اس سال مکمل کر لینا ہے، افراد کی طرح اقوام کی زندگی میں بھی نیا سال ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہ قوموں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آنے والے سال میں اسکی بھرپائی کرنے کی کوشش کریں، ایک سال کا مکمل ہونا اور دوسرے سال کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی میں سے ایک سال کم ہوگیا ہے اور ہم اپنی زندگی کے اختتام کے مزید قریب ہوگئے ہیں، لہذا ہماری فکر اور بڑھ جانی چاہیئے اور ہمیں بہت ہی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے وقت کا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ہمارے اندر کیا کمی ہے کیا کمزوری ہے کونسی بری عادت وخصلت ہم میں پائی جاتی ہے اسکو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، نیز اچھی عادتیں، عمدہ اخلاق وکردار کا وصف اپنے اندر پیدا کرنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیئے، آج ہم اگر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاتے ہیں اور یکم جنوری 2023 سے لیکر آج تک ہم نے کیا کیا کام انجام دئیے ہیں اسکے بارے میں سوچنے لگے تو شاید اپنے آپ پہ ہنسی آنے لگے گی، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم سوچنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اپنا محاسبہ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے لیکن دوسروں کے بارے سوچتے بھی ہے اور دوسروں کا احتساب کرنے کیلئے ہماوقت تیار بھی رہتے ہیں یہ ہماری سب سے بڑی بیماری اور کمزوری ہے چونکہ اپنے بارے میں فکرمند نہیں ہیں دوسروں کی فکر ہمیں کھائی جاتی ہے دوسروں کی خامیاں ہمیں نظر آتی ہیں اور اپنے گریباں پہ ہم جھانک کے نہیں دیکھتے ہیں کہ ہماری اصلیت کیا ہے؟

آئیے سال نو کے شروع ہونے سے پہلے ہم اپنا احتساب کرنے کا عہد کرتے ہیں دیکھتے ہیں کہ ہمارا گزشتہ سال کیسے گزرا؟ اگر اچھا گزرا ہے تو بہت اچھا اگر نہیں تو پھر سال نو کی مبارکبادیاں لینے اور دینے سے پہلے پورے سال کا پلان بناتے ہیں اگر زندگی رہی تو اللہ سے توبہ کرکے آنے والے سال کو خوش آمدید کہتے ہوئے یہ عہد کرتے ہیں کہ آنے والا سال گزشتہ سال سے بہتر انداذ میں گزاریں گے اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ سال نو ہمارا بہتر سے بہتر انداز میں گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے اور اپنی بندگی کا موقع فراہم کرے اور ایک نئ امنگ اور امید کے ساتھ نئے سال کا آغاز کرنے کی رب کائنات ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

Comments are closed.