مسلم ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے، حافظ اقبال چونا والا نے اسدالدین اویسی سے کی اپیل
ممبئی (نمائندہ خصوصی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اور ممبرپارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی آج ممبئی جوگیشوری میں ایک بڑے پروگرام میں شرکت کے لئے پہونچے، اس موقع پر مجلس اتحاد المسلمین کی ممبئی یونٹ نے جوگیشوری، اندھیری اور وررسوا علاقے کے معززین و نمائندہ شخصیات کی ایک خصوصی نشست عبدالستار دیوان کی آفس میں رکھی گئی تھی، مجلس کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مغرب کی نماز مدنی مرکز مسجد جوگیشوری میں ادا کرنے کے بعد خصوصی نشست میں شرکت کی، اس نشست میں ممبئی کی معروف ملی و سماجی شخصیت حافظ اقبال چونا والا نے بیرسٹر اسدالدین اویسی کے سامنے ملک کے موجودہ حالات اور مہاراشٹر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے تعلق سے کئی اہم سوال کئے جس کا انہوں نے تشفی بخش جواب دیا،

حافظ اقبال چونا والا نے بیرسٹر اسدالدین اویسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں تقریباً 35 سے زائد ایسی سیٹیں ہیں جہاں مسلمان صرف مسلمانوں کے ووٹ سے کامیاب ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے لئے ہمیں انتہائی عقلمندی اور حکمت عملی سے کام لینا ہوگا، چوناوالا نے اسدالدین اویسی سے خصوصی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے نمائندوں کی تعداد کو بڑھانے کے لئے مسلم ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے، حافظ اقبال چونا والا نے کہا کہ ٹکٹ کی تقسیم میں حتی الامکان اس بات کی کوشش ہونی چاہیے کہ کسی مسلمان کے مقابلے میں دوسرے مسلمان کو ٹکٹ نہ دیا جائے اور مسلمان میں بھی ایسے امیدوار کو ہی ٹکٹ دیا جائے جو جیتنے کی پوزیشن میں ہو، بوگس امیدوار کھڑا کرکے سیٹ کو ضائع نہ کیا جائے،

اس موقع پر اسدالدین اویسی نے یقین دلایا کہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ووٹ تقسیم نہ ہونے پائے اور زیادہ سے زیادہ مسلمان اسمبلی میں پہونچیں،مسٹر اویسی نے کہا کہ میں نے مسلم ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے مہاوکاس اگھاڑی بالخصوص کانگریس پارٹی کو باضابطہ خط لکھا ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کو بھی مہاوکاس کا حصہ بنایا جائے اور سیٹوں کی تقسیم میں ہمیں بھی شامل کیا جائے لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے، ہم جواب کا انتظار کررہے ہیں. وقف ترمیمی بل 2024 کے تعلق سے بھی اسدالدین اویسی نے کھل کر گفتگو کی اور یقین دہانی کرائی کہ ہم کسی بھی حال میں وقف ترمیمی بل 2024 کو پاس نہیں ہونے دیں گے.
Comments are closed.