ارتداد:اسباب اور سد باب
🖋️ شاغل نوری
امت مرحومہ اس وقت متعدد مسائل سے دو چار ہے ،آئے دن اخباروں کے ذریعہ "بھگوا لو ٹریپ "کے ذریعہ کسی نہ کسی مسلمان بہن کے اسلام سے برگشتگی اور غیروں کے مذہب اختیار کرنے کی خبریں مل رہی ہیں ۔
آج کل سوشل میڈیا اور اخباروں پر بنگال کے ضلع "بردوان "کی ایک سلطانہ نامی لڑکی کی خبر سرخیوں پر ہے ،جس کو اس کے ہوس کے پجاری عاشق نے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
خبروں کے مطابق سلطانہ نے اپنے عاشق سے شادی کرنے کے لیے آج سے آٹھ ماہ قبل اپنے اس سچے دین کو چھوڑ کر اس کے دین کو اپنا لیا تھا،جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور اس کی ہوس پوری ہوتی گئی ،اس پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹنے شروع ہو گئے ،آئے دن مار پیٹ کی وارادت پیش آنے لگی ،سلطانہ کو یہ بات سمجھ میں آنی شروع ہوئی کہ میں نے جس سے محبت کی ہے اسے تو صرف میرے جسم کی ضرورت ہے ،لیکن جب تک بات سمجھ میں آتی معاملہ دور تلک جاچکا تھا ،آخر کب تلک برداشت کرتی ،اپنے گھر فون کرکے کہتی ہے کہ مجھے یہاں سے لے جاؤ ،باپ باپ ہوتا ہے ،اپنی زندگی میں اپنی بیٹی پر ظلم کو کیسے برداشت کر سکتا تھا ،چاہے اس نے دین بدل لیا تھا۔بیٹی کی اس آواز نے باپ اور بھائیوں کی نیندیں حرام کردیں ،اور اپنی بیٹی اور بہن کو بچانے اور اس ظالم کے ظلم کی چنگل سے چھڑانے کے لیے جب اس کے گھر پہنچتے ہیں تو ،ان پر بھی وہ بھوکے کتے ٹوٹ پڑتے ہیں اور بے رحمی سے مار بھگاتے ہیں ،ناکامی کی شکل میں نتیجہ برآمد ہوا ،وہ گھر سے گئے ہیں کہ دوسرے ہی دن اس لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور ایک رسی میں باندھ کر لٹکا دیا جاتا ہے کہ اس نے خود کشی کی ہے ۔باپ بھائی کے دلوں کی دھڑکن اور اس نازک سی پری کے ساتھ حادثے کی خبر جب گھر پہنچتی ہے تو پاؤں تلے سے زمین کھسک جاتی ہے ،لیکن کر کیا سکتے تھے ،حسرت و افسوس کے سواء کچھ نہیں تھا ،یہ تھی عشق سے موت تک کے انجام کا ایک خونی داستان۔
دوسری طرف کانپور میں ایک ہفتہ پہلے پیش آنے والا دردناک واقعہ بھی سرخیوں میں ہے ،کہ جس میں پانچ لڑکیاں جسم فروشی کرتی پگڑی گئیں ،حیرت کی انتہاء تو اس وقت ہو گئی جب لوگوں کے کانوں میں یہ بات گونجی کی وہ سب کی سب گھر سے مدرسہ کے نام سے نکلتی تھیں اور ان میں سے چار تو غیر مسلم مردوں کے ساتھ ہوٹل (Oyo)میں وقت گزارتی تھیں،اور لہو کے آنسو تب ٹپک پڑے جب یہ پتہ چلا کہ ان میں سے ایک لڑکی باضابطہ عالمہ کورس کرتی تھی ۔
نہ جانے کب سے وہ اس گھناؤنے اور گھٹیا حرکت میں ملوث تھیں ،آخر گھر کے افردا کہاں تھے جو ان کی دیکھ بھال نہیں کرتے ؟کیا ان کی غیرت مر گئی تھی ؟یا انھیں ان سب پر فرشتوں سا بھروسہ ہونے لگا تھا کہ ان سے کوئی گناہ سرزد ہو ہی نہیں سکتا؟آخر جب وہ شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھیں تو ان کے نکاح کا انتظام اور بند و بست کیوں نہ کیا گیا ؟والدین اور اہل خانہ کے ارمانوں کو ان بد قماشوں نے چکنا چور کردیا ،کیا سوچا تھا اور کیا کردیا ؟
ارتداد کا سد باب
ظاہر ہے معاشرے میں پھیلی ہوئی اس بیماری کو روکنا پڑے گا ورنہ یہ مرض فضاء کو مزید مسموم کرےگا ۔
آخر اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں ؟ان میں سے چند ذکر کی جاتی ہیں۔
(1)آج کے اس ماڈرن اور پر فتن ماحول میں اس ارتداد کی سب سے بڑی وجہ موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال ہے،کہ جب سوشل میڈیا کا استعمال ہوگا ،جو ہر طرح کی عریانیت اور فحاشی کا اڈہ بنا ہوا ،واٹس ایپ ،فیسبک اور انسٹا گرام جیسے پلیٹ فارمس موجود ہوں ،جہاں غیروں سے چیٹنگ کرنے کے مواقع بھی میسر ہوں ،ایسے حالات میں کسی ایک سے خیر کی توقع بےجا ہوگی۔
(2)موجودہ دور میں ارتداد اور برائیوں کے پھیلنے کا ایک دوسرا سبب "اختلاط مرد و زن”یا کہہ لیجیے "مخلوط تعلیم”ہے ،جہاں ہر قسم کے لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں ،بات کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں ،ظاہر ہے ایسی صورت حال میں بچنا ایک ناممکن سا امر ہوگا ،جب کہ یہ بات مسلم ہے کہ ہر مرد وعورت کے دل میں ایک دوسرے کی کشش رہتی ہے۔
ارتداد جیسی پھیلی ہوئی لہر سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی دیکھ بھال کریں ،سوشل میڈیا کے استعمال سے انھیں بچائیں اور اگر اسکول اور کالج میں ان کی تعلیم کا انتظام ہے تو ایسا سسٹم بنائیں کہ انھیں خود پہنچائیں اور لائیں ،تاخیر ہوجانے سے ان کی پوچھ گچھ کریں ،اگر یہ صورت اپنائی گئی تو ان شاءاللہ ضرور بہتری آئے گی۔
(3)اس کا تیسرا سبب فقر بھی ہوسکتا ہے ؛کہ جب لڑکیوں کو گھر کی طرف سے اس کی ضرورت کے مطابق پیسے میسر نہیں ہوں گے ، جب اسکول یا کالج کی دنیا میں قدم رکھیں گی ،جس کی فضاء عموما رنگین ہوتی ہے ،تو ان کے دل میں بھی عمدہ لباس پہننے ،عمدہ کھانا کھانے کے لیے ریسٹورینٹ جانے ،اعلی کوالٹی کے موبائل فون استعمال کرنے اور پرفیومس وغیرہ کا شوق و جذبہ ابھرے گا ، تو ایسے نازک وقت میں یہ کھلے غنڈے انھیں تاڑ کر ،اور پیسے کی لالچ دےکر اپنے جھال میں پھانس لیں گے ،پھر یہ ان کی اس صدا پر لبیک کہتی ہوئیں اس کے شانہ بشانہ چلیں گی اور ایک ایسا وقت آئےگا ،جس میں اپنے دین و ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی،اور جب ان غنڈوں کی ہوس پوری ہو جائے گی تو انھیں بھی موت کے گھاٹ اتار کر ایک قصہ پارینہ بنادیا جائے گا۔
(4)آج کی اس مادہ پرست،ترقی یافتہ اور ماڈرن دنیا میں ارتداد کا ایک سبب دین سے دوری اور بقدر ضرورت علم سے ناآشنائی بھی ہے ،کہ اپنی بچیوں کو صرف اور صرف عصری تعلیم دلائی جائے،ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں جب ان کو کسی چیز کا کچھ پتہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کے اندر توحید و ایمان ہوگا تو غیروں کے عمل سے متأثر ہوگی ،رفتہ رفتہ کفر و شرک ذہن و دماغ میں پیوست ہوتے جائیں گے ،پھر یہی چیزیں انھیں اچھی لگنے لگیں گی، جب غیروں کی یلغار ہوگی تو اس کا دفاع کرنے کے بجائے خود انھیں کے عمل پر کاربند ہوں گی ،پھر نتیجہ ارتداد کی شکل میں ظاہر ہوگا،اس کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ جہاں اپنی بچیوں اور بچوں کے لیے عصری تعلیم پر آپ کی توجہ ہے وہیں ان کے لیے دینی تعلیم کا راستہ بھی نکالیں ،کیوں کہ ارتداد کے سد باب کے لیے ابتدائی تعلیم بھی دینی ہوگی،اگر آپ نے ان کی دینی تعلیم کا انتظام نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں کہ ان کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے بھی ترسیں گے ۔
باری تعالیٰ اس مسموم فضاء سے ہمارے دین و ایمان اور نئی نسلوں کی حفاظت فرمائے ،اور زندگی کی آخری سانس تک اپنے دین متین پر باقی رکھے،آمین یا رب العالمین!
رابطہ: 7645989058
Comments are closed.