کمال مولا مسجد بمقابلہ بھوج شالا؟ — تاریخی حقائق، نوآبادیاتی بیانیہ اور آثارِ قدیمہ کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ

 

از: آفتاب اظہر صدیقی

کشن گنج، بہار

 

وسطی ہند کی ریاست مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں واقع کمال مولا مسجد حالیہ دنوں میں ایک بار پھر قانونی، سیاسی اور مذہبی تنازع کا مرکز بن چکی ہے۔ عدالتوں میں جاری مقدمات اور مختلف مذہبی گروہوں کے دعووں نے اس تاریخی عمارت کو صرف ایک عبادت گاہ کے مسئلے سے نکال کر ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور نوآبادیاتی ورثے کے بڑے مباحث سے جوڑ دیا ہے۔ ایک طرف اسے راجہ بھوج کے دور سے منسوب ’’بھوج شالا‘‘ اور دیوی سرسوتی کے مندر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب متعدد مؤرخین، آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور تاریخی دستاویزات اس مقام کو ایک قدیم مسجد اور صوفی مرکز قرار دیتے ہیں۔

 

معروف مؤرخ ڈاکٹر روچیکا شرما نے اس پورے تنازع کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے برطانوی دور کے سروے، فارسی کتبات، آثارِ قدیمہ کی رپورٹس اور نوآبادیاتی ریکارڈز کی روشنی میں جو تحقیق پیش کی ہے، وہ موجودہ بیانیے پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس مقام کی اصل تاریخی شناخت ’’کمال مولا مسجد‘‘ یا ’’روضۂ قطب کمال‘‘ رہی ہے، جب کہ ’’بھوج شالا‘‘ کی اصطلاح دراصل نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے۔

 

ابتدائی برطانوی ریکارڈ کیا کہتے ہیں؟

کسی بھی تاریخی تنازع کی حقیقت جاننے کے لیے سب سے اہم چیز قدیم ترین دستاویزی شواہد ہوتے ہیں۔ دھار کے اس متنازعہ مقام کے سلسلے میں 19ویں صدی کے برطانوی سروے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

 

1822ء میں برطانوی افسر جان میلکم نے دھار کا تفصیلی سروے کیا۔ انہوں نے راجہ بھوج سے متعلق متعدد مقامی روایات اور حکایات کو اپنی تحریروں میں جگہ دی، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عمارت کو نہ کبھی بھوج شالا کہا اور نہ ہی اسے کسی مندر یا درسگاہ سے جوڑا۔ اس کے برعکس، انہوں نے اسے صاف لفظوں میں ایک ’’خستہ حال مسجد‘‘ قرار دیا، جس میں اسلامی طرز کا منبر بھی موجود تھا۔

اسی طرح 1844ء میں ولیم کنکیڈ نے اپنی رپورٹ میں اس مقام کو صوفی بزرگ حضرت کمال الدین مالویؒ کے روضے کے قریب واقع ایک ’’چھوٹی مسجد‘‘ کے طور پر درج کیا۔ ان ابتدائی برطانوی ریکارڈز میں کہیں بھی ’’بھوج شالا‘‘ یا ’’سرسوتی مندر‘‘ کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

 

تعمیراتی مواد کا دوبارہ استعمال — حقیقت یا الزام؟

برطانوی افسران نے یہ ضرور نوٹ کیا کہ مسجد کی دیواروں اور ستونوں میں بعض ایسے پتھر اور کتبے استعمال ہوئے ہیں جن پر سنسکرت عبارتیں کندہ ہیں۔ بعد کے برسوں میں اسی نکتے کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی۔

لیکن تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین اس استدلال کو کمزور قرار دیتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں قدیم عمارتوں کے ستون، پتھر اور تعمیراتی اجزاء نئی عمارتوں میں استعمال کرنا ایک عام روایت تھی، جسے علمی اصطلاح میں Spolia کہا جاتا ہے۔ دنیا کی بے شمار قدیم عمارتوں میں یہ طرزِ تعمیر ملتا ہے۔ اس لیے محض پرانے پتھروں یا سنسکرت کتبات کی موجودگی اس بات کا قطعی ثبوت نہیں بن سکتی کہ مسجد کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے اسی جگہ تعمیر کی گئی تھی۔

 

فارسی کتبات اور اسلامی شناخت

اس مقام کی اسلامی شناخت کے سب سے مضبوط شواہد فارسی کتبے اور تاریخی فرامین ہیں۔ ایپی گرافیہ انڈو مسلمیکا کے 1909-1910 کے ایڈیشن میں اس مقام سے ملنے والے فارسی کتبات کے مستند تراجم شائع کیے گئے۔

ان کتبات کے مطابق اس مقام کی اصل شناخت ’’روضۂ قطب کمال‘‘ تھی، جو حضرت کمال الدین مالویؒ سے منسوب ہے۔ وہ سلسلۂ چشتیہ کے معروف بزرگ اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے ممتاز خلفاء میں شمار کیے جاتے ہیں، جنہیں تقریباً 1293ء میں دھار بھیجا گیا تھا۔

اسی طرح ایک اور فارسی کتبہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ 1392ء میں دلاور خان غوری نے اس مسجد کی مرمت اور آرائش کروائی۔ یہ تمام شواہد واضح کرتے ہیں کہ کم از کم چودھویں صدی سے یہ مقام ایک فعال مسجد اور صوفی مرکز کے طور پر موجود تھا۔

 

فنِ تعمیر کیا بتاتا ہے؟

اگر اس عمارت کا خالص تعمیراتی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو اس کا پورا ڈھانچہ اسلامی طرزِ تعمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک ستونوں والی قدیم مسجد (Hypostyle Mosque) ہے، جس کے وسط میں کھلا صحن اور اطراف میں ستون دار برآمدے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ کہ مغربی سمت میں قبلہ رخ محرابیں اور پتھر کا منبر موجود ہے، جو صرف اسلامی عبادت گاہوں کی بنیادی علامات سمجھی جاتی ہیں۔ 19ویں صدی کے برطانوی ماہرین آثارِ قدیمہ نے بھی اسے مسجد ہی کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

’’بھوج شالا‘‘ کا تصور کہاں سے آیا؟

اگر 19ویں صدی تک اس مقام کو مسجد ہی سمجھا جاتا تھا تو پھر ’’بھوج شالا‘‘ کا نظریہ کیسے وجود میں آیا؟

ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق، اس کی بنیاد نوآبادیاتی دور میں رکھی گئی۔ 1893ء میں آسٹریا کے ماہرِ ہندکیات ایلوئس اینٹن فوہرر نے قیاس آرائی کی کہ مسجد میں نصب سنسکرت کتبے شاید کسی قدیم درسگاہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ بعد میں یہی فوہرر جعلی تحقیقی دعووں اور جھوٹی رپورٹس کے باعث بدنام ہوئے اور انہیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے استعفیٰ دینا پڑا۔

اس کے بعد 1902ء میں ارنسٹ بارنس نے پہلی مرتبہ اس مقام کو ’’راجہ بھوج کا مدرسہ‘‘ قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا یہ دعویٰ بھی محض مقامی مفروضوں پر مبنی تھا، کسی مستند تاریخی ثبوت پر نہیں۔

1903ء میں پہلی بار ایک سرکاری رپورٹ میں ’’بھوج شالا‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی، اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے اس مقام کی نئی تعبیر کو سرکاری اور عوامی سطح پر فروغ ملا۔

 

دیوی سرسوتی کے مجسمے کا معاملہ:

اس تنازع میں ایک اور اہم دلیل ایک مجسمہ ہے، جسے برطانوی دور میں دھار سے برآمد کرکے برٹش میوزیم منتقل کیا گیا اور بعد میں اسے ’’بھوج کی سرسوتی‘‘ کہا جانے لگا۔

لیکن مؤرخین کے مطابق اس مجسمے کی بنیاد پر کندہ عبارت کا علمی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ دراصل ہندو دیوی سرسوتی نہیں بلکہ جین مذہب کی دیوی ’’امبیکا‘‘ کا مجسمہ تھا۔ مزید یہ کہ اس بات کا کوئی ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہیں کہ یہ مجسمہ اسی مسجد کے احاطے سے برآمد ہوا تھا۔

 

موجودہ قانونی تنازع اور تاریخی سوالات:

کمال مولا مسجد صدیوں تک مسلمانوں کی ایک فعال عبادت گاہ رہی، جہاں بیسویں صدی کے اختتام تک نمازیں ادا کی جاتی رہیں۔ 2003ء میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تناؤ کے بعد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ایک مشترکہ انتظام نافذ کیا، جس کے تحت جمعہ کے دن مسلمانوں کو نماز اور منگل کے دن ہندوؤں کو پوجا کی اجازت دی گئی۔

تاہم حالیہ عدالتی فیصلوں نے اس تاریخی توازن کو ایک نئے رخ پر لا کھڑا کیا ہے۔ مسلم حلقوں کا موقف ہے کہ اس معاملے میں بھی تاریخ، کتباتی شواہد اور آثارِ قدیمہ کی اصل روح کے بجائے عقیدے اور نوآبادیاتی دور میں تشکیل پانے والے فرضی بیانیے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

 

کمال مولا مسجد کا معاملہ محض ایک عمارت کا تنازع نہیں، بلکہ یہ اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ تاریخ کو کس بنیاد پر پڑھا اور سمجھا جائے۔ کیا تاریخی فیصلے مستند دستاویزات، آثارِ قدیمہ اور قدیم ریکارڈز کی روشنی میں ہوں گے، یا پھر بعد کے سیاسی و مذہبی اور فرضی بیانیے تاریخ کی جگہ لے لیں گے؟

دستیاب تاریخی شواہد، فارسی کتبات، برطانوی سروے اور تعمیراتی تجزیے اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ اس مقام کی قدیم اور مستند شناخت ’’کمال مولا مسجد‘‘ ہی رہی ہے، جب کہ ’’بھوج شالا‘‘ کی اصطلاح بیسویں صدی کے آغاز میں نوآبادیاتی مفروضوں کے تحت رائج ہوئی۔

 

تاریخ صرف عقیدے یا جذبات کا نام نہیں، بلکہ تحقیق، دستاویزات اور غیر جانبدارانہ مطالعے کی متقاضی ہے۔ اور تاریخی دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کوئی بھوج شالا نہیں، بلکہ ایک قدیم مسجد ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ بابری مسجد کی طرح یہ مسجد بھی توحید کے مت والوں سے چھین کر شرک کے سوداگروں کو سونپ دی گئی اور ایک روشن دن کی طرح نظر آنے والی اس تاریخی مسجد کو مندر قرار دے دیا گیا۔

___

 

Comments are closed.