حج: فوائد و برکات

 

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

استاذِ حدیث و ادب اداره كهف الايمان ٹرسٹ، بورابنڈہ ، حیدراباد

 

حج: عبادات کا حسین امتزاج

حج ایک عظیم عبادت ہے، شریعت کے ارکانِ خمسہ میں سے ایک اہم رکن ہے، جو بدنی اور مالی دونوں عبادتوں کا حسین امتزاج ہے، جہاں ایمان دل کی دھڑکن، نماز روزہ بدن کی ریاضت اور زکوٰۃ مالی ایثار ہے، وہیں حج بدن، مال اور روح سے عبارت ایک ایسی بندگی ہے جو انسان کو مادی وجود سے بلند تر کر دیتی ہے۔ جس میں حاجی عالمِ وارفتگی میں ربِ کریم کا متلاشی بن کر اپنے گھر بار اور تعلقات سے رشتہ توڑ کر کفن کی شکل میں سفید سفید بنا سلی چادریں زیبِ تن کر کے اپنی خودی کو باری تعالیٰ کی رضا میں فنا کر دیتا ہے۔ لبوں پر لبیک لبیک کی صدائیں سجائے اس گھر کا دیوانہ وار قصد کرتا ہے جس کی نسبت ربِ ذوالجلال کی طرف کر کے بیت اللہ کہا گیا۔

سفرِ حج کے روحانی مشاہدات

کبھی منیٰ کے لق و دق میدان میں عارضی خیموں میں قیام کر کے اپنی عاجزی کمتری اور بندگی کا نوحہ پڑھتا ہے، تو کبھی عرفہ کا وسیع و عریض منظر محشر بنے اپنی خطاؤں پر شرمسار اور اپنے دامنِ گناہ کو دعا گو اور مصروفِ بندگی ہو کر دھوتا نظر آتا ہے۔ وہاں سے رختِ سفر باندھ کر مزدلفہ کا سفر کرتا ہے تو وہاں کی خاک اس کا بچھونا اور آسمان کی وسعتیں اس کا اوڑھنا بن جاتی ہیں؛ یہاں کی خاموشی میں اپنے محبوب سے راز و نیاز کرتا ہے اور اپنے رب سے عہد استوار کرتا ہے۔ وہاں سے نکل کر منیٰ کی طرف آتا ہے، شیطان کو کنکریاں مار کر اپنے نفس کے بت کو پاش پاش کرتا اور ابلیسی قوتوں اور طاقتوں سے اعلانِ براءت کرتا ہے۔ قربانی کے عمل کے ذریعے حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی وفاداری و تسلیم و رضا کی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ حلق و قصر کے ذریعے اپنی طاعت اور رب کے ساتھ اپنی وارفتگی اور فدویت کا اظہار کرتا ہے۔

طواف اور سعی کی حقیقت

پھر یہ رقصِ بسمل کا مجسم بن کر اخیرش بیتِ خدا کی طرف رواں دواں ہو جاتا، اس کے ارد گرد پروانہ وار چکر لگانا شروع کر دیتا ہے اور اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ اس کی زندگی کا محور اور مرکز صرف باری تعالیٰ شانہ کی ذاتِ عالی ہے۔ صفا و مروہ کی چٹانوں کے درمیان تگ و دو اور بھاگ دوڑ کے ذریعے دراصل اماں ہاجرہ کی اس والہانہ تڑپ کی نقالی کرتا ہے جو بارگاہِ ایزدی میں ایسی مقبول ہوئی کہ اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا۔ جب یہ عاشقِ زار عملِ پیہم، سعیِ مسلسل اور یقینِ محکم کا سراپا مجسمہ تھکن سے دوچار اور پیاس سے نڈھال ہو جاتا ہے تو قدرت اسے آبِ زمزم کے جنتی پانی سے اس کی تشنہ کامی اور سیرابی کا سامان کرتی ہے۔ یہ پانی محض ایک پانی نہیں، یہ وہ آبِ حیات ہے جس سے صرف جسمانی پیاس کو بجھایا نہیں جاتا؛ بلکہ اس کے ذریعے روح کی تشنگی کو سکونِ جاودانی بخشا جاتا ہے۔ حج دراصل اس نظامِ کائنات کے رب و مالک کے ساتھ اٹوٹ تعلق کا اظہار ہے، جس میں عقل محوِ تماشا رہ جاتی ہے اور عشق اپنی منزل پا لیتا ہے۔ حج نہ صرف اسلام کا ایک عظیم الشان رکن ہے، بلکہ تمام عبادات کا مجموعہ ہے، یہ ایک مومن کی روحانی، اخلاقی، سماجی اور دنیوی زندگی میں انقلاب برپا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

منافع کے حصول کا ذریعہ

اللہ عزوجل نے حج کو منافع اور فوائد کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے، ارشادِ خداوندی ہے:

ليشهدوا منافع لهم ويذكروا اسم الله في أيام معلومات(سورۃ الحج: ۲۸)

(تاکہ وہ اپنے فائدے حاصل کرنے کے لیے آ پہنچیں اور طے شدہ دنوں میں اللہ کا نام لیں [قربانی کریں])۔

اور ایک جگہ ارشادِ باری عزوجل ہے:

وأذن في الناس بالحج يأتوک رجالا وعلى کل ضامر ياتين من کل فج عميق، ليشهدوا منافع لهم (سورۃ الحج: ۲۷، ۲۸)

(اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ تمہارے پاس پیدل اور دبلی اونٹنیوں پر دور دراز کے راستوں سے آئیں گے، تاکہ وہ اپنے فوائد حاصل کریں)۔

یہاں اللہ عزوجل نے منافع کے لیے نکرہ استعمال کیا ہے، جس سے مراد وہ منافع و فوائد اور برکات اتنے زیادہ ہیں کہ گنے نہیں جا سکتے؛ اس میں تجارت، صحت، روحانیت اور بخشش اور جنت وغیرہ شامل ہیں۔ اس لیے حج بے پناہ فضائل اور برکات، منافع و فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے جہاں اللہ عزوجل اس دنیا میں بندگی کے ذریعے زندگی کو درست فرماتے ہیں، اس کے اخلاق و کردار اور عادات و اطوار میں درستگی آ جاتی ہے، اس کا فقر و فاقہ اور تنگی بھی دور ہو جاتی ہے، اللہ عزوجل اسے اس دنیا میں غنیٰ عطا کرتے ہیں، اور اسے اپنی رحمتِ خاصہ سے نوازتے ہیں، اسے جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا کرتے ہیں، اس کے سارے گناہ معاف کرتے ہیں، وہ حج کے موقع سے رب کا خاص شاہی مہمان ہوتا ہے، اللہ عزوجل اس کے میزبان ہوتے ہیں، اگر وہ اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا کو قبول کرتے ہیں اور جو مانگتا ہے اسے عطا کرتے ہیں۔

پاکیزہ زندگی کی تربیت

اللہ عزوجل نے حج کو زندگی کے رذائل سے پاک کر کے فضائل، خوبیوں اور اخلاق سے مزین کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، ارشادِ خداوندی ہے:

الحج أشهر معلومات، فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج (سورۃ البقرۃ: ۱۹۷)

(حج کے مہینے طے شدہ ہیں، جو ان میں حج لازم کر لے تو نہ شہوانی بات جائز، نہ گناہ اور نہ لڑائی جھگڑا)۔

اور اسی کو ایک روایت میں فرمایا:

من حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع کیوم ولدته أمه (متفق علیہ)

(جو شخص اخلاص حج کرے اس میں جماع کی بات نہ کرے، نہ صغیرہ کبیرہ گناہ کرے اور نہ لڑائی جھگڑا کرے تو اللہ عزوجل اس کو گناہوں سے ایسے پاک کرتے ہیں جس طرح بچہ ولادت کے دن گناہوں سے پاک و صاف ہوتا ہے)۔

غربت کا خاتمہ

حج غربت کے خاتمے کا ذریعہ ہے، حج پر اللہ عزوجل غنیٰ عطا فرماتے ہیں، اس کے افلاس اور تنگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، چنانچہ ارشادِ نبوی ہے:

تابعوا بين الحج والعمرة، فانہما ينفیان الفقر والذنوب کما ينفی الکير خبث الحديد، والذهب والفضة (رواہ الترمذی و النسائی)

(حج اور عمرہ پے درپے کیا کرو، کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسا کہ بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے)۔

اس لیے جو حضرات مال کی کمی کے ڈر سے حج نہیں کرتے، انہیں جان لینا چاہیے کہ حج تو مال میں برکت اور فقر سے دوری کا ضامن ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ: من عرف ما طلب هان عليه ما بذل (جس نے یہ پہچان لیا کہ وہ کیا طلب کر رہا ہے یعنی اللہ کی رضا، اس کے لیے وہ سب کچھ قربان کرنا آسان ہو جاتا ہے)۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ علم کے حصول کے ابتدائی دور میں ایک مسئلے پر اٹک گئے تھے پھر آپ نے ۵۰ سے زائد حج کیے، آپ فرماتے تھے: ما استقر علمی فی صدری الا بعد حجی (میرے سینے میں علم کا استحکام میرے حج کے بعد ہوا)۔

عورتوں اور ضعیفوں کا جہاد

حج کو عورتوں اور ضعیفوں کا جہاد کہا گیا ہے کہ حج کرنا یہ اللہ کے راستے میں اپنی جان کو دین کے فروغ کے خاطر جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہے اور سفرِ حج کی مشقت بدن کے لیے روحانی اور جسمانی ورزش اور بیماریوں سے شفا کا بھی ذریعہ ہے۔

اللہ کی مہمانی

حاجی کے لیے اس سے بڑی خوشخبری اور فائدہ کیا ہوتا ہے کہ وہ خدا کا مہمان ہوتا ہے، اسی لیے حاجیوں کو ضیوف الرحمن (خدا کے مہمان) بھی کہا جاتا ہے۔ ربِ ذوالجلال میزبان ہو، بندہ مہمان بن کر اس شہنشاہِ کائنات کے در پر جائے جس کے قبضہ و قدرت میں ساری کائنات اور خیر و شر ہے، اس سے بڑا فائدہ اور نفع کا سودا کیا ہو سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

الغازی فی سبيل الله، والحاج، والمعتمر وفد الله، دعاهم فأجابوه، وسألوه أعطاهم (رواہ ابن ماجہ)

(اللہ کی راہ میں لڑنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا یہ اللہ کے مہمان [وفد] ہیں، اللہ نے انہیں بلایا تو وہ حاضر ہوئے، اور انہوں نے جو مانگا اللہ نے انہیں عطا کیا)۔

اس لیے زادِ راہ اور اسباب کی زیادہ فکر نہ کرے، اسباب کے درجہ میں جو کچھ حاصل ہو جائے اسے لے کر بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہو جائے، کیوں کہ مشہور مقولہ ہے: من لزم باب الکريم فتح له (جو کریم اور سخی کا در تھام لیتا ہے تو اس کے لیے اس کا دروازہ کھل ہی جاتا ہے [یعنی حاجی کے لیے اللہ عزوجل رزق کے غیر متوقع دروازے کھول دیتے ہیں])۔ اور ایک عربی کا مقولہ ہے: زاد الحاج التوکل (حاجی کا توشہ توکل علی اللہ ہے)۔ اس لیے کہا جاتا ہے: بيت الله ليس للأغنياء فقط، بل للأتقياء (اللہ کا گھر صرف امیروں کے لیے نہیں؛ بلکہ پرہیزگاروں کے لیے ہے)۔ کتنے ہی صاحبِ ثروت اللہ کے گھر کی زیارت اور حج سے محروم رہ جاتے ہیں، اور کتنے ہی غریب بلا لیے جاتے ہیں۔

گناہوں سے معافی کا پروانہ

اللہ عزوجل حج کے ذریعے بے انتہا لوگوں کی مغفرت کا سامان کرتے ہیں اور بے شمار لوگوں کے گناہوں کو بخشتے ہیں:

ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة(صحیح مسلم)

(اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن میں بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتے)۔

اور ایک روایت میں ہے:

من طاف بهذا البيت أسبوعا فأحصاه، کان کعتق رقبة (سنن الترمذی)

(جس نے اس گھر کا سات بار طواف کیا اور اس کا حق ادا کیا، یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے)۔

اور ایک روایت میں ہے:

من مسحهما كفارة للخطايا

([حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا] لمس اور چھونا گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے)۔

جنت کی ضمانت

اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة(صحیح البخاری)

(حجِ مبرور کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں)۔

حج میں جلدی کریں

جس کو اللہ عزوجل نے استطاعت و قدرت دی ہے اس کو حج میں عجلت اور جلدی کرنی چاہیے، مبادا کہیں کچھ ایسے حالات درپیش نہ ہو جائیں کہ حج کی سکت باقی نہ رہے، اور حج کا جانا ممکن نہ ہو سکے۔ ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

عجلو فی الحج فان أحدکم لا يدری ما يعرض له (مسند احمد)

(حج کرنے میں جلدی کرو؛ کیوں کہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کل کیا پیش آ جائے [بیماری یا موت])۔

اور ایک روایت میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:

من أراد الحج فليعجل

(جس نے حج کا ارادہ کیا اسے اس سلسلے میں عجلت کرنی چاہیے)۔

بلکہ حج کی فرضیت کے بعد عدمِ ادائیگی پر اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے سخت وعید سنائی ہے:

من ملک زادا وراحلة، تبلغه الى بيت الله ولم يحج، فلا عليه أن يموت يهودیا او نصرانيا (رواہ الترمذی)

(جو شخص زادِ راہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کر سکے، تو کوئی پرواہ کی بات نہیں کہ وہ یہودی مرے یا نصرانی۔

اور یہ بھی ارشادِ خداوندی ہے:

وتزودوا فان خير زاد التقوى، واتقون يا أولي الألباب (البقرۃ: ۱۹۷)

(اور سفر کا سامان ساتھ لے لیا کرو، بس بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرتے رہو)۔

آداب اور شعائرِ حج کا پاس و لحاظ

ساتھ میں حاجی کو چاہیے کہ جس قدر بلند مقام ہے، اس جگہ پر اس کا احترام بجا لانا بھی اسی قدر اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر قدم پھونک پھونک کر، ڈر ڈر کر اٹھائے، کہیں ربِ ذوالجلال کے شعائر اور افعالِ حج میں کمی کوتاہی نہ ہو جائے، اللہ کے حرم کی کہیں بے احترامی لازم نہ آئے، اس لیے اللہ والے بڑی احتیاط کرتے تھے۔

حضرت علی بن زین العابدین کے حوالہ سے مذکور ہے کہ جب آپ حج کے لیے احرام باندھتے تو آپ پر غشی طاری ہو جاتی، کسی نے پوچھا تو فرمایا: اخشی أن يقال: لا لبيك ولا سعديک (احیاء العلوم: ۲۶۸۱، دار المعرفۃ، بیروت) (مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ یہ نہ فرما دیں کہ نہ تیری پکار قبول ہے اور نہ تجھ پر کوئی سعادت ہے)۔ یہ خوفِ خدا حج کا حقیقی ثمرہ ہے۔

Comments are closed.