ماں کبھی جدا نہیں ہوتی… صرف نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے !
(ازلی نقشِ مادر: انسانی جبلت، نفسیاتی ساخت اور عالمگیر شعور کی ابدی سچائی)
………………………………………………………….
ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبہ اردو
آرٹس کامرس کالج، بیودہ، امراوتی، مہاراشٹر
موبائل: 8275232355
———————————————–
یہ ایک عام مشاہدہ ہے، مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں بچے کے لبوں پر آنے والا پہلا بامعنی لفظ "ماں” کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ محض صوتی سہولت کا نتیجہ ہے، یا اس کے پیچھے انسانی حیاتیات، نفسیات اور شعور کی کوئی گہری ساخت کارفرما ہے؟ اسی سوال کا ایک غیر رسمی مگر بامعنی جواب اکولہ، مہاراشٹر کے ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر اسلم خان کے مشاہدے میں ملتا ہے۔ 20 سالہ طبی خدمات کے دوران انھوں نے ایک عجیب مماثلت نوٹ کی کہ شدید درد، خوف یا زندگی کے آخری لمحات میں مریض اکثر کسی مذہبی لفظ سے پہلے ‘ماں’ پکارتے ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ ہوں یا ناخواندہ، مرد ہوں یا عورت۔
یہ محض ایک جذباتی اتفاق نہیں بلکہ انسانی وجود کی تہہ میں چھپی ایک گہری سچائی کا اشارہ ہے۔ ماں اور بچے کا تعلق پیدائش کے لمحے سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس سے بہت پہلے، رحمِ مادر کی تاریکیوں میں تشکیل پاتا ہے۔ جدید حیاتیاتی تحقیق، خاص طور پر وہ مطالعہ جسے جنینی خُردہ آمیزش (Fetal Microchimerism) کہتے ہیں، اس تعلق کو ایک نئی علمی جہت دیتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر لی نیلسن (Lee Nelson) اور ان کے ساتھیوں کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حمل کے دوران بچے کے خلیات ماں کے خون اور بافتوں میں منتقل ہو کر دہائیوں تک زندہ رہ سکتے ہیں، حتیٰ کہ دماغ میں بھی۔ اسی طرح ماں کے خلیات بچے کے جسم میں بھی موجود رہتے ہیں۔ بعض مطالعات یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ یہ خلیات قوتِ مدافعت اور بافتوں کی مرمت (Tissue Repair) میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس سائنسی حقیقت کا مفہوم نہایت گہرا ہے کہ ماں اور بچہ محض جذباتی نہیں بلکہ حیاتیاتی سطح پر بھی ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتے ہیں اور یہ پیوستگی موت سے بھی نہیں ٹوٹتی۔
یہ حیاتیاتی پیوستگی نفسیاتی سطح پر مزید پیچیدہ اور دیرپا صورت اختیار کرتی ہے۔ برطانوی ماہرِ نفسیات جان بولبی (John Bowlby)کے نظریۂ وابستگی (Attachment Theory)کے مطابق بچے اور بنیادی نگہداشت فراہم کرنے والے کے درمیان ابتدائی تعلق پوری زندگی کے جذباتی سانچے کو ڈھالتا ہے۔ میری اینسورتھ (Mary Ainsworth) کے تجربات نے اس نظریے کو عملی بنیاد فراہم کی، جہاں بچوں کے ردِعمل کو تین اقسام میں تقسیم کیا گیا جن میں محفوظ وابستگی (Secure Attachment)، مضطرب وابستگی (Anxious Attachment) اور گریزاں وابستگی (Avoidant Attachment) شامل ہیں۔ جن بچوں نے محفوظ وابستگی کا تجربہ کیا وہ نہ صرف زیادہ پراعتماد تھے بلکہ بعد کی زندگی میں بہتر جذباتی استحکام کے حامل بھی ثابت ہوئے۔ نیورو سائنس (Neuroscience)کی جدید تحقیق بتاتی ہے کہ یہ ابتدائی تعلقات دماغ کے جذباتی مرکز (Limbic System) اور پیشانی کے فیصلہ ساز حصے (Prefrontal Cortex) کی ساخت پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔ گویا ماں محض ایک رشتہ نہیں، ایک تعمیری قوت ہے جو انسانی دماغ کی اینٹ اینٹ چنتی ہے۔
تاہم یہاں ایک اہم علمی سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ تعلق ہمیشہ ماں کے ساتھ ہی قائم ہوتا ہے؟ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ بنیادی نگہداشت کرنے والا (Primary Caregiver) کوئی بھی ہو سکتا ہے، باپ، دادی یا کوئی اور قریبی فرد، بشرطیکہ وہ مسلسل محبت اور تحفظ فراہم کرے۔ مگر عالمی سطح پر اکثر یہ کردار ماں ادا کرتی ہے، اسی لیے ماں اور بچے کے تعلق کو بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ تمام ماؤں کا تجربہ یکساں نہیں ہوتا اور بعض حالات میں یہ تعلق کمزور، منقطع یا حتیٰ کہ تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن کارل یونگ (Carl Jung) کے نمونۂ مادر (Mother Archetype) کے مطابق ماں ایک نفسیاتی علامت کے طور پر انسانی لاشعور میں اتنی گہرائی سے رچی بسی ہے کہ حقیقی تجربہ جیسا بھی ہو، "ماں” کا تصور ایک بنیادی حوالہ بنا رہتا ہے۔ یہ تصور انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا کیونکہ یہ اس کے اندر سے جنم لیتا ہے، باہر سے نہیں آتا۔
ماں کی محبت کے حیاتیاتی پہلو کو سمجھنے کے لیے ایک ہارمون کا ذکر ضروری ہے جسے محبت کا ہارمون (Oxytocin) کہا جاتا ہے۔ متعدد اداروں کی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ہارمون زچگی، دودھ پلانے اور بچے کے ساتھ تعامل کے دوران خارج ہوتا ہے اور دماغ کے ثواب کے مراکز (Reward Circuits) کو متحرک کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف وابستگی بڑھتی ہے بلکہ ماں بچے کے ہر اشارے، ہر رونے اور ہر مسکراہٹ کے لیے فطری طور پر حساس ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ بھی واضح رہے کہ اس ہارمون کا اثر ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتا اور سماجی و نفسیاتی عوامل بھی اس تعلق کو متاثر کرتے ہیں۔ مگر اس کیمیائی حقیقت کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ماں کی محبت محض ایک جذبہ نہیں، ایک حیاتیاتی ضرورت بھی ہے۔
سائنسی اور نفسیاتی بحث کے ساتھ ساتھ ایک انسانی کہانی اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے۔امراوتی ، مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ عائشہ صدیقہ ، جو اعلیٰ تعلیم کے لیے اورنگ آباد منتقل ہوئی، بتاتی ہے کہ ہاسٹل کی پہلی رات جب سب کچھ نیا تھا تو میں نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی لائٹیں بجھیں، مجھے اپنی ماں کے کمرے کی ہلکی سی روشنی، اس کی آواز اور اس کے دوپٹے کی خوشبو یاد آنے لگی۔ میں نے فون اٹھایا مگر کال نہیں کی، صرف ‘امی’ کا نام اسکرین پر دیکھ کر ہی سکون آ گیا۔ یہ واقعہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ اس مشترکہ انسانی تجربے کی عکاسی ہے جہاں ماں ایک نفسیاتی لنگر (Psychological Anchor) بن جاتی ہے، یعنی ایک ایسی غیر مرئی موجودگی جو ہزاروں میل کے فاصلے پر بھی سکون کا سرچشمہ بنی رہتی ہے۔
یادداشت کے حوالے سے بھی ماں کا کردار مرکزی ہے۔ جذباتی یادداشت (Emotional Memory) پر ہونے والی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ جذباتی تجربات دماغ میں زیادہ مضبوطی اور گہرائی سے محفوظ ہوتے ہیں، اور ماں کے ساتھ جڑے ابتدائی تجربات ان میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مخصوص خوشبو، ایک لوری کی دھن یا ایک پرانا لفظ برسوں بعد بھی ماں کی موجودگی کا احساس یوں تازہ کر دیتا ہے جیسے وقت کا سفر رک گیا ہو۔ یہ صرف یاد نہیں بلکہ ایک دوبارہ جیا جانے والا تجربہ ہوتا ہے، ایک واپسی جو بغیر سفر کے ہو جاتی ہے۔
بین الثقافتی سطح پر ماں کا تصور حیرت انگیز حد تک مشترک ہے۔ ایک افریقی کہاوت ہے کہ ماں وہ درخت ہے جس کے سائے میں بچہ زندگی سیکھتا ہے۔ جاپانی ثقافت میں ماں خاموش قربانی اور نظم و ضبط کی علامت ہے، جبکہ لاطینی امریکی معاشروں میں اسے روحانی مرکزیت حاصل ہے۔ ماہرینِ بشریات (Anthropologists) کے مطابق یہ عالمگیر مماثلت اس بات کی دلیل ہے کہ ماں کا کردار محض سماجی تشکیل نہیں بلکہ انسانی بقا اور ارتقا سے جڑا ہوا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے جو ہر تہذیب، ہر رنگ اور ہر زبان میں ایک ہی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
روحانی سطح پر ماں کی محبت کو اکثر الوہی محبت کا عکس قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک استعاراتی بیان ہے، مگر اس کی معنویت بہت گہری ہے۔ غیر مشروط قبولیت، مسلسل معافی اور بے لوث ایثار، یہ وہ اوصاف ہیں جو مختلف مذہبی و فلسفیانہ روایات میں الوہی محبت سے منسوب کیے جاتے ہیں اور یہی خصوصیات ماں کے کردار میں سب سے نمایاں ہوتی ہیں۔ ماں شاید انسان کو خدا کی محبت کا پہلا ملموس تجربہ دیتی ہے۔
جب ماں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے تو بظاہر ایک ناقابلِ پُر خلا پیدا ہوتا ہے، مگر نفسیاتی طور پر یہ خلا مکمل عدم موجودگی نہیں ہوتا۔ ماہرین اسے اندرونی ماں (Internalized Mother) کا نام دیتے ہیں، یعنی ماں کی آواز، اس کی اقدار اور اس کی تربیت انسان کی اپنی شخصیت کا ناقابلِ علیحدگی حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہم فیصلوں کے وقت اکثر یہ سوال بے اختیار ابھرتا ہے کہ اگر ماں ہوتی تو کیا کہتی؟ دراصل اس لمحے ماں کہیں باہر نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر موجود ہوتی ہے، ہر سوچ میں، ہر فیصلے میں اور ہر خاموشی میں۔
یوں ماں کا تعلق ایک مسلسل اور لازوال تسلسل ہے، حیاتیاتی، نفسیاتی، یادداشتی اور روحانی۔ وہ جسم سے شروع ہو کر شعور میں پھیلتا ہے اور پھر لاشعور کی گہرائیوں میں پیوست ہو جاتا ہے۔ اسے کھونا اسے ختم کرنا نہیں بلکہ اسے ایک نئی اور لطیف سطح پر منتقل کرنا ہے، جہاں وہ نظر نہیں آتی مگر ہر فیصلے، ہر احساس اور ہر خوف کے عقب میں پوری شدت سے موجود رہتی ہے۔
اور شاید ابتدائی سوال کا جواب بھی یہی ہے کہ بچہ پہلا لفظ "ماں” اس لیے نہیں سیکھتا کہ وہ آسان ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ پہلے سے اس کے وجود میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ اور جب باقی سب الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں، تب بھی یہی ایک لفظ باقی رہتا ہے۔
اسلامی تعلیمات نے اس ابدی حقیقت کو صدیوں پہلے جس گہرائی اور حکمت سے بیان کیا، وہ آج بھی بے مثال ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا کہ”اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔”( الاسراء : ۲۳) اسی سلسلے میں ماں کی بے مثال قربانی کو یوں بیان کیا گیا کہ اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں اٹھایا اور تکلیف کے ساتھ پیدا کیا۔ یہ تکلیف محض جسمانی نہیں بلکہ ایک مکمل وجودی قربانی کا استعارہ ہے جو ماں ہر لمحہ خاموشی سے ادا کرتی رہتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ تمھاری ماں، اور چوتھی بار فرمایا کہ تمھارا باپ(صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6501)۔ اس تکرار میں صرف ایک حکم نہیں بلکہ ایک پوری کائناتی حکمت پنہاں ہے۔ جو رشتہ حیاتیاتی، نفسیاتی اور روحانی سطح پر سب سے گہرا ہو، اسی کا حق سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ہے۔ یوں اسلام نے ماں کو محض ایک جذباتی علامت نہیں بلکہ ایک ایسا مرکزِ وجود قرار دیا جس کی خدمت، محبت اور رضا کو جنت کی راہ سے ہم کنار کر دیا گیا۔ شاید اسی لیے انسان اپنی زندگی کے سب سے کمزور لمحے میں، چاہے وہ جنگ کا میدان ہو، ہسپتال کا بستر ہو یا تنہائی کی کوئی خاموش رات، اپنی زبان پر بے اختیار ایک ہی لفظ پاتا ہے کہ "ماں”۔ یہ لفظ صرف ایک رشتے کا نام نہیں بلکہ جنت کی طرف جانے والی پہلی پگڈنڈی کا پتہ ہے۔
Comments are closed.