وقت کی پکار: ایک خاموش مجاہد کو دوبارہ صفِ اول میں لانے کی ضرورت
شیخ وسیم نظیر،
ممبئی،مہاراشٹرا ۔
تحریر: ایک فکرمند صحافی
> "اللّٰه يحبّ الذين يقاتلون في سبيله صفاً كأنهم بنيان مرصوص”
(الصف: 4)
"اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔”
آج جب دنیا کی ہر تحریک اپنے باصلاحیت سپاہیوں کو پہچان کر ان سے فائدہ اُٹھا رہی ہے، ہمیں رک کر خود سے یہ سوال کرنا ہوگا:
کیا ہم اپنے ان مجاہدوں کو پہچان رہے ہیں جنہوں نے گمنامی میں رہ کر ہمارے قافلے کو جِلا بخشی؟
ہم بات کر رہے ہیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سابق مہاراشٹر صدر، سیّد معین صاحب کی—وہ نام جو صرف کسی عہدے کا محتاج نہیں، بلکہ ایک تحریکی فکر، ایک بےباک آواز، اور ایک مخلص جذبے کا نام ہے۔
یاد کیجیے وہ دن جب مہاراشٹر میں مجلس کی موجودگی ایک خواب تھی۔ اسی وقت ایک جوان، بےخوف، بےلوث سپاہی نے ریاست کے طول و عرض میں ہزاروں کلومیٹر کے سفر طے کیے۔ نصف شب ہو یا سورج کی تمازت، سیّد معین صاحب ہر پکار پر لبیک کہتے۔ نہ انھیں اسٹیج کی چاہ تھی، نہ ستائش کی تمنّا۔ بس ایک ہی مقصد تھا:
"مجلس کا پیغام ہر مظلوم تک پہنچے، ہر ناامید کو سیاسی شناخت دی جائے۔”
یہ حقیقت ہے کہ ہر قافلے میں کبھی نہ کبھی اختلافات جنم لیتے ہیں، لیکن
> "اگر مچھلی کے پیٹ میں یونسؑ کو معافی مل سکتی ہے،
اگر بدر کے میدان میں کمزوروں کو نصرتِ خداوندی نصیب ہو سکتی ہے،
تو ہم اپنے بہادر سپاہیوں کو گلے کیوں نہیں لگا سکتے؟”
سیّد معین صاحب آج بھی مجلس کے وفادار سپاہی ہیں۔ اسد الدین اویسی صاحب کی جانب سے جو بھی ذمہ داری دی گئی، اسے خندہ پیشانی سے نبھایا۔ لیکن یہ حقیقت بھی ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے وہ محدود کر دیے گئے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو—اختلاف، غلط فہمی یا وقتی حکمت عملی—لیکن
> "قابل افراد کو نظر انداز کرنا تحریکوں کے زوال کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔”
یاد رکھیے! خلوص، قربانی، تجربہ اور خطابت ایسی نعمتیں ہیں جو ہر بار پیدا نہیں ہوتیں۔
> "ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات”
لیکن یہاں تو طاقتور کو بےاثر بنا دینا جرمِ قیادت کہلانا چاہیے۔
آج جبکہ مخالف پارٹیاں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر رہی ہیں، ہم اگر آپس میں ہی ایک دوسرے کو کمزور کرنے لگیں گے، تو دشمنوں کو ہماری طرف تیر چلانے کی حاجت نہیں رہے گی۔
یہ تحریر نہ چاپلوسی ہے، نہ مخالفت۔ یہ وقت کے نبض شناس صحافی کی وہ صدا ہے جو پارٹی کی بھلائی اور ملت کے مفاد کو سامنے رکھ کر بلند ہوئی ہے۔
> "جو اپنے ہو کر بھی پرائے ہو جائیں، وہ کچھ نہیں بگاڑتے
پر جو اپنوں کو پرایا بنا دے، وہ قافلے توڑ دیتے ہیں۔”
ہم اپیل کرتے ہیں مجلس کے تمام قائدین بالخصوص
اسد الدین اویسی صاحب، اکبرالدین اویسی صاحب اور امتیاز جلیل صاحب سے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں، اور سیّد معین صاحب کو دوبارہ مہاراشٹر کے میدان میں کھلی اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ اُتاریں۔
> "وقت کی آواز بن کر اُٹھو، اے قائدینِ وقت!
تاریخ خاموشی کو معاف نہیں کرتی، فیصلہ کیجیے!”
ایک حدیثِ رسول ﷺ:
> "افضل الجهاد كَلِمَةُ حقٍّ عند سلطانٍ جائر” — "سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔”
سیّد معین کی پوری زندگی اسی حدیث کی عملی تصویر ہے۔
آئیے! ملت کے مفاد میں، تحریک کی بقاء کے لیے، اور سچائی کی سربلندی کے لیے ہم ایک سچے، بےباک، اور مخلص سپاہی کو اس کا مقام دوبارہ دیں۔
یہ فیصلہ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ آج ملتِ اسلامیہ ہندیہ تاریخ کے نہایت نازک دور سے گزر رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلا جا رہا ہے۔ کبھی گائے کے نام پر، کبھی جہاد کے نام پر، کبھی لباس پر، کبھی مدرسوں اور مساجد کو نشانہ بنا کر۔ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہمیں سیاسی طور پر بےحیثیت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موب لنچنگ کا زخم ابھی بھرنے نہ پاتا ہے کہ کوئی نیا سانحہ ہمیں جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ان نازک حالات میں ہماری سب سے بڑی ڈھال ہماری سیاسی بیداری ہے، اور وہی ہمیں مضبوط قیادت کی جانب لے جاتی ہے۔
دوسری طرف، نام نہاد سیکولر پارٹیاں ہمارے ووٹ کی طلبگار تو ہیں، لیکن ہمیں نمائندگی دینے سے کتراتی ہیں۔ اور ذات پر مبنی پارٹیاں کھل کر مسلمانوں کو کنارے رکھتی ہیں۔ ایسے میں اگر ہم خود اپنی صفوں میں پھوٹ ڈالیں گے، باصلاحیت قائدین کو نظر انداز کریں گے، مجلس کی جڑوں کو اندر سے کھوکھلا کریں گے تو ہم میں اور ہمارے مخالفین میں کیا فرق رہ جائے گا؟ ہم نے اسد الدین اویسی صاحب کی دور اندیشی، اکبر اویسی صاحب کی بےباکی، اور امتیاز جلیل صاحب کی سیاسی فراست کو بارہا سراہا ہے—آج وقت ہے کہ سیّد معین جیسے باصلاحیت رہنما کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ انھیں بڑی ذمہ داری دے کر میدانِ عمل میں اتارا جائے۔
> جو چراغ اندھیروں میں بھی روشنی دے،
اُسے بجھانا نہیں، ہوا سے بچانا فرض ہوتا ہے۔
> بکھرے ہوئے موتیوں کو اگر ایک ڈور میں پرو دیا جائے،
تو وہ تسبیح بنتے ہیں، اور تسبیح قوموں کو جوڑتی ہے۔
آئیے! ہم سب اختلافات سے اوپر اُٹھ کر، مجلس کے سچے سپاہی کو وہ مقام دیں جو وہ اپنے اخلاص، قربانی اور جرأت کے بل بوتے پر پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں۔
یہ وقت ہے اتحاد کا، قیادت پر بھروسے کا، اور ملت کو نئی سمت دینے کا۔
Comments are closed.