مراٹھی زبان کی سیاست کے آگے بی جے پی کی سیاست پھیکی پڑ گئی
مشرف شمسی
میرا روڈ میں ایک مارواڑی تجارت پیشہ آدمی کے ساتھ مراٹھی زبان کے نام پر ماڑ پیٹ کا معاملہ قومی سرخی بن گیا ہے۔اس ماڑ پیٹ کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے کا زور لگایا جاتا تو بات سمجھ میں آتی لیکِن اس مارپیٹ کے ویڈیو کو مقامی ایم ایل اے نریندر مہتا نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ۔مہتا اور بی جے پی یہیں رکے نہیں بلکہ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے میرا بھیندر بند کا اعلان کر دیا گیا۔بی جے پی اور شندے شیوسینا کے بڑے بڑے رہنما غیر مراٹھی بزنس مین کے ساتھ یکجحتی دکھاتے ہوئے بیان بازی شروع کردی ۔نتیجہ مہاراشٹر نو نرمان سینا نے بزنس مین کے حق میں نکالے گئے مورچہ کے جواب میں مراٹھی مورچہ نِکالنے کا اعلان کر دیا ۔جیسے ہی مراٹھی زبان کے حق میں مورچہ نِکالنے کا اعلان ہوا نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ریاستی سرکار کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔منسے کے مقامی رہنماؤں کو تری پار کی نوٹس تھما دی گئی اور مورچے کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔لیکِن پولس اجازت نہیں ملنے کے باوجود ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے ساتھ مراٹھی زبان کے حق میں مراٹھی سڑکوں پر اُتر آئے۔پولس تحریک میں شامل لوگوں کو گرفتار کر رہی تھی لیکن مجمع بڑھتا چلا جا رہا تھا۔آخر کار پولس کو مورچہ کی اجازت دینی پڑی ۔مورچہ بالاجی ہوٹل سلور پارک سے شروع ہو کر میرا روڈ اسٹیشن پر جمع ہوئی۔پھر سلسلہ شروع ہوا نعرے بازی کا۔میرا روڈ کے ایک حصہ کے ایم ایل اے اور مہاراشٹر سرکار میں وزیر پرتاپ سرنائک بھی اس مورچے کا حصہ بننے کی کوشش کی لیکن اُنہیں مورچے میں موجود لوگوں نے نعرے لگا کر بھاگنے پر مجبور کیا۔اس پوری سیاست میں میرا روڈ میں سیاسی طور پر اگر کسی کا نقصان سب سے زیادہ ہوا ہے تو پرتاپ سرنایک کا۔مراٹھی زبان مورچہ کو کامیاب بنانے کے لئے کانگریس ،راشٹر وادی کانگریس پوار گروپ اور شیو سینا الدھو کے لوگوں نے کافی مشقت کی ۔ کامیاب مورچے کے بعد مہاراشٹر سرکار پوری طرح بیک فٹ پر آ گئی ہے۔خاص کر بی جے پی نہ کھل کر ہندی زبان کو نافذ کیا جا رہا تھا اُسے دفاع کر پا رہی ہے اور نہ مراٹھی زبان کے حق میں کچھ لوگوں کے ذریعہ ماڑ پیٹ کا معاملہ سامنے آنے پر اُن لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کر پا رہی ہے ۔بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے مراٹھی زبان کے لوگوں کے خلاف بیان بازی کر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔
کارپوریشن کے چناو تک یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے۔مراٹھی زبان کی سیاست کر بی جے پی کی ہندو مسلم سیاست کو فلہال پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
میرا روڈ ،ممبئی
Comments are closed.