مارک شیٹ کلچر سے عزّت کے قتل تک ؛ اولاد امانت ہے، ملکیت نہیں
مسعود محبوب خان (ممبئی)
فون📱09422724040
انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ عطاء فرمایا۔ اس کی عزّت، جان، مال اور جذبات کو مقدس و محترم قرار دیا۔ قرآنِ کریم نے بار بار انسان کی حرمت اور اس کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزّت و شرف عطاء فرمایا۔ (سورۃ الاسراء: 70)
اسلام نے انسان کی جان، عزّت اور اس کے عزائم کو مقدّس اور محترم قرار دیا ہے۔ ایک معصوم جان کا ناحق قتل، چاہے وہ کسی بھی رشتے کے پردے میں کیوں نہ ہو، قرآنِ مجید کی سورۃ المائدہ (آیت 32) کے مطابق پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی تعلیمات اور ہمارا موجودہ معاشرہ ایک دوسرے کے بالمقابل نظر آتے ہیں۔
اسلام نے ایسا نظامِ تربیت و تعلقات قائم کیا ہے جس میں باپ، بیٹی کے لیے شفقت و تحفّظ کا سایہ ہوتا ہے، ماں، بچّوں کے لیے رحمت و محبت کا گہوارہ بنتی ہے، اور استاد، شاگرد کے لیے ہمدرد و رہنما ہوتا ہے۔ مگر جب معاشرہ مادّہ پرستی، کامیابی کی اندھی دوڑ، اور جھوٹی "عزّت” کے نام پر ان پاکیزہ رشتوں کو قربان کرنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ انسانیت کے راستے سے بھٹک چکا ہے۔
اسلام نہ صرف انسان کے ظاہر کو بلکہ اس کے باطن، جذبات اور خوابوں کو بھی قدر و اہمیت دیتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے والدین کو شفقت، محبت اور ذمّہ داری کا پیکر بنایا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ ظلم، زیادتی اور جبر کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ اسلام میں اولاد کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی اجازت ہے، نہ ہی والدین کو مطلق العنان اور بے لگام قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر شخص نگران ہے، اور ہر نگران سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا” (صحیح بخاری)۔
تو وہ باپ، جو اپنی بیٹی کا محافظ اور سایۂ رحمت تھا، وہ قاتل کیسے بن گیا؟ وہ معاشرہ، جو اپنی نسل کی تربیت اور فلاح کا دعوے دار ہے، وہی ان کی جان کا دشمن کیسے بن رہا ہے؟ یہ سوال ہم سب کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے کہ کہیں ہم بھی اس نظام کا حصّہ تو نہیں جو انسانیت، محبت اور تربیت کے اصولوں کو فراموش کر چکا ہے؟
مگر افسوس کہ آج ہمارا معاشرہ مادیت اور ظاہری کامیابیوں کے پیچھے اس حد تک اندھا ہو چکا ہے کہ انسانیت کی بنیادی اقدار پامال ہو رہی ہیں۔ تعلیم کا مقصد جہاں ذہن و قلب کی تعمیر تھا، وہاں اب وہ صرف مارک شیٹ اور نمبروں کی دوڑ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ رشتے جو کبھی محبت، اعتماد اور سہارے کی علامت تھے، آج انا، غیرت اور جھوٹی عزّت کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔
یہ مضمون اس تلخ حقیقت کا عکس ہے کہ ہم نے اولاد کو امانت سمجھنے کے بجائے اپنی ملکیت بنا لیا ہے، اور مارک شیٹ کلچر نے ہمارے گھروں کی فضا کو زہر آلود کر دیا ہے۔ آئیے! اس تحریر کو محض ایک ملال انگیز نوحہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور اپنی سوچ و رویّے کا محاسبہ کرنے کا ذریعہ بنائیں۔ اپنے طرزِ تربیت، توقعات اور نظریات پر سنجیدگی سے غور کریں، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نئی نسل کی ایسی تربیت کریں جو محبت، شفقت، صبر، برداشت اور انسان دوستی پر مبنی ہو وہی اصول جو کبھی ہمارے معاشرے میں امن، محبت اور رحمت کے پھول کھلایا کرتے تھے۔ یاد رکھیں! اگر ہم نے اس ظلم پر محض افسوس تک خود کو محدود رکھا اور اس کی جڑوں کو نہ بدلا، تو ہم نہ صرف انسانیت بلکہ اسلامی اقدار کے بھی مجرم قرار پائیں گے۔
مارک شیٹ کلچر: نمبرات کی قید یا انسانیت کا قتل؟
اک ایسا باپ، جس کی گود ایک محفوظ پناہ گاہ ہونی چاہیے تھی، اور جس کی انگلی تھام کر بیٹی نے زندگی کے پہلے قدم رکھے تھے، وہی باپ جب قاتل بن جائے، تو سوال صرف قانون کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کی ذہنیت کٹہرے میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ حالیہ سانحے نے دل دہلا دیا ایک معصوم لڑکی، جو مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے NEET کی تیاری میں مصروف تھی، صرف اس لیے اپنے باپ کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئی کہ پریکٹس پیپرز میں اس کے نمبر کم تھے!
یہ خبر محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، والدین کی بے جا توقعات، اور معاشرتی دباؤ کی ایک خطرناک جھلک ہے، جہاں "کامیابی” کے نام پر بچّوں کے جذبات، ان کی ذہنی صحت، حتیٰ کہ ان کی زندگیوں تک کا سودا کیا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بچّوں کی تربیت میں ان کے مزاج، فطری رجحانات اور جذبات کو اہمیت دی جاتی تھی۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ بچپن، خواب اور خواہشیں سب کچھ رٹہ بازی کے کمرے میں قید ہو چکے ہیں، جہاں صرف نمبرات کی حکمرانی باقی ہے۔
کیا ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا کہ امتحانات میں نمبر کم آنا واقعی کسی انسان کے فیل ہونے کی علامت ہے؟ یا یہ دراصل اس نظام کی غیر انسانی ساخت کا شاخسانہ ہے؟ کیا اس معصوم بچّی نے کبھی یہ سوچا ہوگا کہ ایک دن وہی باپ، جو ہر امتحان سے پہلے اس کے لیے دعائیں کرتا تھا، اس کے کم نمبرات کی سزا موت کی صورت میں دے گا؟ یہ سوچ اور یہ انجام ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ حقیقت باور کرا رہا ہے کہ ہم نے تعلیم کو مسابقت، خوف اور تشدّد کا میدان بنا دیا ہے۔ والدین سے مؤدبانہ گزارش ہے: خدارا! اپنے بچّوں کو صرف نمبرات کی قید میں نہ جکڑیے۔ ان کی شخصیت، دلچسپیوں اور خوابوں کو پہچانیے۔ ہر بچّہ ایک الگ کہانی ہے، ایک منفرد روشنی۔ ضروری نہیں کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے؛ شاید وہ ایک بہترین مصور، حساس شاعر، یا ہمدرد معلم بننے کے لیے پیدا ہوا ہو۔
کامیابی کا مفہوم صرف میڈیکل کالج یا IIT میں داخلہ نہیں، بلکہ ایک متوازن، خوش باش اور خود اعتماد انسان کی تعمیر ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں، تو یہ "مارک شیٹ کلچر” نہ صرف ہماری اولاد بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو بھی نگل جائے گا۔ اپنے بچّوں سے محبت کیجیے، ان کے نمبروں سے نہیں؛ انسانوں کی پرورش کیجیے، روبوٹس کی نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھائیے، سزا کے لیے نہیں۔
گولیوں کے سائے میں پلتی بیٹیاں: رشتوں کا زوال
گروگرام میں پیش آنے والا یہ اندوہناک سانحہ، جہاں ریاستی سطح کی باصلاحیت ٹینس کھلاڑی رادھیکا یادو اپنے ہی والد کے ہاتھوں قتل ہو گئیں، محض ایک ذاتی یا خاندانی المیہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی بیماریوں کا کھلا اظہار ہے۔ پولیس کے مطابق رادھیکا اور ان کے والد کے درمیان ایک ویڈیو ریل کے حوالے سے اختلاف ہوا، جس پر والد کو سخت اعتراض تھا۔ غصّے کی شدّت میں آ کر اس نے اپنی لائسنس یافتہ ریوالور سے بیٹی پر تین گولیاں چلا دیں۔
یہ واقعہ نہ صرف عورت کی خودمختاری، اس کی رائے اور اظہارِ آزادی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا اظہارِ خیال کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ شناخت سازی کا وسیلہ بن چکا ہے۔ ایسے واقعات لڑکیوں کو خاموشی، خوف اور سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں اور اپنے گھروں کو کس قسم کے ماحول میں ڈھال رہے ہیں۔
قتل کا سبب صرف ایک ریوالور نہیں تھا، بلکہ وہ بیمار ذہنیت تھی جو "عزّت” کے نام پر صنفِ نازک کی جان لینے کو بھی جائز سمجھتی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف عورت کی آزادی اور وقار کے منافی ہے بلکہ خاندانی رشتوں کی حرمت اور محبت کو بھی پامال کر دیتی ہے۔ اپنی ہی اولاد کے خلاف لائسنس یافتہ اسلحے کا استعمال، قانون اور اسلحہ پالیسی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
جب غصّہ، غیرت یا انا انسان پر غالب آ جائے تو نہ رشتوں کی حرمت باقی رہتی ہے، نہ محبت کی روشنی، نہ قانون کا احترام اور نہ اخلاق کی دیواریں۔ رادھیکا کا قتل صرف ایک جسمانی موت نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایسا گہرا زخم ہے جو تب تک مندمل نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس سوچ کے خلاف اجتماعی شعور اور عملی مزاحمت پیدا نہ کریں۔
یہ وقت صرف انصاف کے نعرے بلند کرنے کا نہیں بلکہ اپنے گھروں، نصاب اور سماجی اداروں میں برداشت، مکالمہ اور باہمی احترام کی تعلیم کو فروغ دینے کا ہے۔ بصورتِ دیگر، ہر آنے والی رادھیکا کے قتل میں ہم سب شریکِ جرم ٹھہریں گے، چاہے ہمارے ہاتھ میں بندوق نہ بھی ہو۔
ہمیں یہ حقیقت دل سے سمجھنی ہوگی کہ اولاد والدین کی ملکیت نہیں، بلکہ ان کے پاس ایک مقدّس امانت ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عزّت، اختیار اور حقِ زندگی عطاء فرمایا ہے۔ جب ہم اس حق کو اپنے اختیار میں لینے لگیں تو گویا ہم ربّ العالمین کے بنائے ہوئے نظام میں ناحق مداخلت کر رہے ہوتے ہیں۔ رادھیکا ہو یا کوئی اور معصوم جان، ایسے واقعات ہمیں ایک سنگین پیغام دے رہے ہیں کہ ہماری سوچ، ہمارا نظامِ تعلیم اور ہمارے گھروں کی فضا کس قدر زہر آلود ہو چکی ہے۔
اب فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کو بدلیں۔ والدین، اساتذہ اور معاشرتی رہنماؤں پر یہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف نمبرات اور ظاہری کامیابی کے بجائے اخلاق، محبت، صبر اور برداشت کی تعلیم و تربیت کو اپنا شعار بنائیں۔ گھر وہ جگہ ہو جہاں بچّوں کے خواب دبائے یا قتل نہ کیے جائیں، بلکہ وہ آزادی کے ساتھ پروان چڑھیں، سنوریں اور ایک متوازن و خوشحال انسان کی شکل اختیار کریں۔
یاد رکھیے! عزّت، غیرت اور انا کے نام پر بہایا گیا خون کبھی سکون نہیں لاتا، بلکہ دنیا و آخرت کی ذلت کا سبب بنتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے گھروں کو تربیت گاہ، اپنے دلوں کو محبت کا گہوارہ، اور اپنی زبانوں کو شائستگی اور دعا کا ذریعہ بنائیں۔ کیونکہ اگر ہم نے آج آنکھیں نہ کھولیں، تو کل ہمارے ہاتھ بھی اسی جرم میں رنگے ہوں گے، چاہے وہ براہِ راست نہ سہی۔ ربّ کریم ہمیں حق کو حق سمجھنے، اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا ربّ العالمین)
Comments are closed.