کیا الیکشن کمیشن عوام کو بے وقوف سمجھتا ہے؟

 

تحریر: یوگیندر یادو

 

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ دہلی سے ایک فرمان جاری ہوا، بالکل تغلقی انداز میں۔ جب وہ فرمان بہار کی زمین پر پہنچا، تو جیسے سارا کھیل بگڑ گیا۔ اب وہ بگڑا ہوا معاملہ سنبھالا نہیں جا سکتا، اس لیے اسے صرف چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

 

صبح اخبار میں الیکشن کمیشن کا اشتہار شائع ہوتا ہے، شام کو وہی الیکشن کمیشن اس کی تردید کر دیتا ہے۔ بہار کے کونے کونے سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ لیکن زمینی حالات کو درست کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن خبروں کو روکنے اور خبر دینے والوں کو ڈرانے میں لگا ہوا ہے۔ ناقابلِ یقین اعداد و شمار اچھالے جا رہے ہیں۔

 

وہ ادارہ جو بیس برس پہلے تک ملک کا سب سے معتبر ادارہ مانا جاتا تھا، آج مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کی موجودہ "تکون” (تینوں اعلیٰ افسران) سے کچھ سیدھے اور کڑے سوالات کیے جائیں:

 

1. جب نئے چیف الیکشن کمشنر نے اپنا عہدہ سنبھالا تھا، تب یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کمیشن تمام فیصلے مشورے سے کرے گا۔ بتایا گیا تھا کہ صرف دو ماہ میں کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے 4000 سے زیادہ میٹنگز کیں۔ کیا ان میں کسی ایک میٹنگ میں بھی یہ اشارہ دیا گیا کہ کمیشن پورے ملک میں ووٹر لسٹ کا "خصوصی جامع نظرِثانی” کرنے جا رہا ہے؟ کیا اتنے بڑے فیصلے سے قبل، خاص طور پر بہار کی سیاسی جماعتوں سے مشورہ نہیں ہونا چاہیے تھا؟

 

2. 2003 کے بعد الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی مکمل تجدید کا عمل بند کر دیا تھا۔ اب آپ نے اسے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ آپ نے جو وجوہات گنوائی ہیں (شہری آبادی میں اضافہ، نقل مکانی، ڈپلیکیٹ ووٹر وغیرہ)، ان کا حل موجودہ فہرست میں جزوی نظرثانی سے کیوں ممکن نہیں؟ پرانی لسٹ کو مسترد کر کے نئی لسٹ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا یہ فیصلہ لینے سے پہلے اس کے فائدے اور نقصانات کا تجزیہ کیا گیا؟ کیا اس بارے میں کمیشن کے اندر مشورہ ہوا؟ اگر ہاں، تو وہ فائل پبلک کیوں نہیں کی جاتی؟

 

3. آپ نے 2003 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنایا ہے۔ مگر وہ لسٹ بھی پرانی لسٹ کی نظرثانی سے ہی بنی تھی اور تب بھی کوئی دستاویز طلب نہیں کیا گیا تھا۔ پھر صرف 2003 کی لسٹ کو مستند ماننے اور بعد کی لسٹوں کو رد کرنے کی کیا دلیل ہے؟ کیا الیکشن کمیشن یہ تسلیم کرتا ہے کہ 2003 کے بعد جو بھی انتخابات ہوئے، وہ سب ناقص ووٹر لسٹ پر مبنی تھے؟

 

4. جن افراد کے نام 2003 کی لسٹ میں نہیں ہیں، ان سے آپ نے 11 مخصوص دستاویزات میں سے کوئی ایک مانگا ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ہر بھارتی شہری کے پاس ان میں سے کوئی نہ کوئی دستاویز ضرور ہوگا؟ کیا آپ نے اس بات کی تحقیق کی کہ ان 11 دستاویزات میں سے کتنے بہار کے عوام کے پاس ہیں؟ اگر کی ہے تو وہ اعداد و شمار عوامی کیوں نہیں کیے جاتے؟ یا پھر ان ماہرین کو جواب کیوں نہیں دیا جاتا جنہوں نے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر ثابت کیا ہے کہ یہ دستاویزات آدھے بہاریوں کے پاس بھی نہیں ہیں؟

 

5. آدھار، راشن کارڈ، منریگا جاب کارڈ جیسے عام دستاویزات کو کمیشن کیوں نہیں مانتا؟ جو 11 دستاویز قابلِ قبول ہیں، اور ان میں اور آدھار وغیرہ میں کیا فرق ہے؟ جب آدھار کارڈ کی بنیاد پر حاصل کردہ رہائشی سرٹیفکیٹ کو قبول کیا جا سکتا ہے، تو آدھار کارڈ خود کیوں نہیں؟ اور سب سے حیرت کی بات یہ کہ الیکشن کمیشن خود جو فوٹو شناختی کارڈ جاری کرتا ہے، وہ بھی ناقابلِ قبول ہے!

 

6. آپ نے اس حکم کو سب سے پہلے بہار میں کیوں لاگو کیا، وہ بھی انتخابات سے صرف چار ماہ قبل؟ کیا دسمبر میں بہار کی ووٹر لسٹ کی نظرثانی مکمل نہیں ہو چکی تھی؟ کیا کسی بھی پارٹی نے اس لسٹ پر دھاندلی کی شکایت کی تھی؟ کیا مہاراشٹر کی طرح بہار میں ووٹروں کی تعداد میں کوئی غیر معمولی اضافہ ہوا تھا؟ یا کسی جماعت یا ادارے نے بہار میں ووٹر لسٹ کو مسترد کرنے کی مانگ کی تھی؟

 

7. اتنے بڑے حکم کو صرف 12 گھنٹے کے نوٹس پر کیوں لاگو کیا گیا؟ آپ نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ شام کو دہلی سے حکم جاری ہوگا اور اگلی صبح بہار کے 97 ہزار بوتھوں پر فارم کی تقسیم شروع ہو جائے گی؟ کیا آپ کو یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ آٹھ کروڑ ناموں کے ساتھ فارم چھاپنے میں کتنے دن لگیں گے؟ کیا آپ کو علم نہیں تھا کہ ان 97 ہزار بوتھوں میں سے 20 ہزار پر بی ایل او (بوتھ لیول افسر) کی تقرری ہی نہیں ہے — اور دو ہفتے بعد بھی نہیں ہوئی ہے؟

 

8. اتنی بڑی اور پیچیدہ کارروائی کے لیے صرف ایک مہینے کا وقت کیوں دیا گیا؟ کیا کبھی بھی کروڑوں لوگوں سے ایسا کام ایک مہینے میں مکمل ہوا ہے؟ جب بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری، بغیر فارم اور دستاویزات، مکمل کرنے میں پانچ مہینے لگے، تو اب یہ معجزہ ایک مہینے میں کیسے ہو جائے گا؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یہ مانسون اور سیلاب کا مہینہ ہے؟ آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟

 

9. اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ فیصلہ جلد بازی یا کسی دباؤ میں لیا گیا، تو کیا آپ اب اپنی غلطی تسلیم نہیں کر سکتے؟ روز نئے بہانے کیوں بنائے جا رہے ہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ اس جائزے سے ڈپلیکیٹ ووٹروں کو ہٹانے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو پھر یہ کھوکھلے جواز کیوں؟ آپ کو کتنی شکایات ملی ہیں کہ بہار کی ووٹر لسٹ میں غیر قانونی غیر ملکی شامل ہیں؟ اگر نہیں ملی، تو پھر اسے بہانہ کیوں بنا رہے ہیں؟

 

10. 2003 میں بہار میں 4.96 کروڑ ووٹر تھے، جن میں سے ڈیڑھ کروڑ یا تو وفات پا چکے ہیں یا بہار چھوڑ چکے ہیں۔ پھر آپ بار بار یہ کیوں کہتے ہیں کہ ان 4.96 کروڑ افراد کو کوئی دستاویز نہیں دکھانا ہوگا؟ کیا یہ صریح جھوٹ نہیں؟ کیا جھوٹ بولنا آپ کو زیب دیتا ہے؟

 

11. پچھلے ایک ہفتے سے آپ روز ایسے جادوئی اعداد و شمار جاری کر رہے ہیں، جن پر لوگ ہنس رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بہار میں آدھے لوگوں کو فارم بھی نہیں ملے، اور آپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 36 فیصد لوگوں نے فارم بھر کر جمع بھی کر دیے! اگر یہ سچ ہے تو ان افراد کے نام جاری کیجیے، ورنہ یہ تو محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ سیدھی سی بات پوچھوں؟ کیا بابو، آپ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں؟

Comments are closed.