ایران پر حملے کی جرات پھر نہیں کی جا سکتی ہے
مشرف شمسی
میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ایران کو تباہ و برباد کر دینے کا مطلب ہے کہ امریکہ اور مغربی یورپ کا اگلا نشانہ چین بنے گا ۔اسلئے چین ایران کو برباد ہوتے دیکھ خاموش نہیں رھ سکتا ہے۔ساتھ ہی چین کی مغربی ایشیا میں اپنے مفاد ہیں ۔اُن مفاد کو پورا ہوتے رہنے کے لئے مغربی ایشیا میں ایران کا کھڑا رہنا ضروری ہے۔
ایران پر پھر اسرائیل اور امریکہ حملھ کرے گا تاکہ ایران کو گھٹنے پر لایا جا سکے اسے دیکھتے ہوئے چین نے صاف پوزیشن لیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملھ ہوا تو چین خاموش نہیں رہیگا۔اتنا ہی نہیں چین نے ایران کو ہوائی ڈیفنس سسٹم مہیّا کرائی ہے ایسی خبر ہے اس کے ساتھ ہی ففتھ جنریشن جنگی ہوائی جہاز بھی دے چکا ہے۔ اسرائیل ایران بارہ روزہ جنگ میں ایران کی فضا میں اسرائیل کا مکمل کنٹرول تھا۔اسرائیل جہاں چاہ رہا تھا بنا کسی خوف کے ایران کے اندر حملھ کر رہا تھا ۔حالانکہ ایران کی میزائل اسرائیل کے اندر آگ برسا رہی تھی ۔اسلئے بارہ روزہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کی پہلی کوشش یہی رہی کہ فضائی دفاعی نظام کو درست کیا جائے ۔ایران ایس 400 روس سے لینے کی کوشش ضرور کی لیکِن روس ایران کے ساتھ دوستی کے باوجود روس کے یہودیوں کے دباؤ میں ایران کو دفاعی میزائل نظام دینے سے منع کر دیا ۔لیکِن ایران روس کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے ایران کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس بات کی کھلے طور پر شکایت نہیں کی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روس اور امریکہ میں کسی قسم کی ڈیل ہوئی ہے کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی نظام سپلائی نہیں کریگا دوسری جانب روس ایران کو دفاعی اور جنگی جہاز نہیں فروخت کریگا۔لیکِن ایران نے چین سے جے 10 جنگی فضائیہ حاصل کر چکا ہے۔ساتھ ہی چین یمن کو بھی میزائل سپلائی میں مدد کر رہا ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو جرمنی کا ماڈرن جنگی جہاز یمن کو میزائل سپلائی کی نگرانی کر رہا تھا وہ جہاز حملھ کرنے والا ہی تھا کہ چین نے لیزر حملھ کر جرمنی کے جنگی جہاز کو گرانے کی کوشش کی ۔
ایران چین کی بدولت نہ صرف اپنی فضائیہ کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ دشمنوں کے فضائی حملے سے بچنے کے لئے اپنے دفاعی نظام کو بھی درست کر رہا ہے ۔اسلئے اسرائیل اور امریکہ پھر ایران پر حملھ کریگا اسکی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے ۔بھلے ہی اسرائیل شور مچاتا رہے کہ ہم ایران پر پھر حملھ کریں گے ۔
ایران – اسرائیل بارہ روزہ جنگ میں جس طرح سے اسرائیل کے نقصانات سخت میڈیا بندش کے باوجود باہر آ رہی ہے اس سے صاف ہے کہ کوئی سنکی حکمراں ہی ہوگا جو ایران پر پھر حملھ کریگا۔ہاں اسرائیل اپنی وجود مٹتا دیکھ ایران پر جوہری حملھ کر سکتا ہے ۔اسرائیل غزہ میں تقریباً دو سالہ جنگ سے تھک چکا ہے۔اسرائیلی فوجی حواس باختہ ہیں۔اسرائیل افواج کو اس جنگ سے کچھ بھی نتیجہ حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔یہاں تک کہ آئی ڈی ایف چیف نے صاف صاف وزیر اعظم نیتن یاھو سے کہا ہے کہ غزہ میں زیادہ دباؤ بڑھائیں گے تو اسرائیلی قیدی جو حماس کے پاس ہے اس سب کی جان خطرے میں پڑ جائے گی ۔
غزہ میں مسلسل نسل کشی سے دنیا میں ااسرائیل کے اتحادی اس کے خلاف ہو چکے ہیں ۔خود امریکہ انتظامیہ پر امریکی عوام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے ۔ایسے میں اسرائیل کے لئے امن کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نہیں ہے۔اسرائیل کا وجود اسی میں ہے کہ وہ دو ریاستی حل کو قبول کر لے اور فلسطینیوں کے ساتھ برابری اور امن کے ساتھ اپنے رشتے بنائے اور مستحکم کرے ۔اسرائیل اس خیال سے باہر آئے کہ وہ اب بھی مغربی ایشیا کا سپر پاور ہے ۔
غزہ کی نسل کشی سے مصر میں بھی بےچینی بڑھتی جارہی ہے ۔مصر میں اخوان المسلمین کے لوگوں کا دباؤ صدر السیسی پر بڑھتا جا رہا ہے ۔حالانکہ السیسی امریکہ کے بٹھائے ہوئے ہیں لیکِن وہ بھی عوام کا دباؤ برداشت کر سکیں گے یہ مشکل لگ رہا ہے ۔ لیکِن اسرائیل کے خلاف کچھ کرنے کی حالت میں اسلئے نہیں ہیں کہ مصر کے پاس جو ایف 16 اور رافیل ہیں اُنہیں اسرائیل کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں ہے ۔ساتھ ہی ان جنگی جہازوں کی پوری ٹیکنالوجی مصر کو ٹرانسفر نہیں کی گئی ہے۔اسلیے مصر روس اور چین سے ماڈرن جنگی جہاز خرید رہا ہے اور غزہ نسل کشی کچھ عرصہ اور نہیں رکی تو مصر کو مجبوراً اسرائیل کے خلاف جنگ میں آنا پڑےگا۔مصر پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اسرائیل اب پہلے جیسا طاقتور نہیں رھ گیا ہے۔مصر اپنی فضائیہ کو مضبوط کر اسرائیل کو شکست دے سکتا ہے ۔
اِدھر ترکیہ شام کے حالات سے پریشان ہے۔ایران – اسرائیل بارہ روزہ جنگ میں ترکیہ پر الزام لگ رہا ہے کہ اس نے اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے اپنے فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تو دوسری جانب ایران نے ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ دوران جنگ اہم انٹیلیجنس فراہم کی ۔اسرائیل کا ترکیہ کے ساتھ رشتے بگڑ رہے ہیں ۔نیتن یاھو اسرائیل کا وزیر اعظم بنا رہا تو غزہ میں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے ترکیہ کو ہدف بنا سکتا ہے ۔
مشرقی وسطیٰ کا چہرہ بدل رہا ہے۔اسرائیل کی طاقت کا ڈھول پھٹ چکا ہے۔اسرائیل کے پڑوسی ممالک جان چکے ہیں اسرائیل کی طاقت فضائیہ ہے۔اپنی فضائیہ مضبوط کر ا اسرائیل پر چڑھ دوڑا جا سکتا ہے۔اسرائیل اب بہت دنوں تک اپنی من مانی اپنے پڑوسیوyں کے ساتھ نہیں کر سکتا ہے۔اچھے بچّے کی طرح اسرائیل اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رشتے رکھتا ہے تو اس میں شاید ہی کسی کو اعتراض ہو لیکِن اب اسرائیل کی دھونس کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ساتھ ہی امریکہ اب دنیا کا تنہا سپر پاور بھی نہیں رھ گیا ہے۔جلد ہی غزہ میں جنگ بندی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ ایرانی راجدھانی تہران جا سکتے ہیں اور ٹرمپ اور ایرانی روحانی پیشوا علی خامنہ ای سے ملاقات کی تصویر دنیا دیکھے گی ۔۔
Comments are closed.