غزہ پر قابض اسرائیل کے مظالم کا 645واں دن: نسل کشی، قحط، دربدری جاری
بصیرت نیوز ڈیسک
غزہ کی سرزمین پر قابض اسرائیل کی مسلط کردہ اجتماعی نسل کشی آج اپنے 645ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ مسلسل بمباری، توپ خانے کی گھن گرج، قحط سے بلکتے بچے، اور بے گھر عوام کی چیخیں اس بدترین انسانی سانحے کی گواہی دے رہی ہیں۔ امریکہ کی سیاسی و عسکری سرپرستی، بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور مظلوموں کی امداد سے دستبرداری نے اسرائیلی درندگی کو بے لگام کر رکھا ہے۔
ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق قابض اسرائیلی افواج نے ہفتے کی صبح سے اب تک غزہ کے مختلف علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 33 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔
سمندر پر بھی پابندی، بھوک کا شکار ماہی گیر نشانہ بننے لگے
قابض افواج نے غزہ سے ملحقہ سمندری حدود پر بھی سکیورٹی کی آڑ میں مکمل پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ماہی گیروں، غوطہ خوروں اور ساحل کے قریب تیراکی کرنے والوں کو سمندر میں داخل ہونے سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔ ماہی گیر جو معمولی روزی کے لیے چند میٹر کے دائرے میں جال پھینکنے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں بھی گولی کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
رفح میں امدادی سامان کی راہ تکنے والے فلسطینیوں پر قابض اسرائیلی طیاروں نے بمباری کر کے 25 افراد کو شہید اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔ جنوبی خانیونس کے الشاکوش علاقے میں ہونے والی اس درندگی میں نہتے شہریوں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا۔
خانیونس میں قابض اسرائیل کے فضائی حملوں میں عمر محمد الاسطل اور عبدالعزیز الغلبان سمیت 13 فلسطینی شہید ہوئے۔ شہداء کی فہرست میں خواتین، بچے، اور عام شہری شامل ہیں:
احمد الغلبان – شیخ ناصر
ولید عاشور محمد بربخ – دوار ابو حمید
عبداللہ عمر علی الاسطل – الاتصالات
عبدالعزیز الغلبان – الاتصالات
جنان جمال القرا – شارع5
میرا عصام ابو جزر – انتہائی نگہداشت
احمد عبدالفتاح ابو سلیمہ – ہسپتال الخیر کے قریب
رانی محمد وشاح – ہسپتال الخیر
حسن عبد الرحمن جبر – ہسپتال الخیر
عبدالعزیز حسن المعنی – شیخ ناصر
یوسف محمد موسیٰ – انتہائی نگہداشت
حجازی ہانی اللحام – علاقے البلد
منیٰ عبداللہ الجلاد – شارع5
رفح کے مغربی حصے میں جبری طور پر بے دخل کیے گئے فلسطینیوں کی خیمہ بستیوں پر بمباری کی گئی۔ خانیونس کے وسطی علاقے میں کئی رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا۔ غزہ شہر کے مشرقی حصے میں شارع یافا اور دیگر علاقوں پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔
دیر البلح میں قابض اسرائیل نے ایک گھر پر بمباری کر کے صہیب القریناوی (رکن پارلیمان ہدیٰ نعیم کا بیٹا)، ان کی اہلیہ حدیل الور اور دو معصوم بچوں کو شہید کر دیا۔ یہ خاندان البریج کیمپ سے جبری طور پر بے دخل ہو کر دیر البلح میں پناہ گزین تھا۔
قابض اسرائیل کی درندگی تعلیمی اداروں، مساجد اور قبرستانوں تک پھیل چکی ہے۔ اب تک 149 سکول، جامعات اور تعلیمی مراکز مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ 369 کو جزوی نقصان پہنچا۔ 828 مساجد مکمل اور 167 جزوی طور پر شہید کی گئیں۔ غزہ کی 60 میں سے 19 قبریں بھی زمیں بوس کر دی گئیں۔
Comments are closed.