جامعہ عائشہ للبنات میں اشاعت دین اور خواتین اسلام کی ذمہ داری کے عنوان پر عظیم الشان نشست کا انعقاد
تعلیم و تربیت میں اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کام کریں: سلمان نسیم ندوی
پورنیہ (نمائندہ خصوصی) جامعہ عائشہ للبنات پورنیہ میں "اشاعت دین اور خواتین اسلام کی ذمہ داری” کے عنوان سے ایک اہم نشست منعقد ہوئی، جس میں شہر پورنیہ کی مختلف دینی اداروں کی معلمات نے بھرپور شرکت کی۔ اس بابرکت پروگرام میں شہر کے معروف علماء کرام بھی شریک رہے۔
نشست کا آغاز قاری ابو حنظلہ نائب امام مکی مسجد پورنیہ کی پُراثر تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مولانا شاداب نور ندوی فاؤنڈر سہارا فاؤنڈیشن پورنیہ نے پُرخلوص استقبالیہ کلمات پیش کیے۔
اس خصوصی نشست میں کلیدی خطاب معروف عالم دین حضرت مولانا سلمان نسیم ندوی دامت برکاتہم العالیہ استاد ادب وتفسیر دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے فرمایا۔ آپ نے اپنے خطاب میں اشاعت دین کے فریضہ کو خواتین کی ذمہ داریوں کے تناظر میں واضح انداز میں بیان کیا اور شرعی تعلیمات کی روشنی میں موجودہ دور میں خواتین کی اہمیت و کردار پر مدلل گفتگو کی۔ مولانا نے معلمات کو تلقین کی کہ وہ بچیوں کی تعلیم و تربیت میں اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔
نشست کے دوران سوال و جواب کا بھی مفید سلسلہ جاری رہا، جس میں معلمات نے مختلف دینی و تربیتی امور پر سوالات کیے اور علماء کرام نے تسلی بخش جوابات دیے۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء کو چند اہم امور کی تلقین کی گئی، جن میں وقت کی پابندی، قرآن کریم کی تجوید کے ساتھ تلاوت، سورتوں اور آیتوں کی الگ الگ مشق، اچھی تلاوت کی آواز میں قرآن سننا و سنانا، کلمہ طیبہ کی تعلیم، درودِ ابراہیمی کا ورد اور ان امور پر مجلس کی تمام خواتین کو عمل کی دعوت دینا شامل ہے۔
نظامت کی ذمہ داری مولانا ومفتی محمد انتخاب ندوی، ناظم تعلیمات مدرسہ خدیجۃ الکبری للبنات والبنین نے بحسن و خوبی انجام دی۔ اس موقع پر شہر کے ممتاز علماء کرام حضرت مولانا مبارک حسین مفتاحی، ناظم مدرسہ تحفظ القرآن حضرت گنج لائن بازار پورنیہ، مولانا مفتی احمد حسین قاسمی، جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ضلع پورنیہ، اور مولانا وحید الزماں، امام و خطیب جامع مسجد انجمن اسلامیہ خزانچی ہاٹ پورنیہ بھی موجود تھے۔
یہ پروگرام دینی، تعلیمی اور اصلاحی اعتبار سے نہایت کامیاب اور مؤثر ثابت ہوا، جس پر شرکاء نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔
Comments are closed.