خبر کی تلاش میں ضمیر کی موت
مسعود محبوب خان (ممبئی)
ایک زمانہ تھا جب دل کی بات زبان سے نکالنے اور اُسے کاغذ پر اُتارنے کے لئے علم و قلم کے کسی قابل فرد کی ضرورت پڑتی تھی۔ گاؤں کا وہ مڈل یا میٹرک پاس نوجوان، جو علم کی روشنی کا چراغ تھامے بیٹھا ہوتا، لوگوں کے جذبات، دکھ سکھ، پیغام اور خبریں قرطاس پر منتقل کرنے والا ایک خاموش سپاہی ہوتا۔ لوگ اُس کے پاس جاتے، اُسے دل کی باتیں سناتے، اور وہ اُن باتوں کو سادہ مگر مؤثر الفاظ میں لکھ کر اُن خطوط میں ڈھالتا جو کبھی محبت کے ترجمان ہوتے، کبھی کسی صدمے کی اطلاع، اور کبھی کسی شوق کی آرزو۔
پھر وہ خط، اُس پر چسپاں کیے گئے ٹکٹ، اور ڈاکیے کی مہر کے سپرد ہو جاتا۔ کئی دن، کبھی ہفتے، اور بعض اوقات مہینے گزر جاتے، تب جا کر وہ تحریر اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچتی۔ جواب کا انتظار ایک الگ آزمائش ہوتی، جس میں دن گنتے گنتے راتیں بیت جاتیں۔ اُس دور میں وقت جیسے تھم سا جاتا، جذبات خط میں بند ہو کر لمبے سفر پر روانہ ہوتے اور پھر امید کی دہلیز پر بیٹھے لوگوں کی آنکھیں راستہ تکتی رہتیں۔
ملک کے حالات، زمانے کی کروٹیں، اور دنیا کے واقعات لوگوں کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتے۔ معلومات کا سمندر تو موجود تھا، مگر اُس تک پہنچنے والی ندیوں کی روانی بہت دھیمی تھی۔ نہ اخبارات ہر دروازے پر آتے تھے، نہ ریڈیو ہر گھر کی زینت تھا۔ اکثر اوقات تو لوگ اپنے ہی گاؤں یا بستی میں پیش آنے والے واقعات سے بے خبر رہتے۔ وہ زندگی محدود ضرور تھی، مگر اُس میں سادگی، خلوص اور انتظار کا ایک الگ ذائقہ تھا! ایسا ذائقہ جو آج کی تیز رفتار دنیا میں مفقود ہو چکا ہے۔
یہ وہ دور تھا جب ہوا کے دوش پر اُڑتے الفاظ، ریڈیو کی لہروں میں سمیٹے جاتے تھے۔ لوگوں کو اگر وطن کے حالات و واقعات جاننے کی تڑپ ہوتی، تو وہ اپنے گھروں کے چھوٹے سے کمرے میں رکھے ایک سادہ سے ریڈیو کے گرد جمع ہو جاتے۔ ریڈیو نہ صرف خبروں کا ذریعہ تھا بلکہ اُس وقت کا سب سے معتبر اور قابلِ بھروسا وسیلہ بھی۔ وطن کے قیام کی پہلی صدائیں بھی انہی لہروں کے ذریعے لوگوں کے کانوں تک پہنچی تھیں۔ کبھی جوش سے لبریز اعلانات، کبھی نغموں میں لپٹی قومی امیدیں، اور کبھی سنجیدہ خبروں کی سنسناہٹ۔
پھر وقت نے کروٹ لی، اور ایک نئے مہمان نے دروازہ کھٹکھٹایا، ٹیلیویژن۔ جیسے ہی یہ روشنی بکھیرتا جادوئی آئینہ گھروں میں داخل ہوا، منظر نامہ بدلنے لگا۔ اب صرف آواز نہیں، تصویر بھی تھی۔ اب صرف سننا نہیں، دیکھنا بھی تھا۔ سرکاری ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے خبریں، ڈرامے، کھیلوں کی جھلکیاں، فلمی گیت، اور معلوماتی پروگرام انسان کی روزمرّہ زندگی میں رنگ بھرنے لگے۔ لوگوں نے اپنی مصروفیات کو ان پروگراموں کے اوقات کے مطابق ترتیب دینا شروع کر دیا۔ کوئی نو بجے کا خبرنامہ دیکھنے کے لیے کھانے کے وقت کو آگے پیچھے کرتا، کوئی ہفتہ وار ڈرامے کے لیے اپنی مجلس کو جلد ختم کرتا۔ ہر ہفتے، ہر دن کے ساتھ، انسان کا شیڈول بدلنے لگا۔ اب وقت، محض گھڑی کی سوئیوں کا محتاج نہ رہا، بلکہ ٹی وی کے پروگرامز کی رو کے ساتھ بہنے لگا۔
تعلیم نے بھی اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کیا۔ جب شعور بڑھا، تو نظریں ریڈیو اور ٹی وی سے آگے بڑھیں اور اخبار کی سیاہی میں چھپے لفظوں کو پڑھنے لگیں۔ پرنٹ میڈیا نے صبح کی چائے کے ساتھ اپنی جگہ بنا لی۔ اخبار کی مہک، اُس میں لپٹی سچائیاں، تجزیے، خبریں، اشتہارات، اور کالم، لوگوں کے اذہان کو وسعت دینے لگے۔ صبح کے وقت دروازے پر اخبار کے گرنے کی آواز ایک نئی بیداری کا اشارہ بن گئی۔ یوں، ذرائع ابلاغ نے رفتہ رفتہ انسان کے شعور، اس کے رہن سہن، اس کی مصروفیات، اور حتیٰ کہ اس کے احساسات تک کو نئی جہتوں سے آشنا کر دیا۔
یہ صدی، صدیٔ اطلاعات ہے! رفتار کی وہ دوڑ جس میں میڈیا سب سے آگے ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں معلومات کی روانی دریا کی مانند نہیں، بلکہ سیلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ انسان نے وقت کے پَر باندھے ہیں اور اُن پَروں کی ہوا کو سمت دینے والا سب سے طاقتور ذریعہ میڈیا ہے۔ میڈیا اب محض خبروں کا ذریعہ نہیں، بلکہ شعور کا آئینہ، معاشرت کا ترجمان، اور ترقی کی راہ پر چلتے انسان کی قوتِ پرواز بن چکا ہے۔
موجودہ دور میں میڈیا کو تین بڑے اور نمایاں ستونوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
❶ الیکٹرانک میڈیا: یہ وہ طلسماتی دنیا ہے جو تصویر، آواز، اور روشنی کو ایک ساتھ سموئے ہوئے ہے۔ ٹیلیویژن، کمپیوٹر، ریڈیو، اور موبائل جیسے جدید آلات نہ صرف ہمارے گرد موجود دنیا کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ بدلتی دنیا کو ہماری آنکھوں کے سامنے یوں بکھیر دیتے ہیں جیسے ہم خود اُس کا حصّہ ہوں۔ چاہے وہ نیوز چینل کی جھلک ہو، ریڈیو پر نشر ہوتا کوئی تجزیہ، یا موبائل اسکرین پر دوڑتی اپڈیٹس، الیکٹرانک میڈیا نے فاصلوں کو مٹا دیا ہے، وقت کو سکیڑ دیا ہے، اور دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں بدل دیا ہے۔
❷ پرنٹ میڈیا: سیاہی اور کاغذ کی اِس دنیا کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔ اگرچہ دورِ جدید میں اُس کی رفتار نسبتاً سست ہے، لیکن تاثیر میں آج بھی بھرپور ہے۔ اخبارات، میگزین، اور بلاگز جیسے ذرائع ایسے خزانے ہیں جہاں تحقیق، تجزیہ اور فکری گہرائی چھپی ہوتی ہے۔ ہر صبح کی چائے کے ساتھ اخبار کی خشبو اور اُس کے صفحات میں لپٹی حقیقتیں، آج بھی اہلِ فکر و دانش کا سرمایہ ہیں۔
❸ سوشل میڈیا: یہ نیا جہان ہے ایک ایسا افق جہاں ہر فرد ایک نیا در کھولتا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، اور دیگر پلیٹ فارمز نے لوگوں کو نہ صرف اطلاعات تک رسائی دی ہے بلکہ اُنہیں خود بھی خبر کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اب ہر شخص اپنی آواز رکھتا ہے، ہر واقعے پر اپنی رائے، اور ہر لمحے کو دنیا کے سامنے لانے کی طاقت۔
اس برق رفتار میڈیا نے زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جیسے ہی کوئی واقعہ پیش آتا ہے، چاہے وہ ملک کی سرحدوں پر کوئی کشیدگی ہو، کوئی سیاسی پیش رفت ہو، کوئی قدرتی آفت یا کھیل کا سنسنی خیز لمحہ خبریں پلک جھپکنے میں ہماری اسکرین پر موجود ہوتی ہیں۔ یہی نہیں، اب دیواروں کے پار بھی اطلاعات کی پرواز ممکن ہے۔ چاہے انسان قطب شمالی میں ہو یا صحرائے افریقہ میں، جدید ٹیکنالوجی نے اُسے لمحہ بہ لمحہ دنیا سے جوڑ رکھا ہے۔ یہ سب کچھ میڈیا کی آزادی، رسائی اور جدت کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جس نے دنیا کے نقشے کو صرف جغرافیائی نہیں، معلوماتی لحاظ سے بھی قریب کر دیا ہے۔ میڈیا اب محض خبر کا نام نہیں یہ احساس، آگہی، اور انسانی بیداری کا مظہر بن چکا ہے۔
میڈیا—وہ طاقتور ذریعہ جو کبھی روشنی کی مانند تھا، حق و صداقت کا علمبردار، معاشرتی بیداری کا ستون اور مظلوم کی آواز۔ ایک ایسا آئینہ جو سچ کو بے نقاب کرتا، جھوٹ کو شرمندہ کرتا، اور اہلِ قلم و اہلِ خبر کو حق گوئی کا محافظ بناتا۔ ایک وقت تھا جب اس پیشے سے وابستہ ہر فرد دیانت داری کا پیکر سمجھا جاتا، جب کسی تحریر کردہ کی تحریر سچائی کی مہک میں بھیگی ہوتی، جب ایک رپورٹر کی آواز میں خلوص کی جھلک سنائی دیتی، اور جب اینکر حضرات قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے تھے بے خوف، بے باک اور بے غرض۔
مگر وقت کی گرد، اور خواہشوں کی دھند نے اس شفاف آئینے پر داغ ڈال دیے۔ جہاں ایک طرف جدید ٹیکنالوجی نے پیغام رسانی کو انقلاب کی سطح تک پہنچا دیا کہ پیغام اب لمحوں میں سرحدوں، فاصلوں اور وقت کی دیواریں پھلانگ کر منزل تک پہنچتا ہے، وہیں دوسری جانب اسی برق رفتاری نے انسان کے ضمیر کو تھامنے کا وقت نہ دیا۔ میڈیا اب صرف اطلاعات کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ وہ ایک بازار بن چکا ہے جہاں خبر بکنے لگی ہے، اور سچائی مول تول کے بعد فروخت ہوتی ہے۔
یہ وہی میڈیا ہے، جو کبھی ضمیر کی آواز تھا، اور اب اکثر مواقع پر مخصوص مفادات کی زبان بولنے لگا ہے۔ لکھنے والے اب سچ نہیں، بیانیے لکھتے ہیں وہ بیانیے جن کی قیمت ہوتی ہے۔ تجزیہ نگار وہ رخ دکھاتے ہیں، جس میں اُن کا فائدہ چھپا ہو۔ اینکرز وہ سوال کرتے ہیں، جن کا اسکرپٹ کہیں اور تیار ہوتا ہے۔ اور یوں صحافت، جو کبھی عبادت کا درجہ رکھتی تھی، اب ایک کاروبار بن گئی ہے جس کا خریدار وہی ہے، جو سب سے بھاری قیمت دے۔
یہ سب اُس آزادی کا نتیجہ ہے، جو حدود سے آزاد ہو چکی ہے۔ کہتے ہیں، اگر روشنی بے سمت ہو جائے تو آنکھوں کو چکاچوند تو دیتی ہے، مگر سچ کا چہرہ دھندلا جاتا ہے۔ آج کا میڈیا اُسی بے سمت روشنی کی مثال بن گیا ہے۔ سچ کی چمک کہیں کہیں ہے، مگر دھند اتنی ہے کہ دیکھنے والے کو سمت کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ تاہم، اُمید ابھی باقی ہے۔ چند چراغ اب بھی جل رہے ہیں، کچھ قلم اب بھی صداقت سے روشن ہیں، اور کچھ آوازیں اب بھی حق کی نمائندہ ہیں۔ بس ضرورت ہے، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والی نظر کی، اور وہ شعور جو میڈیا کے شور میں حقیقت کی آواز کو پہچان سکے۔
جب آزادی بے لگام ہو جائے، تو وہ روشنی نہیں رہتی وہ شعلہ بن جاتی ہے جو نہ صرف دوسروں کو جلاتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی خاکستر کر دیتا ہے۔ آج کا میڈیا اسی بے لگامی کا شکار ہے۔ کبھی جو ادارہ حق و باطل میں فرق کرنے والا ترازو تھا، آج وہ خود ایک پلڑے میں بیٹھ گیا ہے وہ پلڑا جہاں نوٹ تولے جاتے ہیں، نہ کہ حقائق۔
آج میڈیا کی آزادیاں، جو کبھی انسان کے شعور کو بیدار کرنے کے لیے تھیں، اب مفاد پرستوں کے ہاتھوں گروی پڑی ہیں۔ کوئی بھی طاقتور فرد چاہے وہ کسی سیاسی جماعت کا صدر ہو، نمائندہ ہو یا چیئرمین اپنے مال و زر سے صحافیوں، تجزیہ کاروں اور اینکرز کو خرید سکتا ہے۔ اور جب ایک بار یہ سودا ہو جاتا ہے، تو پھر زبان سے نکلنے والے الفاظ اُس خریدار کے بنائے گئے ہوتے ہیں، نہ کہ حقیقت کے۔ ایسی صورت میں عوام وہی سنتی ہے جو سنایا جاتا ہے، اور سچ اُن تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ وہ حقائق کی دنیا سے یوں کٹ جاتے ہیں جیسے سچ کبھی اُن کا حق ہی نہ تھا۔
یہ ضمیر فروشی اب صرف چند افراد تک محدود نہیں رہی، بلکہ پورے کے پورے میڈیا چینلز اس مکروہ کاروبار کا حصّہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک شخص جو اقتدار میں آتا ہے، وہ پورے ادارے کو خرید لیتا ہے۔ پھر اس میڈیا ہاؤس کی اسکرین، اُس کے مفادات کی آئینہ دار بن جاتی ہے۔ جو کچھ وہ چاہے، وہی بولے، جو وہ دکھائے، وہی دکھایا جائے، یہی ادارے کی پالیسی بن جاتی ہے۔
ایسا ہی منظرنامہ پرنٹ میڈیا میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ اخبارات، جو کبھی نظریاتی رہنمائی کا ذریعہ تھے، آج مفاداتی کالموں سے بھرے پڑے ہیں۔ کالم نگار اور تحریر نگار اب کسی ایک خاص سیاسی جماعت کے ترجمان بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی تحریروں میں اب سچ کی تڑپ نہیں، بلکہ وفاداری کی جھلک ہوتی ہے، ایسی وفاداری جو ضمیر سے نہیں، مفاد سے جُڑی ہوتی ہے۔
اور اگر بات کی جائے سوشل میڈیا کی تو وہ ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں ہر کوئی اپنا جھنڈا اٹھائے پھرتا ہے، خواہ وہ جھنڈا سچائی کا ہو یا فریب کا۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ آج کی نوجوان نسل کی معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا ہی ہے۔ مگر افسوس کہ یہاں سچ کم اور سنسنی زیادہ ہے۔ جھوٹ یوں سجایا جاتا ہے کہ وہ حقیقت کا سا گمان دیتا ہے۔ افواہوں کا بازار گرم ہے، اور ان میں لپٹے زہر کو نوجوان خوشبو سمجھ کر سونگھتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی درجنوں ایپس نے اس نسل کو جہاں تیز خبریں دیں، وہیں اخلاقی زوال کی گہری کھائی میں بھی دھکیل دیا۔ فحاشی، بے حیائی، اور وقت کا ضیاع یہ سب اب ایک کلک کی دوری پر ہے۔ وہ نسل جو کبھی کتابوں کی خوشبو میں سانس لیتی تھی، اب ٹرینڈز، لائکس اور ویوز کی دنیا میں گم ہو چکی ہے۔ یہی وقت ہے جب ہمیں ایک بار پھر شعور کی طرف لوٹنا ہوگا۔ میڈیا کی طاقت کو سمجھنا ہوگا، اور سچ کو تلاش کرنا ہوگا۔ ورنہ ایک ایسا وقت آئے گا جب خبر ہوگی، لیکن حقیقت نہیں آواز ہوگی، مگر ضمیر خاموش ہوگا۔
رابطے انسان کی فطرت ہیں، رُوح کی پکار، دل کی ضرورت۔ ماضی کے سادہ دور میں جب نہ اسمارٹ فون تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ خبر کا طوفان، تب بھی لوگ ایک دوسرے سے جُڑے ہوتے تھے، مگر اُن کا رشتہ دل سے ہوتا تھا، زبان سے سچ بولتی تھی، اور نیت صاف، شفاف آئینے کی مانند ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بزرگ، جن کے پاس وقت کم اور وسائل محدود تھے، اُن کے پاس ایک خزانہ تھا "خلوص”۔ وہ جب ایک دوسرے سے ملتے، تو نظریں جھکتی نہ تھیں، دل چھپتے نہ تھے، اور باتوں میں مطلب نہیں ہوتا تھا۔ ان کے تعلقات میں حرارتِ محبت ہوتی تھی، اور اُن کی باتوں میں دعاؤں کا گُلاب کھلتا تھا۔ کوئی خط ہو یا ملاقات، ہر لفظ محبت کی مہر لیے ہوتا۔ اُن کے رابطے صرف جسمانی نہیں، روحانی ہوتے تھے۔
مگر آج… ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں میڈیا نے بظاہر ہمیں قریب کر دیا ہے، لیکن حقیقت میں دلوں کو دور کر دیا ہے۔ ہم اُس اسکرین کے سحر میں کھو گئے ہیں جہاں جھوٹ، فریب اور سنسنی خلوص کو روندتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ جہاں کبھی دل بولتا تھا، اب اسکرین بولتی ہے۔ جہاں کبھی نیت صاف ہوتی تھی، اب خبر خریدی ہوئی ہوتی ہے۔ جہاں تعلقات کبھی اعتماد سے پروئے جاتے تھے، اب میڈیا کے منفی اثرات نے اُنہیں شک، افواہوں اور فاصلوں کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔
ہم اب ایک دوسرے کی سچائی کو اپنی آنکھ سے نہیں، میڈیا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ وہ میڈیا جو اکثر کسی خاص ایجنڈے، کسی طاقتور کے مفاد، یا کسی مخصوص سوچ کی گرفت میں آ کر ہمیں وہی دکھاتا ہے جو وہ چاہتا ہے، نہ کہ جو حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے تعلقات میں وہ مٹھاس نہیں رہی، جو ماضی کے بزرگوں کے درمیان ہوا کرتی تھی۔ آج شک غالب ہے، خلوص معدوم ہے، اور ہر بات میں مطلب تلاش کیا جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم رابطے کے اس جدید وسیلے—میڈیا—کو بھی اُسی طرح پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں جیسے ہمارے بزرگ اپنی زبان، نیت اور دل کو صاف رکھتے تھے۔ ہمیں چاہیے کہ سچ کو تلاش کریں، جھوٹ سے بچیں، اور تعلقات کو ان آلات کے بجائے دلوں سے جوڑیں۔ تب ہی ہم اُس دنیا کو پا سکیں گے، جس میں رابطے صرف آسان نہیں، بلکہ خلوص سے بھرپور ہوں گے۔
صحافت محض ایک پیشہ نہیں، یہ ایک مقدّس امانت ہے۔ یہ وہ منصب ہے جس پر بیٹھنے والا حق گوئی کا پرچم بردار ہوتا ہے۔ اُس کے قلم کی سیاہی، سچائی کی روشنائی ہوتی ہے، اور اُس کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ایک ذمے داری کا ترجمان۔ صحافی وہ نگہبان ہوتا ہے جو سچ کے چراغ کو اندھیروں میں بھی روشن رکھتا ہے، چاہے طوفان کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو۔ ایسے میں اگر کوئی دشمن تلوار سونت کر اُس سے کہے کہ "جھوٹ بولو!” تو سچا صحافی اُس تلوار کے سامنے کٹ مرنے کو ترجیح دے، مگر جھوٹ نہ بولے۔ کیونکہ اُس کا اصل ہتھیار سچ ہوتا ہے، اُس کی اصل طاقت اُس کا ضمیر۔
مگر افسوس… جب قلم بکنے لگے، جب زبانیں ضمیر کے سودے میں شامل ہو جائیں، جب صحافت کا مقدس منبر بازارِ مفاد میں نیلام ہونے لگے، تو پھر نہ صرف الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں، بلکہ قوموں کی سمتیں بھی گم ہو جاتی ہیں۔ آج ہمارے ملک میں ایسے کئی نام نہاد صحافی، اینکرز، تجزیہ کار نظر آتے ہیں جنہوں نے صداقت کا تاج اتار کر سرمایہ پرستی کی زنجیروں کو پہن لیا ہے۔ وہ جو عوام کے لیے چراغِ راہ ہونا تھا، آج وہ خود اندھیرے پھیلانے کا سبب بن چکے ہیں۔ وہ جو حق و باطل میں فرق کی لکیر کھینچنے والے تھے، اب اُسی لکیر کو مٹا رہے ہیں۔ سچ کی جگہ سنسنی، تحقیق کی جگہ افواہیں، اور ضمیر کی جگہ ریٹنگز نے لے لی ہے۔
ایسا کیوں؟ کیا پیسے کی چمک، سچ کی روشنی سے زیادہ حسین ہو گئی ہے؟ کیا چند لمحوں کی شہرت، دائمی صداقت سے بہتر لگنے لگی ہے؟ کیا ایک انسان کا ضمیر اتنا سستا ہو گیا ہے کہ وہ بولی پر چڑھ جائے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو صرف صحافیوں کے نہیں، پوری قوم کے ضمیر پر دستک دے رہے ہیں۔ کیونکہ جب سچ چھن جاتا ہے، تو صرف ایک صحافی نہیں، پوری قوم اندھی ہو جاتی ہے۔ اگر صحافت بکے گی، تو انصاف بھی بکے گا، سیاست بھی بکے گی، اور پھر سچ بولنے والا ہر شخص تنہا کر دیا جائے گا۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ اہلِ قلم، اہلِ صحافت اپنے اندر جھانکیں اور سوچیں کہ وہ کس قافلے کے راہی ہیں؟ سچ کے؟ یا سودا بازی کے؟ ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی، نہ خدا، اور نہ وہ قوم جسے اندھیرے میں رکھا گیا۔
Comments are closed.