مطالعات سرسید کے حوالے سےسرسید اکیڈمی کی تین اہم کتابیں
سہیل انجم
سرسید اکیڈمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے سال 2024 میں مطالعات سرسید کے حوالے سے تین مونوگراف شائع کیے۔ یہ مونوگراف تین شہروںمرادآباد، میرٹھ اور بنارس میں قیام سرسید کی مختلف جہات کے مطالعے پر مرکوز ہیں۔ اول الذکر مونوگراف ”سرسید کا قیام مرادآباد“ کے مصنف راحت ابرار، ثانی الذکر ”سرسید کا قیام میرٹھ“ کے مصنف معصوم مرادآبادی اور ثالث الذکر ”سرسید کا قیام بنارس“ کے مصنف اسعد فیصل فاروقی ہیں۔ یہ کتابیں مطالعات سرسید کے حوالے سے، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر اور معروف سرسید شناس پروفیسر شافع قدوائی کے وژن کا حصہ ہیں۔ یو ںتوعلی گڑھ اور سرسید کے نام ایک دوسرے کے جزو لاینفک بن گئے ہیں لیکن سرسید نے اپنی زندگی کے متعدد سال دیگر شہروں میں بھی گزارے ہیں۔ ان کی انقلابی سوچ میں ان شہروں میں قیام کا بھی کردار رہا ہے۔ سرسید کے حوالے سے کافی کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن ان شہروں میں ان کے قیام کے بارے میں کوئی تحقیق کام نہیں کیا گیا۔ پروفیسر شافع قدوائی کے مطابق علی گڑھ میں مستقل قیام سے قبل وہ آگرہ، فتح پور سیکری، دہلی، روہتک، بجنور، مرادآباد، غازی پور، بنارس، کلکتہ، شملہ، الہ آباد اور نینی تال وغیرہ میں بھی رہے۔ وہ اول الذکر مونوگراف کے ”حرفے چند“ میں لکھتے ہیں: ”ان شہروں میں سرسید کے قیام کی نوعیت کیا تھی، ان کا قیام کہاں تھا، کن لوگوں سے ان کے مراسم تھے، ان کی سرکاری مصروفیات کیا تھیں اور ان مقامات پر رہ کر انھوں نے کون سے تحقیقی و تصنیفی کارنامے انجام دیے اس کی متعین اور تفصیلی صراحت سے مطالعات سرسید بڑی حد تک عاری ہیں۔ راقم الحروف نے سرسید اکیڈمی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد ان شہروں سے سرسید کے تعلق کی ممکنہ تمام جہات کا احاطہ کرنے کے لیے ایک موضوعی مقالہ (مونوگراف) لکھوانے کا منصوبہ بنایا۔“ یہ تینوں کتابیں اسی منصوبے کی عملی شکل ہیں۔
یوں تو یہ تینوں کتابیں اہم ہیں لیکن قیام مرادآباد کے دوران سرسید میں آنے والی انقلابی تبدیلیوں کے تعلق سے اول الذکر کتاب کہیں زیادہ اہم معلوم ہوتی ہے۔ راحت ابرار اپنے پیش گفتار میں لکھتے ہیں:”اپریل 1857 سے 1861 تک تقریباً ساڑھے تین سال مرادآباد میں قیام سرسید کی آئندہ زندگی کے لیے بہت ہی انقلابی ثابت ہوئے جہاں ان کے مذہبی، تعلیمی اور فلاحی اقدامات میں پہلی بار اہم موڑ آیا اور پہلی بار انھوں نے مجتہدانہ افکار و اعمال کی تخم ریزی شروع کی اور اسی شہر سے وہ اپنے ہم وطنوں کے لیے ایک نئی منزل کا نشان بھی بنے۔ علی گڑھ تحریک کے ابتدائی نقوش مرادآباد میں اور ان کے قائم کردہ فارسی پنچایتی مدرسہ میں ملتے رہے۔ یہیں 1861 میں ان کی رفیقہ حیات نے ان کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا اور انھوں نے اپنی چوالیس برس کی زندگی سے تجرد کی زندگی گزاری۔ یہی وہ شہر ہے جہاں انھوں نے اپنی پبلک لائف کا آغاز کیا اور پندرہ ہزار سے زائد افراد کو خطاب فرمایا اور اپنی تصنیفی سرگرمیوں سے مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا اور حکمراں طبقہ میں مسلمانوں کے تئیں رائے عامہ کو ہموار کیا“۔ گویا اگر ہم ان کے قیام مرادآباد کو علی گڑھ تحریک کا نقش آغاز قرار دیں تو غلط نہیں ہوگا۔
راحت ابرار نے سرسید کے قیام مرادآبادکے تعلق سے بعض محققین کی بعض باتوں سے اختلاف کیا ہے اور تحقیقی نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے ان اغلاط یا غلط فہمیوں کو درست کیا ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے متعدد حوالے بھی دیے ہیں۔ انھوں نے سرسید کے قیام مرادآباد کو علی گڑھ تحریک کی خشت اول قرار دیا۔ اس تعلق سے انھوں نے سرسید کے قائم کردہ تحصیلی مدرسہ کے بارے میں کافی تفصیلات پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق اس مدرسہ کے قیام سے سرسید کی دانش مندی، دوراندیشی اور بصیرت افروزی کا پتہ چلتا ہے اور اس مدرسہ کے لیے سرسید کا مرتبہ نصاب تعلیم ان کے مطلوبہ نوجوان کی سیرت پر روشنی ڈالتا ہے اور اس سے سرسید کے بارے میں پھیلی ہوئی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حکیم محمد حسین خاں شفا کی مرتبہ کتاب ”فقرات سرسید“ کا حوالہ دیا ہے۔ سرسید نے مدرسہ کے نصاب کے لیے فارسی میں ایک کتاب ”فقرات“ نام سے لکھی تھی۔ راحت ابرار نے اس کتاب کے بارے میں کچھ تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم سے متعلق سرسید کے ابتدائی بلکہ بنیادی خیالات و تصورات کو جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہوگا۔
”غالب: سرسید کے مہمان“ کے زیر عنوان مضمون کافی معلوماتی ہے۔ غالب انگریزوں کی ایجادات اور ان کی صلاحیتوں کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ ہندوستانی عوام ان کی عقل و دانش کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ہندوستانیوں کا مقابلہ ایک ایسی قوم سے ہے جو ایک بٹن دبا کر تاریک کمرے میں اجالا کر دیتی ہے۔ اس مضمون سے بھی پتہ چلتا ہے کہ غالب فاتح قوم یعنی انگریزوں کی صلاحیت اور بہتر کردار کے مداح تھے۔ راحت ابرار کے مطابق غالب اور سرسید کے خاندانی روابط تھے اور سرسید غالب سے غیر معمولی عقیدت رکھتے تھے۔ وہ واقعہ دلچسپ ہے جب غالب مرادآباد میں سرسید کے گھر مع ایک بوتل پہنچے اور بوتل کو ایسی جگہ رکھا جہاں سب کی نظر پڑے۔ لیکن سرسید نے اسے ایک محفوظ مقام پر رکھ دیا اورجب تک غالب نے جا کر دیکھ نہیں لیا کہ بوتل سلامت ہے یا نہیں چین سے نہیں بیٹھے۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے مزاج کے مطابق ایک ظریفانہ فقرہ بھی ادا کیا۔
اس کتاب میں مرادآباد میں سرسید کی تصانیف اور ان کے رفاہی کاموں کی بھی تفصیلات ہیں۔ انھوں نے بیٹی امینہ کی پیدائش اور دہلی میں انتقال، سرسید کی اہلیہ پارسا بیگم کا انتقال، پرنٹنگ پریس کی خریداری، گھر کی تلاشی، علی گڑھ تحریک کا اہم مرکز شوکت باغ، مرادآباد کے عطیہ دہندگان، بانی درسگاہ کے دور کے ممتاز اولڈ بوائزاور نادر و نایاب تصاویر کے زیر عنوان اہم تفصیلات پیش کی ہیں۔ تصاویر سمیت 129 صفحات کی یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے علی گڑھ تحریک کے خدوخال کے ابھرنے کے سلسلے میں قیام مرادآباد کے کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے اس کی ضخامت بڑھانے کے لیے غیر ضروری مواد سے پرہیز کیا ہے۔
سرسید کے قیام میرٹھ کے سلسلے میں معصوم مرادآبادی کے ذریعے تیار کیا جانے والا مونو گراف 117 صفحات پر مشتمل ہے۔ پروفیسر شافع قدوائی کے مطابق سرسید کے قیام میرٹھ کے بارے میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ سرسید کے سوانح نگاروں بشمول حالی اور افتخار عالم وغیرہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ خود سرسید نے بھی سیرت فریدیہ میں ضمناً ذکر کیا ہے۔ جبکہ معصوم مرادآبادی اپنے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ”میرٹھ میں پانچ ماہ کے قیام کے دوران ان کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ یہ عرصہ غم و الم اور بیماری میں گزرا۔ بعد میں جب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جدید تعلیم کی مہم شروع کی تو میرٹھ ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا“۔ انھوں نے میرٹھ میں سرسید کے قیام کی مدت پانچ ماہ لکھی ہے۔ جبکہ ان کے بقول افتخار عالم خاں (ماہر سرسید) نے یہ مدت تین ماہ لکھی ہے۔ سرسید کی والدہ کا انتقال میرٹھ میں ہوا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو وہ دور بقول معصوم مرادآبادی سرسید کے لیے بڑی آزمائش کا تھا۔ ان کی تدفین میرٹھ میں کہاں ہوئی، اس پر ابھی محققین میں اتفاق رائے نہیں ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے انیس احمد میرٹھی کا بیان نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس عالی نسب و حسب دختر ہندوستان کی آخری آرام گاہ میرٹھ میں کہاں ہے۔
کتاب کے مطابق سرید احمد خاں اور ان کی تعلیمی تحریک کا میرٹھ سے سرگرم تعلق رہا۔ اس بارے میں انھوں نے میرٹھ میں ان کے دوست اور متعلقین کا ”فرزندان میرٹھ“ کے زیر عنوان تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے الگ سے ایک مضمون ”میرٹھ میں شناسانِ سرسید“ کے عنوان سے لکھا ہے جس میں منشی الطاف حسین سرشتہ دار کمشنری میرٹھ، محمد بخش خاں صدر الصدور میرٹھ، منشی غلام نبی خاں خان بہادر، شیخ عبد الکریم رئیس لال کرتی میرٹھ، مفتی محمد صدیق وکیل و رئیس میرٹھ اور سید محمد میر رئیس دہلی وکیل عدالت دیوانی میرٹھ کے سلسلے میں تفصیلات پیش کی ہیں۔
کتاب میں میرٹھ میں کیے گئے سرسید کے دو خطبات بھی شامل کیے گئے ہیں جو ان کے قیام میرٹھ کے بعد کے ہیں۔ ان کا ماخذ خطبات سرسید مرتبہ محمد اسماعیل اور علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 22 مئی 1888 بحوالہ کلیات سرسید ہے۔ دونوں خطبات سولہ سولہ صفحات پر مشتمل ہیں۔ جن میں انھوں نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سی باتوں پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ ایک مضمون کا عنوان ہے ”سرسید اور ان کی پارٹی میرٹھ میں“۔ یہ مضمون دراصل 27 تا 30 دسمبر 1886 میرٹھ میں منعقد ہونے والے محمڈن اینگلو اورینٹل ایجوکیشنل کانفرنس کی روداد ہے۔ تقریباً 25 صفحات پر مشتمل یہ روداد کافی دلچسپ ہے۔ اسے کانفرنس کے ایک رکن رئیس میرٹھ کے حوالے سے شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب سرسید کے قیام میرٹھ اور اس کے احوال کو سمجھنے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔
تیسری کتاب سرسید کے قیام بنارس پر ہے اور اس کے مصنف اسعد فیصل فاروقی ہیں۔ چونکہ بنارس میں سرسید کا قیام مرادآباد اور میرٹھ میں ان کے قیام سے کہیں زیادہ ہے لہٰذا یہ کتاب اول الذکر دونوں کتب سے ضخیم یعنی 171 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا سائز بھی دونوں سے ذرا بڑا ہے۔ اس میں 1867 سے 1876 تک کے سرسید کے قیام کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ اسعد فیصل فاروقی تحقیقی مزاج رکھتے ہیں لہٰذا اس کتاب میں بھی انھوں نے تحقیقی نقطہ نظر اختیار کیا ہے۔ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں بنارس کے تہذیبی، ادبی اور تعلیمی پس منظر کو بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے باب میں سرسید کی بنارس میں پہلے دور کی ملازمت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ تیسرا باب بنارس میں سرسید کے قیام کی دوسری مدت پر مبنی ہے۔ مصنف کے مطابق اپنی ملازمت کے اس دور میں سرسید اپنے تعلیمی مقصد مجوزہ محمڈن کالج کے قیام کی تحریک میں حد سے زیادہ مشغول رہے۔ اس دوران کالج کا تمام کام وہ اپنے گھر سے کرتے رہے ہیں۔ بنارس کی معزز شخصیات نے اس سلسلے میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کے مطابق سرسید نے بنارس باسیوں کی بلا لحاظ مسلک و مذہب جو خدمات انجام دیں وہ کم ہی لوگوں نے کی ہیں اور ان کے بارے میں لوگوں کو واقفیت بھی نہیں ہے۔ وہ اظہار تاسف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بنارس کے بارے میں ان کے کاموں کو زیادہ توجہ نہیں مل سکی۔
مصنف نے اپنے مضامین میں ضمنی سرخیاں لگا کر مواد کو زیادہ واضح کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ سرسید کو بنارس آئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ عدالتوں میں اردو اور فارسی رسم الحظ کو ختم کیے جانے کا تنازع پیدا ہو گیا۔ ہندی کے متعدد اہل قلم اور بنارس انسٹی ٹیوٹ اور الہ آباد انسٹی ٹیوٹ نے اردو کی جگہ پر ہندی رسم الخط کو رائج کرنے پر زور دیا۔ اس سلسلے میں جب سرسید سے استفسار کیا گیا تو انھوں نے اردو کی بھرپور حمایت کی۔
تیسرا باب سرسید کے بنارس میں 1870 سے 1876 تک کے قیام کو محیط ہے۔ اس طویل مضمون میں بھی ضمنی سرخیاں لگائی گئی ہیں۔ اس میں بنارس میں ایک مسجد کے قضیہ اور اس سلسلے میں سرسید کی خدمات کو تحسین آمیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں اردو اخبارات میں جس انداز سے دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام لیا گیا اس پر اظہار افسوس کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق اس موقع پر سرسید مخالف پروپیگنڈہ بھی شروع کر دیا گیا۔ اس کے تدارک کے لیے جب علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نے کچھ لکھنا چاہا تو سرسید نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نے 26 مئی 1876 کے شمارے میں مسجد کے بارے میں تمام کاغذات و شواہد شائع کر دیے۔ مسلمانوں کے بعض حلقوں نے سرسید کے تعلیمی مشن کے خلاف جومہم چلائی تھی یہ بھی اسی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔
کتاب کے آخر میں ”بنارس میں سرسید کے شناسان“ کے تحت 17 شخصیات کا ذکر کیا ہے۔ اسعد فیصل فاروقی نے قیام بنارس کے سلسلے جو تفصیلات پیش کی ہیں وہ شواہد کی بنیاد پر ہیں۔ انھوں نے علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کی تمام فائلوں اور اخبارات و جرائد اور متعلقہ کتب کا گہرائی سے مطالعہ کرکے کتاب تیار کی ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مذکورہ شہروں میں سرسید کے قیام کے تعلق سے یہ تینوں کتابیں دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے لیے سرسید اکیڈمی اور اس کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی اور تینوں مصنفین قابل مبارکباد ہیں۔
موبائل: 9818195929
Comments are closed.