بوکھڑا میں شدید خشک سالی کے سبب نمازِ استسقاء ادا، ربِ کریم سے بارش کے لیے گڑگڑا کر دعائیں
مفتی شمس عالم، مولانا رضاء اللہ قاسمی اور حافظ شفاء اللہ نے توبہ، اصلاح اور فلاحِ عامہ کی اپیل کی
جالے:(محمد رفیع ساگر/بی این ایس)
بوکھڑا بلاک کے مختلف علاقوں میں بارش کی شدید قلت کے باعث جہاں انسانوں اور جانوروں پر پیاس کی مصیبت آ پڑی ہے، وہیں زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں، فصلیں سوکھنے کے دہانے پر ہیں اور کنویں و چانپہ (ہینڈپمپ) خشک ہو چکے ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر رحمتِ الٰہی کو متوجہ کرنے کے لیے پیر کو صبح 10 بجے مدرسہ کریمیہ بشارت العلوم، بوکھڑا میں نمازِ استسقاء نہایت خضوع و خشوع کے ساتھ ادا کی گئی۔
نماز کی امامت دارالعلوم بالاساتھ کے معروف عالم دین مفتی شمس عالم نے کی۔ انہوں نے اپنے پُراثر خطاب میں کہا کہ جب بندے اللہ سے رشتہ توڑ لیتے ہیں، گناہوں میں ڈوب جاتے ہیں، تو قدرتی آفات اُن پر مسلط کر دی جاتی ہیں۔ آج جو خشک سالی، بے برکتی اور قحط کی کیفیت ہم پر طاری ہے، وہ ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ ہم سے ناراض ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم سچے دل سے توبہ کریں، ایک دوسرے کا حق ادا کریں اور عبادات و اخلاق میں بہتری لائیں۔
مدرسہ کریمیہ بشارت العلوم کے ناظمِ تعلیمات مولانا رضاء اللہ قاسمی نے بھی موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ توبہ و استغفار ہے۔ ہمیں انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ناراض ضرور ہوتا ہے، مگر وہی سب سے بڑا غفار و رحیم ہے۔ بس ہم اخلاص کے ساتھ اُس کی طرف رجوع کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف نماز اور دعا کافی نہیں، جب تک ہم اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی نہ لائیں، حقوق العباد کو پامال کرتے رہیں، ظلم و زیادتی سے باز نہ آئیں، تب تک حقیقی فلاح ممکن نہیں۔
اس موقع پر تنظیم امارتِ شرعیہ کے بوکھڑا بلاک صدر حافظ شفاء اللہ نے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ بلا تفریق مذہب و ملت اپنے علاقے کے ہر پیاسے انسان اور جانور کی فکر کریں۔ پانی کا دانشمندانہ استعمال کریں اور دوسروں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ اللہ کا قہر اس وقت ٹلتا ہے جب انسانیت جاگتی ہے، جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ ہم سب مل کر توبہ، استغفار، خیرات اور ہمدردی کے ذریعے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔
نمازِ استسقاء میں بوکھڑا، جھٹکی، گرہول شریف اور اطراف کے دیگر گاؤں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس روحانی ماحول میں نماز کے بعد گڑگڑا کر دعائیں کی گئیں، کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نازل فرمائے، زمین کو سیراب کرے، اور انسانوں و جانوروں کو پیاس و قحط سے نجات عطا کرے۔
اس موقع پر حافظ اصغر، قاری مزمل حیات، انور (نمائندہ مکھیا بوکھڑا)، رستم، بوا، آلے، آفتاب، مولانا طہ مظاہری، مولانا عرفان، حافظ جاوید، حافظ فیضی، جیلانی، ماسٹر عقیل،عبداللہ صابری، ساجد، کیفی، مفتی سیماب، ماسٹر شرف عالم، مولانا حماد، حافظ سعید اشرفی، محمد گلاب، انوارل سمیت علاقے کے معززین شامل رہے۔
واضح رہے کہ بوکھڑا میں یہ نماز استسقاء کا سلسلہ 3 دنوں تک جاری رہے گا۔ پیر کے دن اس سلسلے کا پہلا دن تھا، جس میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی کے ساتھ دعائیں مانگیں۔
آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ ہم سب کو اپنی رحمت سے سیراب فرمائے، اور ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے۔
Comments are closed.