دارالعلوم صوت القرآن وترگام کا سالانہ اجلاس

 

الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر

جہاں دل جھوم اٹھے قلب مسرور ہوئے
نگاہیں نم ہوئیں علم کے موتی بکھیرے

اتوار کی صبح نماز و ناشتے سے فارغ ہوا تو یاد آیا مولانا جاوید احمد قاسمی صاحب کے مدرسہ دارلعلوم صوت القرآن وترگام میں آج جلسہ ہونے جارہا ہے ، جہاں وادی کے جید علماء و فضلاء کی آمد ہونے والی تھی سو برکت کی حصولیابی کے لئے میں بھی نکل گیا ،، اس ارادے سے کہ کچھ نہ کچھ فائدہ لازمی ہوگا ،،ساتھ میں ایک جذبہ عجیب سا دل میں ہمیشہ پنپتا رہا ہے کہ رفیع آباد کی ہر خوشی و مسرت کے مواقع پر حاضری لگاتا رہوں مجھے اس نام سے اس علاقے سے انتہاء درجے کی محبت ہے کیوں کہ یہ میرا مادری وطن ہے یہاں میرے آبا و اجداد کی یادگاریں ہیں ،، سو گھر سے بارہمولہ بارہمولہ سے ہندواڑہ کی گاڑی میں سوار ہوکر وترگام نامی اس بستی میں پہنچا،، اسٹیج پر علماء کی کہکشاں اور صف سامعین میں کافی لوگوں کا مجمعہ تھا میں نے دیکھا سامنے اسٹیج پر مولانا مفتی بشیر صاحب سادہ سلیس اور خوبصورت انداز میں تربیت اولاد والدین کی ذمہ داری اور اسلامی تعلیمات سے شناسائی پر گفتگو کر رہے تھے ،، میں صف سامعین میں بیٹھا پر کیا کیجئے رفیع آباد کے ہی ڈولی گنڈ کے مفتی ممتاز قاسمی کی نگاہ پڑی تو حکم کیا کہ اسٹیج پر آجائیں ممتاز صاحب ابھرتے ہوئے عالم ہیں کافی متحرک ہیں ایک ادارے کے بانی ہیں اور رابطہ مدارس کے ذمہ داراں میں سے ہیں ،،اب ایک اور عالم مفتی محمد رمضان عادل قاسمی نوپورہ سوپور مہتمم مدرسہ اسلامیہ عربیہ نوپورہ کلاں سوپور اٹھے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرے ہوئے شانے ابھرے ہوئے قد و کاٹھ اچھا خاصا سلجھے بال خوبصورت نگاہیں اور وجیہہ شکل و صورت نگاہوں میں جیسے ہزار ارمان مچل رہے ہوں کھڑے ہوکر انہوں نے ایک اور مبلغ مفتی غلام حسن بٹ القاسمی ربن کو دعوت دی ،، مفتی غلام حسن بٹ قاسمی صاحب دارلعلوم ہمدانیہ ہائگام کے مؤسس ہیں خطیب خوش لحان ہیں انہیں رب کریم نے آواز ایسی دی ہے کہ جب بولتے ہیں تو وجد طاری کر دیتے ہیں سامعیں پر ، انہیں بولنے کا ملکہ حاصل ہے ، انہیں الفاظ پر گرفت ہے یہ بولتے ہیں تو بولتے ہی جاتے ہیں اشعار والفاط کا ایسا سنگم بنا ڈالا ہی لوگ واہ واہی کرنے پر مجبور ہوگے آخر پر نعت نبوی ﷺ پڑھی تو پورا مجمعہ ساکت ہوکر ان کے وجود کو تکنے لگا پھر انہوں نے سامعین سے مدرسہ کے لئے تعاون کی اپیل کی تو لوگوں نے لبیک کی صدا بلند کرتے ہوئے امداد و اعانت میں دست تعاون بڑھایا اور خوب بڑھایا مفتی صاحب مسلسل انہیں تحریک دیتے رہے اور لوگوں نے بھی ان کی لاج رکھی ان کی گفتگو کا ماحصل حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کے مختلف گوشے کی عکاسی،، اصحاب نبویہ علیہ السلام کی تعظیم ، دور جدید کے فتنوں سے اپنی حفاظت کا طریقہ کار فضائل خلفاء راشدین، نوجوان نسل میں بڑھتا غیر اسلامی مزاج ،، اس گفتگو میں کبھی بلند آواز اور کبھی آواز مدھم تو کبھی پرسوز التجاء،،، ان کے بعد رونق اسٹیج ہوئے مفتی اعجاز الحسن بانڈی قاسمی،،، مفتی صاحب سوپور کے ہیں دارلعلوم سوپور سے علمی سفر شروع کیا اور ازہر ہند سے سند افتاء حاصل کی ،، پھر جامع روضة الصالحات کی بنیاد ڈالی سوپور میں پھر یہاں سے قلب کشمیر سرینگر میں براجماں ہوئے جہاں ان کی نگرانی میں ایک مدرسہ رواں دواں ہے قلم و کتاب کے شیدائی ہیں،،، ان کی گفتگو اصحاب نبوی علیہ السلام ہیں رہی ان کی گفتگو کے چند گوشے آپ کی نذر کرتا ہوں
_______ ______________
خلفائے راشدین
_____________________
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ رضی الله عنہ نے
بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی“، پھر مجھ سے سفینہ رضی الله عنہ نے کہا: ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت، عمر رضی الله عنہ کی خلافت، عثمان رضی الله عنہ کی خلافت اور علی رضی الله عنہ کی خلافت، شمار کرو ۱؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ رضی الله عنہ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟
کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بادشاہوں میں ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں عمر اور علی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ السنة 9 (4646، 4647) (تحفة الأشراف: 4480)، و مسند احمد (5/221)
مختصر وضاحت
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت دوسال تین مہینے اور دس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دس سال چھ مہینے اور آٹھ دن اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی گیارہ سال گیارہ مہینے اور نو دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چار سال نو مہینے اور سات دن اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تقریباً سات مہینے ہے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئےخود ہی خلافت سے دست برداری اختیار کرکے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہوگے اور یوں وہ اختلافات ختم ہوگئے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد قصاص عثمان کے مسئلے پر شروع ہوئے تھے جو بڑھتے بڑھتے باہمی جنگ اور خون یزی تک پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ 20 سال تک حاکم رہے انہوں نے اندرونی شورش اور بد امنی کو بھی ختم کیااور بیرونی طور پر ان جہادی سرگرمیوں کا بھی پھر سے آغاز کیا جن کا سلسلہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے منقطع ہوگیا تھا۔____حدیث میں جو خلافت نبوت کا دور جو صرف 30 سال بتلایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنے عرصے تک خلافت میں دنیوی اغراض ومقاصد اور شاہانہ شان و شوکت شامل نہیں ہوگی، لیکن اس کے بعد ان چیزوں کی کچھ آمیزش ہو جائے گی۔
یہاں تک وضاحت کرتے ہوئے فرمایا امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ یزید کو نہ ہی تابعی مانا جائے گا نہ نیک و پاکیزہ اوصاف کا مرکب ،، بات طویل نہ ہو اس لئے اختصار سے کام لے رہا ہوں اس کے بعد ایک نکتہ یہ بیان کیا کہ اصحاب رسول ؓ میں اھل بیت شامل ہیں لیکن اھل بیت میں بقیہ اصحابؓ شامل تصور نہیں کئے جائیں گے ،،،
______________________
فضائل و مناقب اھل بیت
_______________________
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی، یعنی: ’’آپ فرما دیں: آؤ! ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے۔‘‘ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، پھر فرمایا: یا اللہ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔‘‘
اس حدیث کو ’’حدیثِ کساء‘‘ کہا جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر (کساء) میں حضرت علی المرتضیٰ کرّمَ اللہ وَجْہَہ کو بھی لیا اور اہلِ بیت میں داخل فرمایا، کیونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں کے حکم میں ہیں، ان کی پرورش آغوشِ نبوت میں ہوئی، چنانچہ نصاریٰ نجران کے خلاف مباہلہ میں بھی اُن کو لے گئے۔ آیتِ مباہلہ میں ’’أَبْنَاءَ نَا‘‘کے الفاظ میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ داخل و شامل ہیں، جیسا کہ معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے۔
اہلِ بیت کی تیسری قسم وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اعزازی طور پر اپنے اہلِ بیت میں شامل فرمایا، جیسا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ:
’’سَلْمَانُ مِنَّا اَہْلَ الْبَیْتِ۔‘‘ (مستدرک حاکم) ’’سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘
خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ بیت اطہار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیویاں، آپ کی اولاد (تین بیٹے اور چار بیٹیاں) اور اولاد کی اولاد (پانچ نواسے اور تین نواسیاں) حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ اور دیگر وہ شخصیات شامل ہیں، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ بیت کے مفہوم میں داخل فرمایا۔ اہلِ بیت کا لفظ بولتے ہی ہمارا ذہن جو صرف خاندانِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف جاتا ہے، یہ تأثر غلط ہے اور غلط فہمی پر مبنی ہے، کیونکہ شیعہ مسلک کے نزدیک اہلِ بیت صرف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے گھرانے کے لوگ ہیں، لیکن اھل السنہ ازدواج مطہرات اور اولاد نبوی میں تمام بیٹیوں کو اھل بیت اطہار میں شمار کرتے ہیں اس لئے اس تصور سے نکلیں ،، اور ازدواج و اولاد کو پڑھیں یاد رکھیں یہ سب محترم ہیں امت کے لئے
’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم: اَحِبُّوْ اللہَ لِـمَا یَغْذُوْکُمْ مِنْ نِعَمِہٖ، وَاَحِبُّوْنِيْ بِحُبِّ اللہِ عزوجل وَاَحِبُّوْا اَہْلَ بَیْتِيْ لِحُبِّيْ۔‘‘ (جامع ترمذی)
’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائیں اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے سبب اور میری محبت کی وجہ سے اہلِ بیتؓ سے محبت کرو___۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ارْقُبُوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِہٖ۔‘‘ (صحیح بخاری:۳۷۱۳)
’’اہل بیتؓ کا اکرام و تعظیم کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال اور لحاظ رکھو۔‘‘
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’لکل شيء أساس و أساس الإسلام حب أصحاب رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم و حبّ أہل بیتہٖ۔‘‘ (کنزالعمال)
’’ ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی اَساس و بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت سے محبت کرنا ہے۔
مفتی اعجاز الحسن صاحب گلے کی تکلیف میں مبتلاء تھے پر ان کی یہ عالمانہ گفتگو ہم جیسے طلبہ کے لئے اکسیر تھی __ جس میں عظمت اھل بیت اطہار و اصحاب نبوی علیہ السلام پر مفصل و مدلل گفتگو کی موصوف نے اور سامعین نے استفادہ کیا اور خوب استفادہ کیا ان علمی تحقیقی نکات سے جو انہوں نے بیان فرمائے ہم نے ادب سے گزارش کردی یہ تسلسل سے جاری ہے جس پر مسکرا کر ہاں کردی اللہ تعالٰی سلامت رکھے _____
اس کے بعد وادی کشمیر کے نامور عالم دین اور دارلعلوم سوپور کے شیخ الحدیث مفتی مظفر حسین قاسمی کی بات ہوئی انہوں نے حصول علم میں کوشش ، علم کا ادب ، جستجوئے علم و فضل، ، پاکیزہ اوصاف اور نیکی کا جذبہ حصول علم میں معاون ،، گناہ علم و یادداشت دونوں کے لئے سم قاتل ،، اور حضرت موسی علیہ السلام و خضر علیہ السلام کے واقعے کے تناظر میں عالمانہ گفتگو کی پھر جلسہ اختتام دعا پر ہوا نماز کے بعد طعام جس کا انتظام مدرسہ کے منتظمین نے کیا تھا اس کے بعد واپسی ہوئی قاری اعجاز احمد کی معیت میں تھکاوٹ سے چور تھا پر أستاد مکرم حضرت مفتی عبدالرحیم الحسنی کے سانحے سے دوچار ہونے کا علم ہوا تو نگاہوں سے آنسوؤں کی برسات ہوئی مجھے مفتی صاحب سے قلبی انسیت ہے اللہ تعالٰی میرے استاد کی دستگیری فرمائے یہ سبب ہوا کہ میں دیر سے یہ چند گزارشات رکھ رہا ہوں دعا کریں کہ اللہ تعالٰی قدم قدم پر اپنی رحمتوں کا سہارا دے ہمیشہ ،،
فی امان اللہ
الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر۔🖊

Comments are closed.