مولانا سجاد نعمانی اور اقوام متحدہ میں تقریر
تحریر: اسماعیل کرخی
حال ہی میں سوشل میڈیا پر مولانا سجاد نعمانی صاحب کی ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی، جس میں وہ نہایت سادگی اور عاجزی کے ساتھ درج ذیل چار نکات بیان کرتے نظر آتے ہیں:
1. "میں نے کسی اسکول سے تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن اقوام متحدہ میں خطاب کر چکا ہوں۔”
2. "یورپ اور امریکا کی یونیورسٹیوں میں خطاب کر چکا ہوں۔”
3. "معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کر چکا ہوں۔”
4. "ایک یورپی ملک کے میئر کی دعوت پر تقریر کی۔”
یہ ویڈیو جہاں کئی لوگوں کے لیے باعثِ حیرت بنی، وہیں کچھ افراد کی جانب سے ان دعووں کی تصدیق یا تردید پر سوالات بھی اٹھائے گئے جو اپنی جگہ بلکل فطری ہے۔ چنانچہ ہم نے تحقیق کی غرض سے ان بیانات کا جائزہ لینے کی کوشش کی — صرف اس نیت سے کہ سچ واضح ہو اور مولانا کی عزت و نیت پر کوئی بلاوجہ سوال نہ اٹھایا جائے۔
انٹرنیٹ اور سرکاری ذرائع پر کی گئی تحقیق اور AI ٹیکنالوجی کی مدد سے جو معلومات حاصل ہوئیں، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
کیا مولانا سجاد نعمانی کو اقوام متحدہ میں تقریر کا موقع ملا؟
جواب: اقوام متحدہ کے رسمی ریکارڈز یا عوامی ذرائع میں مولانا کی کسی تقریر کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
کیا انہوں نے یورپ یا امریکہ کی یونیورسٹیوں یا عالمی اداروں میں خطاب کیا؟
جواب: کوئی مستند ثبوت یا ویڈیو موجود نہیں جو ان دعووں کی تصدیق کرے۔
کیا انہوں نے کسی ملک کی معیشت بہتر بنانے کے لیے تجویز دی؟
جواب: حکومتی یا عالمی سطح پر کوئی رسمی معاشی تجویز یا منصوبہ ان کے نام سے ریکارڈ پر نہیں، البتہ "رحمن فاؤنڈیشن” کے ذریعے وہ عوامی فلاح اور غربت مٹانے میں سرگرم ہیں۔
کیا کسی یورپی میئر نے انہیں تقریر کے لیے مدعو کیا؟
جواب: کسی میئر کی جانب سے رسمی دعوت یا اس تقریب کا کوئی عوامی ریکارڈ دستیاب نہیں۔
مولانا کی خدمات کا اعتراف
یہ تحقیق کسی تنقید کے لیے نہیں، بلکہ وضاحت اور فہم کے لیے ہے۔ مولانا سجاد نعمانی ایک باوقار، متوازن، درد دل رکھنے والے عالم دین ہیں۔ ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے:
وہ خانقاہی نظام کی اصل روح نوجوانوں تک پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے ہمیشہ مذہبی رواداری، تعلیم، خدمت خلق اور مسلم امہ کی اصلاح کی بات کی۔
انہوں نے بیماری کے باوجود اندرون و بیرون ملک امت کے مسائل پر گفتگو کی اور جرأتِ ایمانی سے موقف پیش کیا۔
ان کی "رحمن فاؤنڈیشن” آج بہت سے غریبوں کے لیے بہترین کام کر رہی ہے — تعلیم، صحت، راشن، کفالت اور تربیت کے میدان میں ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
کیا ممکنات کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟
اگرچہ تحقیق میں مذکورہ دعوے کے واضح ثبوت نہیں ملے، لیکن مندرجہ ذیل ممکنات کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا:
1. اقوام متحدہ کے کسی غیررسمی ذیلی فورم یا نمائندوں سے ملاقات میں مختصر گفتگو ہوئی ہو۔
2. یونیورسٹیوں میں موجود بھارتی طلبہ یا تنظیموں نے انہیں کسی سیمینار میں مدعو کیا ہو۔
3. کسی معاشی موضوع پر مولانا نے کوئی مضمون یا تحریر بھیجی ہو جو توجہ حاصل کر گئی ہو۔
4. میئر جیسے کسی عہدے دار سے کسی محفل یا ملاقات میں بات چیت ہوئی ہو جسے مولانا نے بطور “تقریر” کے بیان کیا ہو۔
مولانا سجاد نعمانی کی شخصیت، خدمات، اور علم و اخلاص کی روشنی میں ان سے بدگمانی کی گنجائش نہیں۔ اگر ان کے بیانات سے کوئی ابہام پیدا ہوا ہو، تو مناسب یہی ہے کہ سوالات احترام اور تحقیق کے ساتھ اٹھائے جائیں اور مولانا سے بھی مزید وضاحت طلب کریں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی عظیم شخصیات کی نیت اور خدمت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ سچائی کی تلاش اور بیان میں توازن اور تہذیب کو ہر حال میں برقرار رکھیں۔
Comments are closed.