کتابِ الہی کا بے لوث خادم اپنے رب کی بارگاہ میں

حضرت حافظ محمد عبد الغنی صاحب ؒ کی وفات حسرت آیات

بقلم: مفتی امداد الحق بختیار قاسمی

استاذ دار العلوم حیدرآباد

 

دنیا کے حالات بہت تیزی سے رو بہ زوال ہو رہے ہیں؛ کیوں کہ اللہ کے نیک بندے، دین کے بے لوث خدام، کتاب وسنت کے رمز شناس، تقوی وطہارت کی بے مثال شخصیات، اسلام اور شعائر اسلام کی سربلندی کے لیے قربانیاں دینے والے حضرات اور قرآن وحدیث کی تعلیمات کو عام کرنے والے بزرگان دین اور اکابرین امت بڑی تعداد میں اور بہت کم دورانیہ کے ساتھ دنیا کو الوداع کہہ رہے ہیں، ان کی رحلت سے امت کا جو خسارہ اور نقصان ہو رہا ہے، بظاہر اس کی تلافی نہیں ہو رہی ہے، عموماً ان کا بدل بھی میسر نہیں آتا؛ چہ جائیکہ نعم البدل مل سکے۔

آج پھر کتاب الہی کے ایک عاشق اور بے لوث خادم حضرت حافظ محمد عبد الغنی صاحب قدس سرہ ( ناظم مدرسہ عربیہ تحفیظ القرآن، تاڑبن، نزد زو پارک، حیدرآباد)کی وفات حسرت آیات پر ماحول سوگوار ہے، بہت سے دل مغموم ہیں، آنکھیں نم ہیں، عقل حیران ہے، ذہن و دماغ پر پژمردگی چھائی ہوئی ہے؛ کیوں کہ آج ایک صاحب بصیرت مربی، ایک کامیاب منتظم، ایک شفیق استاذ اور ایک درد مند دل رکھنے والے دین اسلام کے خادم ، دنیا کو الوداع کہہ کر ہمیشہ ہمیش کے لیے رخصت ہو چکے ہیں۔

17/ محرم الحرام 1447ھ مطابق 13/ جولائی 2025ء بروز اتوار ، صبح کی اولین ساعتوں میں حضرت حافظ محمد عبد الغنی صاحب رحمہ اللہ ، عبادت وریاض، تقوی و طہارت، اخلاص وللہیت اور خدمت قرآن سے لبریز اپنی 67 سالہ زندگی کی تمام ساعتیں پوری کر کے، اپنے رب حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون! میر عالم عید گاہ تاڑبن، حیدرآباد میں عوام و خواص کے ایک جم غفیر کے ساتھ آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، عید گاہ سے متصل قبرستان ہی میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

حافظ صاحب کو قرآن کریم سے وارفتگی، شیفتگی اور عشق ومحبت کی معراج حاصل تھی، زندگی کے آخری ایام تک ان کی زبان قرآن سے معطر رہتی، تلاوت قرآن کا بڑا اہتمام فرماتے، روزانہ دو پارے سنانا ،ان کی پوری زندگی کا معمول تھا، اس کام کے لیے وہ باقاعدہ کسی حافظ کو رکھتے تھے، رمضان المبارک میں تراویح سنانے کا معمول بھی ہمیشہ رہا، وہ حقیقی معنی میں محب قرآن اور عاشق قرآن تھے، امید ہے کہ زندگی بھر کی قرآن کے ساتھ ان کی رفاقت ، قبر اور میدان محشر میں بھی برقرار رہے گی۔ وما ذلك على الله بعزيز!

حضرت حافظ صاحبؒ بہت بافیض شخصیت تھے، شاید قرآن کے ساتھ ان کا عاشقانہ تعلق، اللہ تعالی کو پسند آیا اور پھر اللہ تعالی نے خدمت قرآن کے لیے ان کا انتخاب فرمایا ، اور ان کے ذریعہ اللہ تعالی نے سینکڑوں بچوں اور بچیوں کے سینوں کو حفظ قرآن کی دولت اور نور سے معمور فرمایا؛ چنانچہ اللہ عزوجل کی توفیق سے حافظ صاحبؒ نے 1994ء میں مدرسہ عربیہ تحفیظ القرآن کی بنیاد ڈالی، اور اس وقت سے لے کر اپنی حیات مستعار کے آخری سانس تک حافظ صاحبؒ نے اس ادارہ کی آبیاری کا حق ادا کر دیا، ادارہ کے تعلیمی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے معروف علماء کے بچوں اور بچیوں نے بڑی تعداد میں اس ادارہ سے کسبِ فیض کیا اور آج وہ خود شہر کے بڑے علما ءمیں شمار ہوتے ہیں، مکہ مسجد کے موجودہ امام صاحب نے بھی اسی ادارہ سے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے۔ اب تک سینکڑوں کی تعداد میں حفاظ اور حافظات اس ادارہ سے کسب فیض کر چکے ہیں، جو حضرت حافظ صاحب کے لیے ان شاء اللہ صدقہ جاریہ ہوں گے۔

مدرسہ میں ان کی خدمات اکابر کے دور کی یاد تازہ کرتی ہیں، وہ سب سے پہلے مدرسہ میں آتے اور سب سے اخیر میں مدرسہ سے جاتے تھے، پورے دن مدرسہ میں رہتے، مدرسہ کے ہر کام پر ان کی نگاہ رہتی ، اساتذہ اور طلبہ کی کارکردگی پر بھرپور توجہ رہتی تھی، طلبہ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے، وقت سے پہلے آنے والے اساتذہ کو تنخواہ سے الگ ماہانہ انعامی رقم بھی پیش کرتے تھے، طلبہ کا تعلیمی جائزہ لیتے رہتے تھے، ان کو بھی انعامات سے نوازتے، قرآنی مسابقات کے لیے طلبہ کو تیاری کرنے کی ترغیب دیتے، ان کا ہر کام منظم ہوتا، ادارہ میں فی الوقت 676طلبہ اور طالبات زیر تعلیم ہیں، تمام تعلیمی امور اطمینان بخش انداز میں پورے ہوتے۔

اسی کے ساتھ وہ سادگی، تواضع اور انکساری کی اعلی صفت اپنے اندر رکھتے تھے، ہمیشہ اپنے آپ کو چھوٹا ظاہر کرتے، اپنی خدمات کو لوگوں کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرتے؛ بلکہ ہمیشہ ان کو یہ کہتے سنا کہ ہمارا تو چھوٹا سا ادارہ ہے، اصل خدمات تو بڑے بڑے مدارس انجام دے رہیں، اپنے بارے میں بھی ہمیشہ کہتے کہ میں تو ایک معمولی آدمی ہوں، یہ تو اللہ تعالی کا کرم ہے کہ اس نے مجھے اس خدمت پر لگا دیا، علماء کا بہت احترام کرتے، جب کبھی حافظ صاحبؒ کے پاس ان کے ادارہ میں جانا ہوتا، بڑے اچھے انداز میں استقبال کرتے، بہترین ضیافت کرتے، چھوٹے چھوٹے بچوں کو بلا بلاکر قرآن سنواتے، دار العلوم دیوبند اور اکابر کا تذکرہ بڑی عقیدت کے ساتھ کرتے، دار العلوم کے صد سالہ اجلاس کی کچھ روداد بیان کرتے، کبھی کبھی اچانک احقر کے پاس ان کا فون آجاتا اور فرماتے: مولانا آپ سے ملنے کی خواہش ہے، کس وقت آجاؤں؟ میں اصرار کے ساتھ عرض کرتا کہ حضرت آپ کیوں زحمت فرما رہے ہیں، میں خود آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہوں؛ لیکن فرماتے: علماء کو تکلیف نہیں دینی چاہیے، علماء کے پاس خود جانا چاہیے۔ آج ان کی یہ باتیں اشک بار کر رہی ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

جب کبھی احقر کے پاس دار العلوم حیدرآباد تشریف لاتے، تو زیادہ تر علمی ، اصلاحی اور فکر آخرت کے موضوعات پر گفتگو ہوتی، ایک مرتبہ فرمایا کہ علماء کو جمعہ میں خطابت ضرور کرنی چاہیے، چاہے اس کا اکرامیہ ملے یا نہ ملے؛ بلکہ اگر پیسے دے کر بھی خطابت کرنے کا موقع ملے، تو ضرور یہ خدمت کرنی چاہیے، اس سے علماء کا فیض مزید عام ہوگا۔ ایک مرتبہ آخرت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے، اور جزاء و سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اللہ تعالی ایک ماں سے زیادہ بندے سے محبت کرتے ہیں، تو جب ماں کو اپنے بچے کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی ہے اور ماں سے ضد کر کے بچہ کچھ بھی منوالیتا ہے، تو میرا اللہ مجھے جہنم میں کیسے جلائے گا اور میں تو اپنے اللہ سے ضد کر کے معافی کروا لوں گا اور یہ کہہ کر ، وہ زار وقطار رونے لگے۔

اللہ کریم کی ذاتِ رحمت سے قوی امید ہے کہ اس نے اپنے بندہ کے ساتھ ان کے گمان کے مطابق ہی معاملہ کیا ہوگا!

Comments are closed.