نوجوانوں کا رہنمااور اسلام کا خادم:مولانا اشتیاق احمد لاری ندویؒ
ڈاکٹر سراج الدین ندوی
صدر کاروان ادب،بجنور
9897334419
ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔جس نے ماں کی آغوش میں آنکھ کھولی، اُسے ایک دن مٹی کی آغوش میں بھی اترنا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:۔”کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ، وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ“(الرحمٰن: 26-27)زمین پر جو کچھ ہے وہ فنا ہونے والا ہے، اور تمہارے رب کی جلال و عزت والی ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔موت اٹل حقیقت ہے، لیکن بعض وفاتیں صرف ایک جان کا چراغ بجھنے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک پورے عہد کے چراغاں کا خاتمہ ہوتی ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف اشخاص نہیں ہوتے، وہ ایک ادارہ، ایک تحریک، ایک فکر اور ایک کارواں ہوتے ہیں۔ ان کے جانے سے صرف ایک جگہ نہیں خالی ہوتی بلکہ پورا منظر بدل جاتا ہے۔ نعم البدل کی بات تو جانے دیجیے، ان کا بدل بھی صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ایسی ہی ایک نایاب ہستی 4 جولائی 2025 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔وہ جو اس فانی دنیا کو خیرباد کہہ کر دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئے،وہ کوئی عام انسان نہ تھے،وہ ایک عہد ساز شخصیت،ایک فعال علمی وجود،ایک مردِ درویش،اور ایک صاحبِ بصیرت راہنما تھے۔وہ فرد ہوکر بھی انجمن تھے، مجلس بھی تھے اور میرِ مجلس بھی۔ان کا وجود دلوں کو جیتنے والا، اذہان کو روشن کرنے والا، اور نسلوں کو سنوارنے والا تھا۔اب ہمیں ان کا ذکر مولانا اشتیاق احمد لاری ندوی رحمۃ اللہ علیہ کہہ کر کرنا ہے،یہ لاحقہ جو دل پر چوٹ بن کر گرتا ہے،آنکھوں کو نم اور روح کو سوگوار کر دیتا ہے۔
مولانا اشتیاق احمد لاری ندویؒ بلند قامت اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کی کشادہ پیشانی پر علم و حکمت کی ضیاء پاشی ہوتی تھی، اور بڑی بڑی آنکھوں میں دور اندیشی، فہم و فراست اور گہری بصیرت کی چمک نمایاں تھی۔ زبان سے لکھنوی تہذیب ٹپکتی تھی—نرم لہجہ، نپی تلی گفتگو، اور سلیقہ شعار طرزِ بیان۔ ان کی گفتگو سن کر دل میں احترام اور قربت کا جذبہ جاگ اٹھتا۔
وہ ہر شخص سے بے پناہ خلوص اور محبت سے پیش آتے، اور جو بھی اُن سے ملنے جاتا، ان کی پُرخلوص مہمان نوازی، شیریں کلامی اور گرم جوشی سے ایسا متاثر ہوتا کہ واپسی پر اُن کا گرویدہ بن کر لوٹتا، اور دوبارہ ملاقات کی آرزو دل میں لیے رہتا۔
میرے ندوہ میں تعلیم کے دوران مرحوم کے والد مولانا محب اللہ لاری ندویؒ عالمی شہرت یافتہ دانش گاہ ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم تھے۔مولانامحب اللہ لاری صاحب نہایت اصول پسند انسان تھے۔جس کی وجہ سے ندوہ کا نظم و ڈسپلن بہت چاق و چوبند تھا۔ظاہر ہے جو شخص ندوہ میں اصولوں کی پابندی کرتا تھا تو وہ گھر پر بے اصولا پن کیسے گوارا کرسکتا تھا،چنانچہ مولانا اشیاق احمد لاری ندوی ؒکی زندگی اورا ن کے عادات و اطوار سے معلوم ہوتا تھا کہ مہتمم صاحب گھر پر بھی اصول اور ڈسپلن کے پابند تھے،اس اصول پسندی کا عکس مرحوم میں صاف دیکھا جاسکتا تھا۔مولانا کی نششت و برخواست میں ہی نہیں،ان کی چال،ان کے لہجہ کے نشیب و فراز اور الفاظ و جمل کے استعمال میں ایک نظم تھا۔ان کی آواز میں شائستگی تھی۔وہ مخاطب کو سکون سے سنتے تھے،اس کو اپنی بات کہنے دیتے اور بعد میں کوئی جواب دیتے تھے۔ان کے اندر سمندر کی سی گہرائی تھی۔
میرا ان سے ایک تعلق تو استاذ زادہ بھائی کا تھا اس لیے کہ ہمارے مہتمم صاحب کے نور نظر تھے،ان سے دوسرا تعلق تحریکی بھائی تھا،ہم دونوں جماعت اسلامی کے رکن تھے۔ان سے میری کئی ملاقاتیں رہیں۔ندوہ میں تعلیم کے دوران ہی ان سے تعارف ہوگیا تھا۔ وہ مجھ سے عمر میں دس سال بڑے تھے۔جس وقت میں ندوہ میں داخل ہوا تھا وہ ندوہ سے فارغ ہوچکے تھے،لیکن وہ ندوہ آتے جاتے رہتے تھے۔اس کے علاوہ تحریکی اجتماعات میں ان سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا۔پھر ٹیلی فونک ملاقاتیں بھی رہیں۔میں نے اپنی کتاب ”جو اکثر یاد آتے ہیں حصہ اول“ میں ان کے والد یعنی مولانا محب اللہ لاری ندوی صاحب کی حیات و خدمات پر مضمون لکھا،اس ضمن میں بذریعہ فون ان سے استفادہ کیا۔
مرحوم کی ایک خوبی ان کی سادگی تھی۔وہ ایک علمی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے،بیرون ملک سعودی عرب میں بھی بطور ملازم کئی سال رہ چکے تھے،فیض عام انٹر کالج کانپور سے پینشن یافتہ تھے،جماعت اسلامی لکھنو کے امیر بھی رہ چکے تھے،اس کے باوجود ان میں تصنع بالکل نہیں تھا۔لباس صاف ستھرا ہوتا،اکثر شیروانی زیب تن فرماتے۔مجلس میں سب کے ساتھ بیٹھتے اور اجتماعی کاموں میں سب کے ساتھ کام کرتے تھے۔
ان کی ایک صفت خورد نوازی تھی۔ان سے ملاقات کرنے والوں میں اکثر نوجوان تھے۔وہ ان کی رنمائی کرتے،ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے تھے،مجھ سے دس سال بڑے ہونے کے باوجود اس طرح پیش آتے جیسے کہ میں ان سے بڑا ہوں۔
وہ ملت کے لیے دردمند دل رکھتے تھے۔امارت مقامی کے دوران ہر وقت لکھنو میں تحریک کے کاموں کی توسیع کے لیے فکر مند رہتے،سب سے مشاورت کرتے،نئے نئے منصوبہ بناتے،ان کے دور امارت میں تحریکی کاموں میں کافی پیش رفت ہوئی۔
مولانا اشتیاق احمد لاری ندوی ؒ ادیب اور شاعر بھی تھے۔انھوں نے قیام لار کے دوران ایک ماہنامہ لار بھی جاری کیا تھا جو لار چھوڑنے کے بعد جاری نہ رہ سکا۔انھوں نے ایک کتاب ”لارنامہ جدید“ بھی تحریر کی۔ان کی تحریر مدلل ہوتی،ادبی اعتبار سے بھی ان کامقام بلند ہوتا تھا۔شاعری میں ان کا تخلص ثانی تھا۔
مولانا اشتیاق احمد لاری ندوی ؒ 5 /جنوری 1942.میں قصبہ لار میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد ندوہ میں داخل ہوئے اور 1958میں ندوہ سے عالمیت کی سند حاصل کی۔1964میں لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان امیتیازی نمبرات سے پاس کیا۔1966میں اویس قرنی انٹر کالج لار میں مدرس ہوگئے،یہاں 1980 تک رہے،اس کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔1989میں فیض عام انٹر کالج کانپور میں تدریس کے لیے مقرر کیے گئے۔2004میں وہاں سے سبکدوش ہوئے اور مستقل لکھنو میں قیام پذیر ہوئے۔مرحوم کو اللہ نے ایک بیٹی اور سات بیٹے عطا کیے۔مرحوم کی اہلیہ جو نہایت متقی خاتون تھیں 2021میں داغ مفارقت دے گئی تھیں۔
مولانا اشتیاق احمد لاری ندویؒ اپنی کتاب لارنامہ کے صفحہ 23پر اپنے بارے میں ایک نظم لکھی ہے جس کے چند اشعار دج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
یہیں کا تو ثانی ابھرتا جواں ہے
جو راہ سخن میں رواں دواں ہے
یہاں اس کا کوئی مقابل کہاں ہے
کہ خوش فکرشاعروہ بیشک یہاں ہے
وہ ہے جادہ شعر میں جو روانہ
تو منزل پہ دیکھے گا اس کو زمانہ
انھوں نے ماہنامہ”سویرا“کے لیے بھی تعریفی نظم کہی،جس کے چند اشعار آپ بھی ملاحظہ کرلیجیے۔.
یہ اخبار اسلام کا ترجماں ہے
یہ اخبار ایمان کا ارمغان ہے
سویرا کی بڑھ کر رہے گی اشاعت
سویرا سے ہوتی ہے مذہب کی خدمت
سویرا ہے سرمایہ ہے قوم وملت
سویرا ہے کچھ نوجوانوں کی ہمت
جو ثانیؔ سا اس کو ملا ہے ایڈیٹر
تو معاون بھی اس کا ہے لائق سراسر
مختصر یہ کہ ملت کا یہ بہی خواہ،قوم کا ہمدرد،نوجوانوں کا رہنما،اسلام کا سچا خادم اور ادیب و شاعر 4/ جولائی کو اپنے مالک حقیقی سے جاملا۔انا للہ وانا الیہ راجعون(ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے)۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے،ان کی سئیات کو حسنات سے مبدل فرمائے،ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین
Comments are closed.