ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)
مشرق وسطیٰ کی تاریخ خون آلود تنازعات، سیاسی چالبازیوں اور جغرافیائی کشمکش کی ایک ایسی دلدوز داستان ہے، جس کے قلب میں اسرائیل ایک ظالم، قابض اور جارح قوت کے طور پر کھڑا ہے۔ 1948 میں اپنے قیام سے لے کر 2025 تک، صیہونیت کے علم برداروں نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی ناقابل تسخیر طاقت کے طور پر پیش کیا، لیکن اس کی ہر جنگ، ہر جارحیت اور ہر ظالمانہ کارروائی اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ اس کی طاقت کا اصل سرچشمہ امریکی اور یورپی امداد کی زنجیریں ہیں۔ جب بھی اسرائیل میدان جنگ میں لڑکھڑاتا ہے یا اس کی مقبوضہ پالیسیاں خطرے میں پڑتی ہیں، وہ بے شرمی اور ڈھٹائی سے مغرب کے دروازوں پر دستک دیتا ہے اور امداد کی فریاد بلند کرتا ہے۔ یہ مضمون فلسطین کی سرزمین پر صیہونی مظالم اور اس کی مغربی سرپرستی کی سیاہ داستان کو بے نقاب کرتا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل کی نام نہاد بالادستی اس کی اپنی صلاحیتوں پر نہیں، بلکہ مغربی ہتھیاروں اور سفارتی ڈھال پر استوار ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست کی کہانی ہے جو اپنی طاقت کے زعم میں ڈوبی ہوئی ہے، لیکن جب جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو مغرب کی گود میں پناہ مانگتی ہے۔
اسرائیل کا قیام 14 مئی 1948 کو اس وقت عمل میں آیا جب برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے کے بعد تل ابیب میں ایک نئی یہودی ریاست کا اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان 1917 کے بالفور ڈیکلریشن کی بدولت ممکن ہوا، جس میں برطانیہ نے فلسطین کی سرزمین پر یہودی وطن کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ فلسطینیوں کی سرزمین پر صیہونی قبضے کی بنیاد بنا۔ 1948 کی عرب-اسرائیل جنگ، جسے صیہونی "جنگ آزادی” کہتے ہیں، اس جارحیت کا پہلا مظہر تھی۔ مصر، اردن، شام، لبنان اور عراق کی افواج نے اس نو زائیدہ ریاست کے خلاف حملہ کیا، لیکن صیہونی قوتوں نے مغربی ہتھیاروں اور مالی امداد کے بل بوتے پر نہ صرف جنگ جیتی بلکہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر کے دس لاکھ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا۔ یہ جنگ فلسطینیوں کے لیے "نکبہ” یا تباہی کا آغاز تھی، جو صیہونی جارحیت اور مغربی حمایت کا نتیجہ تھی۔ امریکی اور یورپی ہتھیاروں نے صیہونی افواج کو عرب فوجوں پر برتری دی، لیکن یہ فتح صیہونی طاقت سے زیادہ مغربی سرپرستی کا ثبوت تھی۔
1967 کی چھ روزہ جنگ نے صیہونیت کی جارحانہ ہوس کو نئی بلندی عطا کی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف اچانک حملے کر کے سینائی، غزہ، مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ صیہونی پروپیگنڈا اسے اسرائیل کی فوجی طاقت کا مظہر پیش کرتا ہے، لیکن اس کے پیچھے امریکی اور فرانسیسی ہتھیاروں کا ہاتھ تھا۔ امریکی ایف-4 فینٹم جہازوں اور فرانسیسی میراج طیاروں نے صیہونی فضائی برتری کو یقینی بنایا، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی سفارتی حمایت نے صیہونی جارحیت کے خلاف قراردادوں کو روک کر اسے اپنا ظلم جاری رکھنے کی اجازت دی۔ یہ جنگ فلسطینیوں اور عرب ممالک کے لیے ایک اور زخم ثابت ہوئی، جو صیہونیت کی مغرب نواز پالیسیوں کا نتیجہ تھی۔
1973 کی یوم کپور جنگ صیہونی افواج کے لیے ایک غیر متوقع صدمہ تھی۔ مصر اور شام نے اچانک حملہ کیا، اور صیہونی فوج کو ابتدائی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ نے صیہونی دفاع کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، اور اسرائیل نے فوری طور پر امریکی امداد کی فریاد کی۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے آپریشن نکل گراس کے تحت اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے، جن میں ٹینک، جنگی جہاز اور گائیڈڈ میزائل شامل تھے۔ اس امداد نے صیہونی افواج کو جنگ میں واپس آنے اور عرب افواج کو پسپا کرنے کی طاقت دی۔ اس جنگ میں سوویت یونین نے عرب ممالک کی حمایت کی، لیکن امریکی امداد نے صیہونی افواج کو فتح یاب کیا۔ یہ واقعہ صیہونی طاقت کے دعوؤں کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اس کی ہر بڑی جنگ مغربی امداد کے بغیر ادھوری ہے۔
1982 میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تاکہ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کو ختم کیا جا سکے۔ اس جنگ میں صیہونی افواج نے امریکی ہتھیاروں، جیسے کہ ایف-16 جہازوں اور کلسٹر بموں، کا بے دریغ استعمال کیا۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کی انتظامیہ نے نہ صرف فوجی امداد فراہم کی بلکہ سفارتی طور پر بھی صیہونی جارحیت کی پشت پناہی کی۔ صبرا اور شتیلا کے قتل عام جیسے انسانیت سوز واقعات نے صیہونی افواج کو عالمی سطح پر بدنام کیا، لیکن امریکی حمایت نے انہیں تنقید سے بچایا۔ اسی طرح، 2006 کی اسرائیل-حزب اللہ جنگ میں حزب اللہ کے گوریلا جنگجوؤں نے صیہونی فوج کو سخت مزاحمت دی۔ اسرائیل کو ایک بار پھر امریکی ہتھیاروں اور سفارتی حمایت کی ضرورت پڑی۔ اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو امریکی ویٹو نے روکا، جس نے صیہونی جارحیت کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔ یہ تنازعات صیہونیت کی مغربی انحصاریت کی کھلی کتاب ہیں، جو اس کی فوجی ناکامیوں کو امریکی ڈھال سے چھپاتی ہے۔
غزہ کی جنگوں نے صیہونی ظلم کی سیاہ داستان کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔ 2008، 2012، 2014 اور 2023 کی جنگوں میں اسرائیل نے فلسطینی گروہوں، بالخصوص حماس، کے خلاف بے رحم بمباری کی۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے، جس میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 250 یرغمالی بنائے گئے، کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن حملے کیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، ان حملوں میں 58,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ امریکی امداد نے صیہونی آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم کو مضبوط کیا، اور اقوام متحدہ میں امریکی ویٹو نے جنگ بندی کی قراردادوں کو روک کر صیہونی جارحیت کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔ یہ جنگ فلسطینیوں کے لیے ایک اور نکبہ تھی، جو صیہونی ظلم اور امریکی حمایت کا نتیجہ تھی۔ صیہونی افواج کی یہ جارحیت ان کی فوجی طاقت سے زیادہ امریکی ہتھیاروں اور سفارتی ڈھال کی بدولت ممکن ہوئی۔
2024 اور 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعات نے صیہونی جارحیت کو نئی شکل دی۔ اپریل 2024 میں اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے 13 اپریل کو اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ امریکی فضائیہ اور اس کے اتحادیوں نے صیہونی دفاع میں مداخلت کی اور ایرانی حملوں کو ناکام بنایا۔ جون 2025 تک، جب ایران-اسرائیل تنازعہ عروج پر پہنچا، اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے تل ابیب اور دیگر شہروں کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال میں صیہونی قوتوں نے ایک بار پھر امریکی مدد مانگی، اور امریکی فوج نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کر کے اسرائیل کو بچایا۔ یہ واقعات صیہونی جارحیت اور اس کی امریکی انحصاریت کی واضح مثال ہیں۔
بنجمن نیتن یاہو، جو 1996 سے کئی ادوار میں اسرائیل کے وزیراعظم رہے، صیہونی پالیسیوں کے علم بردار بن کر ابھرے۔ ان کی جارحانہ پالیسیوں نے خطے میں تناؤ کو بڑھایا، لیکن ان کی کامیابی امریکی حمایت پر منحصر رہی۔ ایران کے خلاف ان کی مہم جوئی نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، لیکن امریکی مداخلت نے صیہونی افواج کو بچایا۔ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے فلسطینیوں پر ظلم کو بڑھایا اور ابراہم معاہدات جیسے اقدامات کے ذریعے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچایا۔ ان کی قیادت میں صیہونیت ایک ایسی طاقت بن گئی جو اپنی فوجی بالادستی کے زعم میں ڈوبی ہوئی ہے، لیکن حقیقت میں مغربی امداد کی محتاج ہے۔
اسرائیل کی تاریخ کا تنقیدی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ صیہونی فوجی کامیابیوں کا اصل سرچشمہ مغربی امداد ہے۔ 2016 کے اوباما معاہدے کے تحت اسرائیل کو 2017 سے 2028 تک 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد مل رہی ہے، جو اس کی فوجی طاقت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ امریکی ویٹو نے اقوام متحدہ میں صیہونی جارحیت کے خلاف قراردادوں کو بارہا روکا، جس نے اسے فلسطینی علاقوں پر قبضے اور ظلم کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔ صیہونی افواج کی جغرافیائی کمزوری، جیسے کہ چھوٹا رقبہ اور دشمن ممالک سے گھرا ہونا، اسے مغربی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کی فوجی کارروائیاں، جیسے کہ غزہ میں بمباری یا ایران کے خلاف حملے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات عائد کیے ہیں، لیکن امریکی حمایت نے اسے ان الزامات سے بچایا۔
اسرائیل کی تاریخ، 1948 سے 2025 تک، صیہونیت کے علم برداروں کی مغربی انحصاریت کی داستان ہے۔ چاہے 1967 کی چھ روزہ جنگ ہو، 1973 کی یوم کپور جنگ ہو، یا 2023-2025 کی غزہ اور ایران کے تنازعات، اسرائیل نے ہر مشکل حالات میں مغرب سے امداد مانگی۔ نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کی وجہ ہیں، لیکن ان کی کامیابی امریکی ہتھیاروں اور سفارتی ڈھال پر منحصر ہے۔ اگر صیہونیت کے علم بردار واقعی مشرق وسطیٰ کے سپر پاور ہیں، تو وہ بار بار مغربی امداد کی فریاد کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب ان کی تاریخ میں واضح ہے: صیہونی طاقت ان کے اپنے وسائل سے نہیں، بلکہ مغربی سرپرستی سے وجود میں آتی ہے۔ اس انحصار نے فلسطینیوں پر ظلم کو بڑھایا اور خطے میں امن کے امکانات کو دھندلا دیا۔ اگر مستقبل میں امریکی امداد کم ہوئی تو صیہونی جارحیت کا تسلسل خطرے میں پڑ سکتا ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک نئی امید ہو سکتی ہے۔
Comments are closed.