غزہ میں نسل کشی جاری، شہداء کی تعداد 58 ہزار سے تجاوز کر گئی
بصیرت نیوز ڈیسک
قابض اسرائیل کے وحشیانہ اور بے رحم حملوں نے غزہ کی سرزمین کو ایک بار پھر انسانی خون سے سرخ کر دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 120 فلسطینی شہید ہوئے جن میں تین ایسے شہداء بھی شامل ہیں جن کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں، جبکہ 557 افراد شدید زخمی ہوئے۔
وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 58,386 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 139,077 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ہولناک اعداد و شمار 7 اکتوبر سنہ2023ء سے جاری اس بے رحم اور بے ضمیر نسل کشی کا مظہر ہیں، جو قابض اسرائیل نے فلسطینی قوم کے خلاف شروع کر رکھی ہے۔
وزارت صحت نے مزید بتایا کہ اب بھی درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا سڑکوں پر تڑپ رہے ہیں، جن تک ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں شدید بمباری کے باعث پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ ان کے لیے موت کا پیغام بن رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ عدالتی کمیٹی برائے لاپتہ افراد اور شہداء کی توثیق کے بعد مزید 240 شہداء کو سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، جن کے کوائف مکمل ہونے کے بعد انہیں تسلیم کیا گیا۔
محض 18 مارچ سنہ2025ء سے اب تک 7,568 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 27,036 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثریت خواتین، بچے اور بزرگوں کی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران امدادی قافلوں کے ہمراہ داخل ہونے والے شہداء کی تعداد 5 رہی، جبکہ زخمیوں کی تعداد 143 سے تجاوز کر گئی۔ ان قافلوں کو قابض اسرائیل کی طرف سے بارہا روکا گیا، نشانہ بنایا گیا، اور راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
اس کے علاوہ، روزگار کی تلاش میں نکلنے والے مظلوم فلسطینیوں پر بھی کوئی رحم نہ کیا گیا۔ اب تک "لقمہءِ عیش” کی تلاش میں شہید ہونے والوں کی تعداد 838 ہو چکی ہے، جب کہ 5,575 افراد زخمی ہوئے۔ یہ وہ مظلوم ہیں جو اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لیے نکلے تھے، مگر موت ان کا مقدر بنی۔
Comments are closed.