کانوڑ یاترا کا پانی اب سر سے اوپر ہوچکا
ڈاکٹر سلیم خان
ساون کا مہینہ اور کانوڈ یاترا ایک زمانے میں یہ ہندو عقیدت و عبادت کا معاملہ تھی مگر اب سیاست اور غنڈہ گردی کی علامت بن چکی ہے۔ اس سال ساون سے دس دن قبل سوامی یشویر جس پر دس سال قبل این ایس اے لگ چکا ہے اعلان کرتا ہے کہ اس کے پانچ سو رضاکار نما غنڈےیاترا کے راستوں پر ہوٹلوں کے مالک کی جانچ کریں گے۔ یہ تو سرکار کا کام ہےلیکن بہت جلدمعاملہ مالک سے ملازمین تک پہنچ گیا اور تفتیش کے لیے پتلون کھلنے لگی ۔ سوچنے والی بات یہ ہے شک کی بنیاد پر اس طرح جانچ میں ہندووں کو بھی برہنہ کرکے انہیں ہندو ہونے کا سرٹیفکیٹ اور مسلمان نکلنے پر معتوب کیا جائے گا ۔ ہوٹل کا مالک ہندو ہوتو اس میں ملازم کا کیا قصورَ؟ سزا تو مالک کو ملنی چاہیے نیز اگر کوئی مسلمان کسی کانوڈ کو کھانا لاکر دے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ حیرت ہے کہ لوگوں کو برہنہ کرکے ان کی جانچ کرنے والے عقیدتمند پاک رہتےہیں ۔ ویسے کمبھ میلے میں ننگ دھڑنگ ناگا باباوں کے احترام نے ساری دنیا کو بتا دیا کہ ان کے نزدیک شرم و حیا کا کیا تصور ہے؟ لیکن ساری دنیا تو بے حیا نہیں ہے ۔کانوڈ یوں کا الزام ہے کہ مسلمان کھانے میں تھوک کر یا پیشاب کرکے دیتے ہیں ۔ سوال یہ ہے ایسا صرف ساون میں کیوں کیا جاتا ہے ؟
سال بھر یہ لوگ مسلمانوں کی دوکانوں سے سامان خریدتے ہیں اور ملک بھر میں ساون کے دوران بھی یہ ہوتا ہے ویسےکون پاگل دوکان دار اپنے گاہکوں کو اس طرح ناراض کرسکتا ہے۔ مسلمان تو پیشاب کو نجس سمجھتا ہے۔ اس کا قطرہ بھی جسم یا کپڑے سے لگ جائے تو اسے دھوئے بغیر چین سے نہیں بیٹھتا جبکہ الزام لگانے والوں کے پنچ امرت پرشادمیں دودھ، دہی ، گھی کے ساتھ گائے کا گوبر اور پیشاب بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ لوگ کورونا سے بچنے کے لیے گوبر اور گائے کا پیشاب استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ سابق رکن سادھوی پرگیہ نے کینسر کا علاج کے لیے اس کی تلقین کی تھی اوروزیر صحت اشونی چوبے کورونا کی ویکسین میں گائے کا پیشاب ملانے کی وکالت فرمائی تھی ۔ ایسوں کو کھانے میں پیشاب سے کیا قباحت؟ حال میں اترپردیش کے اندر مکٹ منی یادو نامی کتھا واچک (بھگوت گیتا کی کہانی سنانے والے) کو پوتر کرنے کے لیے اس پر میزبان خاتون کے پیشاب کا چھڑکاو کیا گیا۔ پاکی کا ایسا ناپاک تصور رکھنے والوں کو تو دھرم بھرشٹ ہونے کا ڈرامہ کرنا ہی نہیں چاہیے ۔
کانوڈ یاتر ا ایک بہت بڑا کاروبار بن چکا ہےجس کے راستے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مفت کھانے کے بھنڈاروں (لنگروں ) پر ہندو طور طریقوں سے تیار کردہ چھپن بھوگ پکوان مفت دیا جاتا ہے۔ ایسے میں آخر یہ کانوڈ اس کھانے کو چھوڑ کر نجی دھابوں پر جاتے کیوں ہیں؟ اور وہاں مسلمان یا ہندو کے جانچ کی نوبت کیوں آتی ہے؟ کھانا بنانے اور پروسنے والے کی تفتیش کیوں ہوتی ہے؟ چرس گانجے کے دم لگانے والے کانوڈ جب پاک ہے یا ناپاک کی بات کرتے ہیں تو ان کی عقل پر ہنسی اور انتظامیہ کے رویہ پر رونا آتا ہے جس نے اس یاترا میں شامل غنڈوں کو سر چڑھا رکھا ہے۔ مظفر نگر میں جب پولیس نے کانوڈیوں کو نوٹس دیا تو ان کی ہوا نکل گئی ۔ وہ صرف آدھار کارڈ پوچھنے کی بات کرکےالٹا پولیس پرجھوٹے الزام میں پھنسانے کی بات کرنے لگے۔ پولیس اگر ہندو وں کی ناز برداری کے بجائے سوامی یشویر پر ہاتھ ڈالتی تو وہ بزدل کان پکڑ کر اٹھ بیٹھ کرتا ۔ ان کو جب چھوٹ ملتی ہے تو وہ شیر ورنہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ کانوڈیوں کی مسلم دشمنی تو محض ایک بہانہ تھا ان کا اصل مقصدتو اپنا آتنک(دہشت) پھیلانا تھا تاکہ ان کے راستے پر ہندو ھابے کے مالکان ان سے کھانے پینے کے پیسے نہ مانگیں ۔ ان کی لوٹ مار کے خلاف شکایت نہ کریں اور منشیات کے لیے انہیں نقدی پیش کردیں ۔ اس کی کئی مثالیں میڈیا میں آچکی ہیں اور ہنوز وہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
مغربی یوپی کے مظفر نگر میں پور قاضی مقام پر شری سدھ بابا بالکناتھ ڈھابہ میں کھانے کے اندر دال میں کانوڈیوں کو پیاز دیکھ کر غصہ آگیا اور انہوں نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ اس دوران گیتا دیوی کے دھابے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔ اس سانحہ کے بعد جب ریڈ مائک کا ترجمان وہاں پہنچا تو ہوٹل ملازمین نے بتایا کہ کانوڈیوں نے دال منگوائی ۔ اسی وقت کسی اور گاہک نے دال فرائی منگوائی تھی ۔ غلطی سے بیرہ دال فرائی ان کی میز پر لے آیا ۔ ان لوگوں نے اسے چھوا تک نہیں مگر توڑ پھوڑ شروع کردی ۔ دھابے کے سارے شیشے اور 100 کرسیاں ، 15 میزکے بلکہ پنکھے تک توڑ دئیے گئے۔وہاں برتن دھونے والے پنٹو کمار کی ٹانگ توڑ دی دیگر ملازمین نے کسی طرح بھاگ کر جان بچائی نیز وشنو سندر نامی کانوڈیا بھی زخمی ہوگیا ۔ان کانوڈیوں نے دھابے پر کام کرنے والے ہندو ملازمین کے بٹوے سے رقم چھین لی ۔ ان میں ایک سے 1700 روپئے چھین کر لے گئے ۔پولیس جائے واردات پر پہنچ کر کانوڑیوں کو سمجھا بجھا کر تسلی دینے میں جٹ گئی ۔ اس نے پنٹو اور زخمی کانوڑیے کو علاج کے لیے پرائمری ہیلتھ سنٹر پورقاضی پہنچایا ۔
رات کے تقریباً ایک بجے یہ ہنگامہ پیاز دیکھ کر نہیں بلکہ ٹھنڈا مشروب اور گلےّ میں رکھی رقم لوٹنے کے لیے کیا گیا تھا ۔ ریڈ مائک کی ویڈیو میں خالی فریج اور خالی گلاّ کاونڈیوں کے مقصد کی گواہی دے رہا تھا مگر پولیس نے اس سے آنکھیں موند رکھی تھیں ۔ ہوٹل کی مالکن سادھنا دیوی کے رونے دھونے رہی تھی مگر اس کا کانوڈیوں یا انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ جتھوں کی شکل میں چلنے والے کسی کانوڈی کو مارپیٹ کرتے دیکھتے ہیں تو موقع غنیمت جان کر خود لوٹ مار میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ بالکناتھ دھابے میں بھی صرف چار کانوڈ کھانا کھانے کے لیے آئے تھے لیکن دیکھتے دیکھتے ان کی حمایت میں سو سے زیادہ کاونڈ ہنگامہ آرائی کے لیے اکٹھا ہوگئے۔اس غنڈہ گردی کی بنیادی وجہ ان کے دل میں یہ بے خوفی ہے ۔ ان کا گنگا جل اب بلا تفریق آگ لگا نے لگا ہےایسے میں راحت اندوری کا یہ شعر یاد آتا ہے ؎
لگے گی آگ توآئیں گے گھر کئی زد میں یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
کانوڈئیے ویسے تو بہار بلکہ پورے ملک سے آتے ہیں مگر ہنگامہ مغربی اترپردیش اور اتراکھنڈ میں ہوتا ہے کیونکہ ان غنڈوں کو انتظامیہ اور سرکار کا تحفظ مل جاتا ہے۔ اتراکھنڈ کے روڈکی میں ان لوگوں نے راجکمار کے دھابے پر کھانا کھایا ۔ ان کے اپنے کھانے میں تو کوئی پیاز نہیں نکلی مگرجھوٹے برتن میں پیاز جیسا کچھ نظر آگیا۔ دھابے کامالک سابق سرکاری ملازم ہونے کے ساتھ بھولے بابا کا بھگت ہے۔ اس کے مطابق جھوٹے برتن میں پیاز نہیں بلکہ کچا ہرا ٹماٹر تھا لیکن غلطی سے کانوڈیوں نے اسے پیاز سمجھ شور شرابہ کیا۔ ملازمین کو مارا۔ دھابے کو توڑا اور زبردستی کرکے پہلے گلہّ لوٹا مگر چونکہ رقم زیادہ نہیں تھی اس لیے آن لائن وصولی کی۔ اس طرح ثبوت کے ساتھ لٹیروں کا ٹیلی فون مل گیا لیکن پولیس کی کیا مجال کے ان شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرے۔ پولیس نےالٹا راجکمار پر مقدمہ درج کرلیا۔ گاوں والوں کے دباو سے ضمانت ملی ۔ فی الحال دوکان بند کردی گئی ہے اور یہ کب تک کھلے گا یہ مالک سمیت کوئی نہیں جانتا ۔ ویسے ان کی گھبراہٹ دیکھ کر نہیں لگتا ہے کہ ساون کے مہینے میں وہ پھر سے اسے کھولنے کی جرأت کرے گا ۔
کانوڈی پہلے تو کئی لیٹر پانی اٹھا کر میلوں کا سفر کے ساتھ ہیں اور اوپر سے نشہ کرتے ہیں ایسے میں سڑک پر کوئی گاڑی چھو جائے تو اسی وقت توڑ پھوڑ شروع ہوجاتی ہے ۔ ایسے میں ہندو مسلمان نہیں دیکھا جاتا ۔ اب تک کئی نجی گاڑیوں کے ٹوٹنے کی ویڈیو ز سوشیل میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔ یہ معاملہ آگے بڑھا تو اسکول بسوں کی شامت آئی اور پھر سرکاری بسوں تک پہنچ گیا ۔ حد تو اس وقت ہوگئی جب ان لوگوں نے پولیس کی گاڑی بھی الٹ دی بلکہ ایک ویڈیو میں وہ پولیس تھانے میں ہنگامہ کرتے بھی نظر آتے ہیں ۔ کاونڈیوں کے تشدد کا گنگا جل اب سر سے اونچا ہوچکاہے۔ اتراکھنڈ میں کئی مقامات پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا ہے مگر یوگی مہاراج کو الیکشن کا ڈر ستا رہا ہے اور وہ ہنوز اپنی پولیس کو صبرو ضبط کی تلقین فرما رہے ہیں لیکن اس سے کام نہیں چلے گا ۔ انہیں بھی پولیس کو سختی دکھانے پر مجبور ہونا پڑے گا ورنہ ان کانوڈیوں کو خوش کرنے کے چکر میں عام رائے دہندگان کو ناراض کر بیٹھیں گے ۔ ویسے چونکہ دہلی اور مضافات (این سی آر) کے بیشتر چور اچکے یاترا کی پکنک پر نکل چکے ہیں اس لیے وہاں کی عوام چین کی سانس لے رہی ہے۔ اسے انگریزی میں blessings in disguise کہتے ہیں۔
Comments are closed.