اردو داں اساتذہ کو نظرانداز کر اردو اسکولوں میں غیر اردو داں ہیڈ ٹیچر کی تقرری، اساتذہ میں شدید ناراضگی
قمر مصباحی نے وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور اعلیٰ افسران کو بھیجا میمورنڈم، سازش قرار دیا
جالے (محمد رفیع ساگر)
ریاست بہار میں اردو داں اساتذہ کی ناراضگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اردو اسکولوں میں غیر اردو داں اساتذہ کو ہیڈ ٹیچر کے طور پر تعینات کیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف بہار اسٹیٹ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر قمر مصباحی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، وزیر تعلیم سنیل کمار اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر ایس سدھارتھ کو ایک تفصیلی میمورنڈم بذریعہ ای میل ارسال کیا ہے۔
میمورنڈم میں قمر مصباحی نے اس اقدام کو اردو دشمنی اور ایک گہری سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اردو اسکولوں کا قیام حکومت کا قابلِ ستائش قدم تھا، جہاں آزادی کے بعد سے اب تک ہیڈ ماسٹر سمیت اکثر اساتذہ اردو داں ہی بحال ہوتے آئے ہیں۔ مگر حالیہ تبادلوں میں اس روایت کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اردو اسکولوں میں غیر اردو داں اساتذہ کو ہیڈ ٹیچر بنا دیا گیا ہے، جب کہ اردو داں اساتذہ کو ہندی اسکولوں میں بھیج دیا گیا ہے۔
قمر مصباحی نے کہا کہ اردو اسکولوں میں تمام تدریسی اور دفتری امور اردو زبان میں انجام دیے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک غیر اردو داں ہیڈ ٹیچر کی تقرری تعلیمی معیار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی توہین بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف افسران کی ذہنیت اور تعصب کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ اردو زبان کے وجود کو مٹانے کی سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب اردو داں ہیڈ ماسٹر موجود ہیں تو پھر آخر حکومت کو کیا مجبوری لاحق ہوئی کہ غیر اردو داں اساتذہ کو اردو اسکولوں میں بھیجا جا رہا ہے؟ کیا یہ اردو زبان اور اردو بولنے والے طبقے کے ساتھ ناانصافی نہیں؟
قمر مصباحی نے حکومتِ بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اردو اسکولوں کی اہمیت اور اردو زبان کی سرکاری حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے سابقہ روایت کے مطابق صرف اردو داں اساتذہ کو ہی اردو اسکولوں کا ہیڈ ٹیچر تعینات کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی انتباہ دیا کہ اگر اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو اردو اساتذہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
Comments are closed.