کیا یہ “الیکشن کمیشن” ہے یا “تفریق کمیشن”؟
✍️ سید آصف امام کاکوی
جب ملک میں جمہوریت کا جشن منایا جانا چاہیے، تب بہار کے لاکھوں شہری اپنے بنیادی حق، یعنی ووٹ دینے کے حق، سے محروم کیے جانے کے خوف میں جی رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک ایسی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے جس کی کمان اب الیکشن کمیشن کے ہاتھوں میں ہے وہی ادارہ جو کبھی غیر جانبداری، آئین اور جمہوری قدروں کی علامت مانا جاتا تھا۔ اب یہی الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ “ذرائع” کے مطابق سیمانچل کے علاقوں میں بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار سے آئے لوگوں نے آ کر ووٹر کارڈ بنوا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ “ذرائع” کون ہیں؟ کیا یہ وہی ذرائع ہیں جو نفرت کی داستانیں سنگھ اور بی جے پی کے دفاتر میں بیٹھ کر لکھتے ہیں؟ جبکہ زمینی سطح پر کام کرنے والے بی ایل او (Booth Level Officer) صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ ایسی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو پھر آخر یہ سازش کس کے لیے کی جا رہی ہے؟ کیا اب الیکشن کمیشن ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جس کا مقصد صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا ہے؟ کیا یہی جمہوریت ہے؟ کیا ہم شک، خوف، اور تفریق کی بنیاد پر انتخابات کرانے لگے ہیں؟ بنگلہ دیش، جس کی تعلیمی اور صحتی خدمات ہندوستان سے بہتر ہو چکی ہیں، نیپال جہاں آج سب سے زیادہ ہندوستانی کام کرتے ہیں، اور میانمار سے جس کی سرحدوں پر ہمارے فوجی، خفیہ ایجنسیاں اور سیکیورٹی ادارے موجود ہیں، وہاں سے لاکھوں لوگ بہار میں آ کر ووٹر بن جائیں یہ ایک بے بنیاد اور خطرناک دعویٰ ہے۔ اصل مسئلہ کیا ہے؟ وہی جو ہمیشہ رہا ہے: مسلمانوں کو نشانہ بناؤ، سیمانچل کو بدنام کرو، اور عوام کی اصل پریشانیوں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت سے دھیان ہٹا دو۔ ایک بار پھر سیمانچل کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ غریب ہے، محروم ہے، اور مسلم اکثریتی ہے۔ یاد رکھیں، ووٹ دینا کوئی بخشش نہیں، یہ ہمارا پیدائشی حق ہے! ہم ہندوستانی ہیں، اور اسی مٹی کے وارث ہیں۔ نہ ہمارے خواب پر کوئی پہرہ ہو سکتا ہے، نہ ہمارے ووٹ پر! سپریم کورٹ نے واضح کیا ہےکسی بھی شہری کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنا جمہوریت کی بنیادوں کے خلاف ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے پاسپورٹ نہ ہونے پر، میٹرک سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر، کیا کوئی ہندوستانی نہیں رہا؟ کیا ایک غریب ماں جو دن بھر کھیت میں کام کرتی ہے، اور جس کے پاس صرف آدھار کارڈ ہے، اسے ووٹ دینے سے روکا جا سکتا ہے؟ یہ صرف بہار کا سوال نہیں یہ ہندوستان کے جمہوری تشخص کا سوال ہے! آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل پوری قوم کی آواز دبا دی جائے گی۔
Comments are closed.