کیا واقعی وعدے کے مطابق عمل ہوا؟

 

از قلم : مدثر احمد شیموگہ

بی جے پی کی حکومت کے دوران بار بار وزیر اعلیٰ کی تبدیلی، سیاسی خلفشار، دھڑے بندی اور ریسارٹ سیاست جیسے مسائل دیکھنے کو ملے تھے، اس کے مقابلے میں کانگریس کی سدارمیا قیادت والی حکومت نے اپنے دو سال بظاہر کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔ یہ صورتحال کچھ اس طرح کی ہے جیسے پاکستان کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے بھارت اپنی ترقی اور کامیابیوں کو نمایاں کرتا ہے۔حزب اختلاف کی یہ امید کہ حکومت کی گارنٹی اسکیمیں ہی اس کے لیے مسئلہ بنیں گی، بظاہر غلط ثابت ہوئی۔ مالی بحران اور رکاوٹوں کے باوجود حکومت نے ان اسکیموں کو جاری رکھا، حالانکہ بی جے پی کی طرف سے بارہا کہا گیا کہ خزانہ خالی ہے اور حکومت کے پاس وسائل نہیں۔ لیکن عوام کا سوال یہ بھی ہے کہ جب بی جے پی کی حکومت میں کوئی فلاحی اسکیم نہیں چل رہی تھی، تب کیا ریاست کا خزانہ لبریز تھا؟ اس سوال کا بی جے پی کے پاس کوئی اخلاقی جواب نہیں ہے۔اسی دوران، ڈي کے شیو کمار اور سدارمیا کے درمیان ممکنہ اختلافات کو لے کر حکومت کے کمزور ہونے کی جو امید کی جا رہی تھی، وہ بھی غلط ثابت

ہوئی۔ بی جے پی کی اندرونی دھڑے بندی کے مقابلے کانگریس نے اپنی اندرونی مخالفت کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے، جس کا سہرا کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو جاتا ہے۔ اگر عوام آج یہ محسوس کر رہے ہیں کہ کانگریس حکومت نے کامیابی سے دو سال مکمل کیے ہیں، تو اس کا ایک سبب سابقہ بی جے پی حکومت کی ناکامی بھی ہے۔سدارمیا آج بھی اپنی سیاسی ساکھ کو بچائے رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف تنازعات جیسے MUDA گھپلہ وغیرہ میں کانگریس کو پھنسانے کی بی جے پی کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا۔ اگرچہ خود کانگریس کے اندر بھی گارنٹی اسکیموں پر اعتراضات تھے، سدارمیا نے ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا راستہ جاری رکھا۔ مگر یہ کہنا کہ صرف گارنٹی اسکیموں کی بنیاد پر حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا تعین ہو سکتا ہے، درست نہیں ہوگا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دیگر ذمہ داریوں کو کس حد تک پورا کیا گیا ہے، اس پر بھی نظر ڈالی جائے۔یہ حکومت اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی بھرپور حمایت سے اقتدار میں آئی ہے۔ جب عوام نے اتنی مضبوط حمایت دی ہو تو صرف دو سال مکمل کرنا کوئی خاص کامیابی نہیں کہی جا سکتی۔ سدارمیا نے تمام فورمز پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت "جیسے کہا ویسا کیا” پر عمل پیرا ہے،

لیکن اب وقت آ چکا ہے کہ اس دعوے کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف سدارمیا کی قیادت والی حکومت سے عوام کو توقع تھی کہ وہ ان پر روک لگائے گی اور جرائم میں کمی آئے گی، لیکن داخلہ محکمہ اس میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سو سے زیادہ فرقہ وارانہ واقعات پیش آئے، لیکن حکومت انہیں روکنے میں ناکام رہی۔ ایک واقعہ میں ایک شخص کو گؤکشی کے الزام میں ایک ہجوم نے مارڈالا، اور اس ہجوم کی قیادت کرنے والا شخص کھلے عام گھومتا رہا اور نفرت انگیز تقریریں کرتا رہا۔ حال ہی میں منگلور میں ایک کیرالا نژاد شخص کو بھیڑ نے وحشیانہ طور پر قتل کر دیا، لیکن پولیس کو اس واقعے کو "ہجوم کے ہاتھوں قتل” تسلیم کرنے میں دو دن لگ گئے۔ ریاستی حکومت نے آج تک متاثرہ خاندان کو کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا۔داخلہ وزیر نے اس معاملے پر ایسی بیان بازی کی جس سے تحقیقات کا رخ ہی موڑ دیا گیا۔ ساحلی علاقوں میں نفرت انگیز بیانات اور فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے میں بھی داخلہ محکمہ ناکام رہا ہے۔ تبدیلی مذہب پر پابندی، گؤکشی قانون وغیرہ ایسے قوانین ہیں جو ایک خاص مذہب کو نشانہ بنانے کے لیے متعارف کیے گئے تھے، لیکن حکومت ان قوانین کو منسوخ کرنے کی ہمت نہیں دکھا رہی۔ ان قوانین کی وجہ سے کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ غیر ضروری مویشیوں کو فروخت کرنے کے لیے بھی اب غنڈوں کی اجازت لینی پڑتی ہے، جو شرمناک بات ہے۔ ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطلب ہوگا کسانوں کو غنڈہ عناصر کے چنگل سے آزاد کرانا، لیکن حکومت اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔اسی طرح، حجاب پر پابندی کی وجہ سے مسلم طالبات کو اب بھی تعلیم سے محروم رکھا جا رہا ہے، اور یہ مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔ تشدد اور ترقی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر کرناٹک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے فرقہ وارانہ مجرموں پر لگام لگانی ہوگی۔اسی دوران حکومت ذات پر مبنی مردم

شماری کی رپورٹ پر بھی کوئی واضح قدم نہیں اٹھا رہی۔ اگرچہ مرکز نے ذات پر مبنی مردم شماری کی حمایت کا عندیہ دیا ہے، پھر بھی ریاستی حکومت اس رپورٹ کو جاری کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی۔ پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کی تقسیم کے معاملے پر بھی حکومت سست روی سے کام لے رہی ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ دلتوں کے لیے مختص فنڈز کو گارنٹی اسکیموں میں خرچ کیا جا رہا ہے۔

کسانوں کے لیے نقصان دہ APMC قانون کو بھی حکومت نے ابھی تک واپس نہیں لیا ہے۔یہ بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ ریاستی حکومت ترقیاتی کاموں کے لیے شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کر رہی ہے۔ حکومت ایک طرف گارنٹی اسکیمیں دے رہی ہے، تو دوسری طرف شراب کی فروخت کو فروغ دے رہی ہے، جس پر عوامی سطح پر تنقید ہو رہی ہے۔آنے والے تین سال کانگریس حکومت کے لیے انتہائی فیصلہ کن ہوں گے۔ چاہے آج گارنٹی اسکیمیں چل رہی ہوں، لیکن آگے چل کر یہ بوجھ بن سکتی ہیں۔ اگر ترقیاتی کاموں کے لیے مالی وسائل کی قلت ہوئی تو اس کا براہ راست اثر حکومت پر پڑے گا۔ ساتھ ہی ڈي کے شیوکمار کے حامی اور مخالف دھڑوں کی آئندہ چالیں بھی حکومت کی بقا یا زوال میں اہم کردار ادا کریں گی۔فلم ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وقفے کے بعد ہی کہانی نیا رخ لے سکتی ہے۔ سدارمیا کو "پکچر ابھی باقی ہے” جیسی باتیں ہرگز نہیں بھولنی چاہئیں۔

Comments are closed.