وقت کے ساتھ بکھر جاتے ہیں اچھے لوگ
یاد رہ جاتے ہیں اندازِ بیاں اچھے لوگ
محمد اسعد ندوی
کل شام کا لمحہ میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا—ایک ایسا لمحہ جس نے میرے دل پر غم کا ایک گہرا نقش چھوڑ دیا۔ جب میں حسبِ معمول ڈیوٹی سے فارغ ہوکر گھر پہنچا اور موبائل فون کھول کر پیغامات دیکھنے لگا تو ایک آواز نے میرے دل کی دھڑکن کو تھام دیا۔ وہ آواز میرے جواں سال ماموں، عامر ماموں (اصل نام: توقیر)، کی ناگہانی وفات کی خبر سنا رہی تھی۔ خبر سنتے ہی جسم جیسے سن ہوگیا، ذہن پر سکتہ طاری ہو گیا۔
میں فوراً ذاکر نگر کی طرف دوڑا، جہاں میری چھوٹی خالہ غم سے نڈھال بیٹھی تھیں۔ ان کی حالت ایسی نہ تھی کہ کسی سوال کا جواب دے سکیں یا تسلی کا کوئی لفظ سن سکیں۔ گھر کا ماحول خاموشی اور آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے آنسوؤں سے لبریز تھا۔ سب ایک دوسرے کی طرف بس دیکھتے رہ گئے، جیسے الفاظ نے زبان کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد بھاری قدموں سے میں اپنی قیام گاہ کی طرف واپس لوٹ آیا، عشاء کی نماز ادا کی، کھانے کا لقمہ حلق سے اتارنے کی کوشش کی اور پھر خود کو نیند کے حوالے کر دیا—لیکن نیند کہاں آنی تھی، دل و دماغ یادوں سے گھرا ہوا تھا۔
عامر ماموں، جنہیں سب لوگ ان کے عرفی نام سے ہی جانتے تھے، دس بھائی بہنوں میں آٹھویں نمبر پر تھے۔ ان سے چھوٹا ایک بھائی اور ایک بہن ہے، مگر اُن کی محبت و مقبولیت کا دائرہ صرف ان کے والدین یا بہن بھائیوں تک محدود نہیں تھا—وہ اپنے بھانجوں، بھتیجوں، بھانجیوں اور بھتیجیوں کے لیے بھی مرکزِ محبت و توجہ تھے۔ اُن کی نرم خو طبیعت اور زندہ دلی ہر کسی کو اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔
جب وہ بچپن کی منزلیں طے کر چکے تو میرے گاؤں سنگرام میں واقع مدرسہ عارفیہ میں زیرِ تعلیم رہے اور میرے ہی گھر میں قیام پذیر تھے۔ یہ قصہ میری پیدائش سے پہلے کا ہے، مگر سنگرام اور گرد و نواح کے لوگوں کے ساتھ ان کا یارانہ ایسا تھا کہ برسوں بعد بھی جب وہ گاؤں آتے تو ہر طرف سے محبت آمیز پکار بلند ہوتی، اور وہ سب سے گلے ملتے، حال چال پوچھتے، اور آگے بڑھ جاتے۔
جب وہ گھر میں ہم لوگوں کے درمیان بیٹھتے تو قصے کہانیوں کا ایسا مزاحیہ سلسلہ شروع ہوتا کہ محفل قہقہوں سے گونج اٹھتی۔ ان کی باتوں میں وہ سادگی اور خلوص ہوتا تھا جسے سن کر چھوٹے بڑے سب لطف اندوز ہوتے۔ ایک بار میں اپنے والد مرحوم کے ساتھ نانیہال گیا—میں ان دنوں ندوہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا—تو کئی دنوں تک ان کی باتوں اور یادوں سے محظوظ ہوتا رہا۔ ان کی خوش گفتاری ایسی تھی کہ خاندان کی بزرگ خواتین بھی دل کھول کر ہنستی تھیں۔
ان کی ایک بہت نمایاں خوبی اُن کی بلند ہمتی تھی۔ وہ ان واقعات میں بھی ثابت قدم رہتے تھے جن سے گاؤں کے بڑے بڑے افراد کتراتے تھے۔ ان کے اندر ایک عجیب طرح کی بیباکی تھی—وہ سچ بات کہنے سے کبھی نہ گھبراتے، چاہے سامنے کوئی بھی ہو۔ بہت سے لوگ جہاں سوچنے میں وقت گزار دیتے، وہاں وہ کام کرکے آگے بڑھ جاتے۔
کچھ عرصہ قبل اُن کی بیماری کی اطلاع ملی، پھر جلد ہی اُن کی شفایابی کی خبر بھی آگئی۔ ہم نے سکھ کی سانس لی کہ ماموں اب بہتر ہیں۔ لیکن قسمت کا لکھا کچھ اور تھا۔ اچانک اطلاع ملی کہ وہ پھر بیمار ہیں، اور اس بار معاملہ نازک ہے۔ دو دن بعد یعنی کل خبر آئی کہ وہ ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے—صرف باون سال کی عمر میں۔
اِنّا للہ و إنا إلیہ راجعون
زندگی کتنی ناپائیدار ہے، اور موت کتنی خاموش—وہ جو ہر جگہ خوشبو کی طرح پھیل جاتے تھے، آج خاموشی کی چادر اوڑھ کر ہم سب کو خاموش کر گئے۔
خوشبو کی طرح ہوا کرتے ہیں کچھ لوگ
خود کو نہ دیکھاؤ تو بھی محسوس بہت ہوتے ہیں
Comments are closed.