علمی محنتوں میں اپنے کو مضبوط کرنے کیساتھ ہی اللہ والوں سے اپنا رشتہ مضبوط کریں
مدرسہ جامع العلوم میں رابطہ مدارس اسلامیہ دار العلوم دیوبند مشرقی یوپی زون۔1کا عمومی وانعامی اجلاس منعقد
کانپور۔ رابطہ مدارس اسلامیہ دار العلوم دیوبند مشرقی یوپی زون۔1کا عمومی وانعامی اجلاس دفتر مدرسہ جامع العلوم جامع مسجد پٹکاپور میں زون کے صدر مفتی اقبال احمد قاسمی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر سابقہ تعلیمی سال میں نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار طلباء کو انعامات و توصیفی اسناد دے کر اعزاز سے نوازاگیا۔ اجلاس میں بطور مہمان خصوصی دار العلوم دیوبند سے تشریف لائے استاذ حدیث مولانا محمد سلمان بجنوری نقشبندی نے آئے ہوئے تمام اراکین و ذمہ داران مدارس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے پیغمبروں کی شخصیات کے بارے میں قرآن میں اجمالی مضمون کے طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ جو پیغمبر تھے، خیر کے کاموں میں مسابقت اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور ہمیں امید و خوف کے ساتھ پکارتے تھے، حکیم الامت ؒ نے اس کا مطلب یہ لکھا ہے کہ وہ اللہ کے سامنے دبے رہتے تھے یعنی انبیاء علیہم السلام میں خیر کے کاموں کو کرنے کا حوصلہ بھی ہوتا تھا ساتھ ہی اللہ کے ساتھ رشتہ بھی مضبوط ہوتا تھا، اپنی محنتوں پر اعتبار نہیں ہوتا تھا، اللہ سے دعاء مانگتے رہتے تھے، یقیناآج آپ علماء بہت کام کر رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی ہے کہ ہمار ے کا م کا جو معیار ہونا چاہئے وہ اب نہیں ہے اور کام کو جہاں ہونا چاہئے ہم وہاں نہیں ہیں۔ اگر ان تمام محنتوں کے اندر ربط آ جاتا ہے تو کام میں تاثیر آ جائے گی، ایمانی صفت جسے آسان زبان میں تزکیہ کہہ سکتے ہیں،ہم اپنے کو علمی محنتوں میں اپنے کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اگر اللہ والوں سے اپنا رشتہ مضبوط کر لیں گے تو ہمیں امید ہے کہ کام کی نافعیت بڑھ جائے گی۔
اس سے قبل صدر اجلاس مفتی اقبال احمد قاسمی نے صدارتی بیان میں ذمہ داران مدارس کو اپنی کمیوں کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ہمارے مدارس کا تحفظ اپنے اکابر کے طریقے پر چلنے میں ہی ہے، ہمارے درمیان امانت و دیانت کا فقدان پایا جا رہا ہے، تعلیم سے زیادہ تربیت کی کمی پائی جا رہی ہے۔ اسلامی مزاج ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کو دین کے رنگ میں رنگ دیا جائے۔
نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے 2020 کی نئی تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کیلئے تعلیم لازمی ہے، جو بچے عصری تعلیم حاصل نہیں کر رہے ہیں ان کے سرپرستان پر بھی کارروائی کی بات کہی جا رہی ہے، ابھی تک مدارس اور مذہبی ادارے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں ہر نافع علم مطلوب ہے، آج کے دور کی سب سے بڑی طاقت علم، عصر حاضر سے واقفیت ہے۔ اس کے علاوہ مولانا نے مدارس میں عصری تعلیم کی شمولیت کے مختلف طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی۔
معاون صدر حافظ عبد القدوس ہادی نے کہا کہ اس امت پر حالات ہمیشہ آتے رہے ہیں، لہٰذا ہمیں اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہے، مدارس انشاء اللہ قیامت تک قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجود حالات کے پیش نظر ہمیں اپنے اکابر سے رابطہ میں رہنا چاہئے، رابطہ کو مضبوط کرنا چاہئے، اور اپنے تمام معاملات میں شفافیت رکھنی چاہئے۔
مدرسہ قرآنیہ اٹاوہ کے مہتمم مولانا طارق شمسی نے حکومتوں کی جانب سے ذمہ داران مدارس کو پریشان کرنے کے طریقوں سے واقف کرانے کے ساتھ ہی ان کے تدارک کے بارے میں بتایا۔ الجامعۃ الحسینیہ قصبہ محمدی لکھیم پور کے مہتمم مولانا احسان اللہ قاسمی، مدرسہ فرقانیہ گونڈہ کے استاذ مولانا محمد ابراہیم قاسمی اور مدرسہ نور العلوم کرما خاں کے ناظم تعلیمات مولانا محمد شاہد قاسمی اوردیگر ذمہ داران نے نصاب کی کتابوں اور رواں تعلیمی سال کے آخر میں ہونے والے مشترکہ امتحانات کے تعلق سے مفید مشوروں سے نوازا۔ اس موقع پر سابقہ تعلیمی سال کے مشترکہ امتحانات میں عربی اول میں اول پوزیشن لانے والے مدرسہ جعفریہ ہدایت العلوم سنت کبیر نگر کے محمدسیف، دوم پوزیشن لانے والے مدرسہ عربیہ نور العلوم کرما خاں سنت کبیر کے محمد فہیم اور مدرسہ فرقانیہ گونڈہ کے محمد صدیق، سوم پوزیشن حاصل کرنے والے مدرسہ اسلامیہ بحر العلوم سدھارتھ نگر کے محمد امجد، چہارم پوزیشن لانے والے مدرسہ عربیہ نور العلوم کرما خاں سنت کبیر کے محمد ثاقب، پنجم پوزیشن لانے والے مدرسہ فرقانیہ گونڈہ کے محمد سراج، عربی دوم میں اول پوزیشن لانے والے جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کانپورکے محمد طلحہ اور مدرسہ مظہر العلوم نکھٹو شاہ بیکن گنج کانپور کے محمد حفظان، دوم پوزیشن لانے والے مدرسہ فرقانیہ گونڈہ کے محمد طاہر، سوم پوزیشن لانے والے مدرسہ فرقانیہ کے محمد قیس، چہارم پوزیشن لانے والے مدرسہ عربیہ ضیاء القرآن اوریا کے محمد عظمت اللہ، پنجم پوزیشن لانے والے جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤ کانپورکے محمد ابوبکر صدیق، اسی طرح درجہ حفظ میں اول پوزیشن لانے والے محمد عمیر قنوج، محمد فاضل ہردوئی، محمد توحید کشی نگر، عرفات احمد کانپور،محمد اسامہ گونڈہ، دوم پوزیشن لانے والے محمد حسان قنوج، محمد نعمان کانپور، اور سوم پوزیشن لانے والے محمد حسان سیتا پور، عبدالرحمن ہردوئی، محمد حماد کانپور اور زید فیصل کانپور کو مہمان خصوی اور عہدیداران کے ہاتھوں انعامات و توصیفی اسناد دے کر اعزاز و اکرام سے نوازا گیا۔ مدرسہ جامع العلوم کے مہتمم و متولی محی الدین خسرو تاج نے آئے ہوئے تمام مہمان علمائے کرام اور ذمہ داران مدارس کا استقبال اور شکریہ کے کلمات کہے۔ مہمان خصوصی مولانا محمد سلمان بجنوری کی دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں جملہ اراکین رابطہ مدارس زون 1موجود رہے۔
Comments are closed.