انتخابی غیر جانبداری پر سوال: دربھنگہ کے ووٹر سنٹر پر وائرل ویڈیو اور سیاسی ردِعمل

 

 

منصور خوشتر

 

در بھنگہ کے 83-اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہن (گہرے) معائنہ کے دوران پیش آئے ایک واقعہ نے نہ صرف مقامی سیاست بلکہ ریاستی سطح پر بھی ہلچل مچا دی ہے۔ 15 جولائی 2025 کو ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ایک خاتون، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ ہیں، انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ ویڈیو سب سے پہلے انڈین نیشنل کانگریس کے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) ہینڈل سے شیئر کیا گیا، اور اس کے بعد مختلف سیاسی پلیٹ فارمز پر گردش کرنے لگا۔

ویڈیو میں ایک سرکاری اسکول — +2 دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد ہائی اسکول، زوراوَن سنگھ — کو دکھایا گیا ہے، جو کہ حلقہ 83 میں قائم تین اہم پولنگ مراکز میں شامل ہے۔ ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ ایک خاتون ایک مخصوص نشست پر براجمان ہیں جبکہ دیگر عام لوگ قطار میں کھڑے ہیں۔ ویڈیو بنانے والے، جن کی شناخت ڈاکٹر جمال حسن کے طور پر ہوئی ہے، نے الزام لگایا کہ خاتون بھارتیہ جنتا پارٹی کی ضلعی صدر ہیں اور وہ انتخابی فہرست کی تصدیق کے دوران بی ایل اوز (بلوک لیول آفیسرز) پر دباو ¿ ڈال رہی ہیں۔

ضلع مجسٹریٹ (ڈی ای او) دربھنگہ، شری کوشل کمار نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس ویڈیو اور اس میں لگائے گئے الزامات کو "بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی” قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ عمارت کوئی نجی عمارت نہیں بلکہ ایک سرکاری تعلیمی ادارہ ہے، اور ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون، محترمہ کویتا کماری عرف سپنا بھارتی، اس حلقے کی باضابطہ ووٹر ہیں جن کا نام بوتھ نمبر 156 کے ووٹر لسٹ میں درج ہے۔

ڈی ایم کے مطابق، محترمہ کویتا کماری اپنے اہل خانہ کے شناختی کاغذات اور فارم لے کر آئی تھیں اور خود ہی وہ فارم بھر رہی تھیں۔ اس عمل میں نہ تو کسی انتخابی افسر کی جانبداری ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرگرمی کا شائبہ ملتا ہے۔

اگرچہ ڈی ایم نے واضح تردید جاری کی، مگر ویڈیو میں جو مناظر قید کیے گئے وہ کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ جہاں ایک طرف عام ووٹرز قطار میں کھڑے تھے، وہیں مذکورہ خاتون کو علیحدہ نشست پر بٹھا کر فارم بھرنے کی سہولت دی گئی تھی۔ یہ طرز عمل اگرچہ قانونی خلاف ورزی نہ سہی، مگر انتخابی مساوات کے اصولوں پر سوال ضرور اٹھاتا ہے۔

آخر وہ کون سی خصوصیت تھی محترمہ کویتا کماری میں جس کی بنیاد پر انہیں "وی آئی پی” سلوک دیا گیا؟ کیا ایک عام ووٹر کو بھی ایسی ہی سہولت مل سکتی تھی؟ یا یہ سیاسی وابستگی کا نتیجہ تھا؟ یہ سوالات اب عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔

یہ معاملہ صرف مقامی سطح پر محدود نہیں رہا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس ویڈیو کو باقاعدہ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے عام کیا۔ وہیں راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے نوجوان رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے بھی ویڈیو کو اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاو ¿نٹس سے شیئر کرتے ہوئے انتخابی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھایا۔ ساتھ ہی ساتھ کئی دیگر سیاسی قائدین، کارکنان، اور سماجی تنظیموں جیسے تیسری ادب نے بھی اس ویڈیو کو مختلف پلیٹ فارمز پر نشر کیا، جس کے باعث یہ تیزی سے وائرل ہوا اور موضوعِ بحث بن گیا۔

ڈی ایم کے بیان کے مطابق، یہ واقعہ دراصل دو سیاسی شخصیات — ڈاکٹر جمال حسن اور محترمہ کویتا کماری — کے درمیان جاری پرانی سیاسی رقابت کا شاخسانہ ہے۔ لیکن یہ وضاحت بھی اپنی جگہ ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ اگر معاملہ واقعی ذاتی رقابت تک محدود ہوتا، تو عوامی پلیٹ فارمز پر اس کی بازگشت اتنی گہری نہ ہوتی۔

حقیقت یہ ہے کہ عوام اب سیاسی لیڈروں سے زیادہ نظام کی شفافیت پر یقین رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی بھی انتخابی مرکز پر وی آئی پی کلچر کو فروغ دیا جاتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصول — "برابری کا حق” — کو چیلنج کرتا ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عوام اب محض وعدوں سے مطمئن نہیں ہوتے، بلکہ وہ حقیقت کو آنکھوں سے دیکھ کر اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ وائرل ویڈیو نے نہ صرف ایک مبینہ جانبداری کو بے نقاب کیا بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی پہلو بھی ابھر کر سامنے آئے۔

اگرچہ ڈی ایم کی وضاحت تکنیکی اعتبار سے درست ہو سکتی ہے، لیکن بصری ثبوت، عوامی ردِعمل اور سیاسی تشہیر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل کے انتخابات میں ایسے واقعات

کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ جمہوریت کی شفافیت برقرار رہ سکے۔

 

ڈی ایم نے کےا کہا

83-دربھنگہ اسمبلی حلقہ میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہری جانچ کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کی ڈی۔ای۔او نے تردید کی

دربھنگہ ضلع کے 83-دربھنگہ اسمبلی حلقہ میں ووٹر فہرست کے خصوصی گہرے اعادہ (Special Summary Revision) کے دوران انڈین نیشنل کانگریس کے ٹویٹر ہینڈل سے وائرل ایک ویڈیو پر، جو دربھنگہ ضلع سے متعلق ہے، ضلع انتظامیہ کی جانب سے حقائق پر مبنی جانچ کی گئی۔ اس جانچ میں درج ذیل نکات سامنے آئے:

1. وائرل ویڈیو میں جس عمارت کو دکھایا گیا ہے، وہ کوئی نجی عمارت نہیں بلکہ ایک سرکاری عمارت ہے۔ اس عمارت کا نام "+2 دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد اعلٰی مدرسہ، جوراون سنگھ” ہے۔ اس عمارت میں درج ذیل تین پولنگ مراکز واقع ہیں:

الف. 154- +2 دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد اعلٰی مدرسہ، جوراون سنگھ (جنوبی حصہ)

ب. 155- +2 دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد اعلٰی مدرسہ، جوراون سنگھ (وسطی حصہ)

ج. 156- +2 دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد اعلٰی مدرسہ، جوراون سنگھ (شمالی حصہ)

ان تینوں پولنگ مراکز کے بی۔ایل۔او 15 جولائی 2025 کو صبح 7:00 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک فیلڈ وزٹ کے بعد مرکز پر بیٹھ کر موجود ووٹروں سے فارم اور ضروری دستاویزات جمع کرنے کا کام کر رہے تھے۔

اسی دوران ڈاکٹر جمال حسن، جو ایک سیاسی کارکن ہیں، مرکز کا ویڈیو بناتے ہوئے وہاں پہنچے اور ایک خاتون کو دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے بلند آواز میں الزام لگایا کہ یہ خاتون بی۔جے۔پی کی ضلع صدر ہیں اور وہ اعادہ عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔

ضلع انتظامیہ کی جانب سے کی گئی مزید جانچ میں معلوم ہوا کہ مذکورہ خاتون کا نام محترمہ کویتا کماری عرف محترمہ سپنا بھارتی ہے، شوہر کا نام شری گورو منڈل ہے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ضلع صدر ہیں اور پولنگ مرکز نمبر 156، +2 دیش رتن ڈاکٹر راجندر پرساد اعلٰی مدرسہ (شمالی حصہ) کی ووٹر ہیں۔ ان کا نام ووٹر لسٹ میں سیریل نمبر 642 پر درج ہے۔ مرکز کی بی۔ایل۔او، محترمہ سودھا کماری (معاونہ معلمہ) کے مطابق، محترمہ کویتا اپنے اور اپنے اہل خانہ کے فارم اور کاغذات لے کر آئی تھیں اور اسے مکمل کرنے کا کام کر رہی تھیں۔

مزید جانچ سے معلوم ہوا کہ محترمہ کویتا اور ڈاکٹر جمال کے درمیان سیاسی رقابت رہی ہے، اور اسی سیاسی دشمنی کے تحت ڈاکٹر جمال نے اس واقعے کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے۔لہٰذا واضح ہے کہ متعلقہ پولنگ مرکز کے بی۔ایل۔او کی طرف سے کسی بھی طرح کی لاپرواہی نہیں برتی گئی ہے اور ڈاکٹر جمال کے ذریعہ عائد کیا گیا سیاسی جانبداری کا الزام بے بنیاد ہے۔

٭٭٭

 

 

 

منصور خوشتر

ووٹر ویریفیکیشن کی مہم اور مسلمانوں کی ذمے داری

 

 

 

کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد ووٹ ہے، اور ہر ووٹ اس نظام کا ایک قیمتی ستون۔ ہندوستان میں ووٹر ویریفیکیشن کا عمل محض ایک تکنیکی ضابطہ نہیں بلکہ ایک جمہوری فریضہ ہے، جس کی تکمیل سے ہم اپنے ووٹ کے حق کو مستحکم کرتے ہیں۔ بہار میں ان دنوں ووٹر لسٹ کی خصوصی تصدیقی مہم (Special Summary Revision) جاری ہے، جس میں بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) گھر گھر جا کر رائے دہندگان کی تفصیلات کی تصدیق کر رہے ہیں۔اس موقع پر ریاست بہار کے تمام باشعور شہری، بالخصوص مسلمانوں پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس عمل میں بھرپور حصہ لیں، تاکہ کوئی بھی مسلمان ووٹر اس جمہوری حق سے محروم نہ رہ جائے۔

ووٹ ڈالنے کا حق صرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جس کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہو۔ بہت سے لوگ لاعلمی، لاپرواہی یا تکنیکی وجوہات کے باعث ووٹر لسٹ سے خارج ہو جاتے ہیں یا ان کا نام شامل ہی نہیں ہو پاتا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس بار ووٹر لسٹ کی مکمل جانچ اور تصدیق کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ آنے والے انتخابات سے قبل ہر مستحق شہری کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

اس عمل کے تین اہم مقصد ہیں

1. پرانے، غلط یا دہرا نام حذف کرنا۔

2. نئے ووٹروں کا اندراج۔

3. موجودہ ووٹروں کی تفصیلات کی تصدیق و اپڈیٹ۔

طریقہ کار: کس طرح شامل ہوں؟

1. گھر گھر BLO کی آمد

بوتھ لیول آفیسرز آپ کے گھر آ کر ووٹر فارم فراہم کرتے ہیں اور آپ سے بنیادی معلومات طلب کرتے ہیں۔ اس عمل میں کسی فوری دستاویز کی ضرورت نہیں، البتہ بعد میں ضروری کاغذات جمع کروانے ہوتے ہیں۔

2. فارم 6 کا استعمال

 

اگر آپ کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے تو فارم 6 بھریں۔

اگر آپ کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں موجود ہے تو اضافی دستاویزات کی ضرورت نہیں۔

فارم جمع کرانے کے بعد، الیکشن کمیشن کی ٹیم آپ کی تصدیق کرے گی۔

3. آن لائن سہولت

nvsp.in یا ceoelection.bihar.gov.in پر بھی فارم 6 بھرا جا سکتا ہے۔

آن لائن سہولت ان افراد کے لیے آسان ہے جو BLO کے رابطے میں نہ آ سکے ہوں۔

مطلوبہ دستاویزات

آدھار کارڈ

راشن کارڈ

پاسپورٹ

برتھ سرٹیفکیٹ

بجلی یا پانی کا بل (پتہ ثابت کرنے کے لیے)

(نوٹ: اگر فوری طور پر یہ دستاویزات موجود نہ ہوں تو فارم پہلے جمع کرائیں، دستاویزات بعد میں بھی دی جا سکتی ہیں۔)

یہ عمل ایک محدود مدت کے لیے ہے۔ ووٹر فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 26 جولائی 2025 مقرر کی گئی ہے۔ اس کے بعد نام شامل کرنا ممکن نہیں ہوگا، اور بہت سے لوگ آئندہ انتخابات میں ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔

اردو ایکشن کمیٹی بہار کے سربراہ ایس ایم اشرف فرید، معروف صحافی و محقق ڈاکٹر ریحان غنی، دانشور اشرف انبی قیصر، اور فعال سماجی کارکن انوار الہدی سمیت کئی ذمے داران نے پرزور اپیل کی ہے کہ مسلمان اس عمل کو محض انتظامی کارروائی نہ سمجھیں بلکہ ایک جمہوری اور اجتماعی فریضے کے طور پر انجام دیں۔

ان قائدین نے کہا ہے کہ "ہم سب کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس بار ایک بھی مسلمان ووٹر کا نام لسٹ سے محروم نہ رہے۔ اگر اس کے لیے آپ کو دفتر یا دکان سے چھٹی لینی پڑے، تب بھی یہ قربانی قبول ہے۔ کیونکہ ووٹ نہ ہونے کی قیمت اگلی پوری مدت تک ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

ریاست کی مساجد اور دینی ادارے معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کا موثر ذریعہ ہیں۔ علما کرام سے خصوصی درخواست کی گئی ہے کہ وہ جمعے کے خطبوں میں ووٹر ویریفیکیشن کو موضوع بنائیں، اس کی اہمیت پر روشنی ڈالیں، اور ہر نماز کے بعد مقتدیوں کو اس عمل میں شرکت کی تلقین کریں۔

بعض مساجد میں تو یہ کام شروع ہو چکا ہے، اور وہاں کی مساجد میں اعلانات اور خطابات کے ذریعے عوام کو اس بات کی طرف راغب کیا جا رہا ہے کہ وہ فوراً ووٹر ویریفیکیشن کروائیں۔

اس وقت ہم ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں صرف جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ اگر ووٹ ہمارا حق ہے تو اس کی حفاظت ہماری ذمے داری بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا نمائندہ پارلیمان یا اسمبلی میں بیٹھے، تو ہمیں اس عمل میں اپنی شمولیت یقینی بنانی ہوگی۔

کسی فرد کا ووٹر لسٹ میں نام شامل نہ ہونا صرف اس فرد کی محرومی نہیں بلکہ پوری قوم کے جمہوری حق کی کمزوری ہے۔

اب وقت ہے کہ ہم شعور اور عمل کے ساتھ اس مہم میں شریک ہوں۔ صرف یہ جان لینا کافی نہیں کہ ووٹر لسٹ کی تصدیق ہو رہی ہے، بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟

ہر فرد کو چاہیے کہ اپنی اور اپنے گھر کے تمام افراد کی ووٹر لسٹ میں موجودگی کی تصدیق کرے۔

اگر کسی کا نام نہ ہو تو فوراً فارم 6 جمع کرائے۔

اپنے محلے کے لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کرے۔

دینی، سماجی اور تعلیمی ادارے اس عمل کو تحریک کی صورت دیں۔

یہ محض ایک سرکاری مہم نہیں، یہ قوم کی آواز کی بازیافت ہے۔

یہ وقت ہے شکایت کے بجائے شرکت کا۔

یہ وقت ہے خاموشی کے بجائے کوشش کا۔

اور یہ وقت ہے سوچنے کے بجائے کچھ کر گزرنے کا۔

خدا نہ کرے کہ ہم یہ موقع بھی کھو بیٹھیں۔

٭٭٭

Comments are closed.