نئی نسل اور فتنۂ ارتداد
✍️ ابو حذیفہ یوسفی
مدرسہ نجم الاسلام سکت پور، اعظم گڑھ
اگر ہم مسلمانوں کے موجودہ حالات پر ایک نظر ڈالیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ امت کس طرح ٹوٹ پھوٹ اور زوال کا شکار ہے۔ ہر پہلو سے جائزہ لینے پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ میڈیا نے ہمارے اذہان کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، اور یہ ذہنی غلامی کوئی نئی چیز نہیں بلکہ ٹیلی ویژن کے دور سے ہی شروع ہو چکی ہے۔ مغربی بے حیائی اور لادین تہذیب کو رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے میں داخل کیا گیا، ٹی وی سیریلز کے ذریعے ذہنوں میں آزاد خیالی اور مذہب بیزاری کو پروان چڑھایا گیا۔
ذرا غور کیجئے! ہمارے دین اسلام کا مذہبی تشخص اب صرف چند ظاہری رسومات تک محدود ہو چکا ہے؛ جمعہ کی دو رکعت نماز، رمضان کے روزے، عید الفطر و عید الاضحیٰ کی خوشیاں، محرم کا شربت اور چند محدود دینی مظاہر… حقیقت سے ناآشنا نئی نسل کہاں جا رہی ہے؟
رسول اکرم ﷺ نے متعدد احادیث میں فتنوں کی خبر دی ہے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ اپنے ایمان کو ان سے بچائے رکھو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان فتنوں کی وجہ سے تمہارا ایمان تمہارے سینے سے نکل جائے اور تمہیں اس کی خبر بھی نہ ہو۔ کیونکہ ایسے ادوار آئیں گے جب ایمان سلب ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
حدیثِ مبارکہ کے الفاظ ہیں:
"فتنوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، وہ فتنے ایسے ہوں گے جیسے تاریک راتیں؛ انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، اور دین کو دنیا کی تھوڑی سی چیز کے بدلے بیچ ڈالے گا۔” (صحیح مسلم)
آج کا نوجوان مغربی کلچر اور ان کے لائف اسٹائل کو اپنانے میں ہی کامیابی سمجھ رہا ہے۔ فکری ارتداد اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ایک مسلم لڑکی سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنے والے داڑھی والے نوجوان کے رشتے کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتی ہے کہ اسے داڑھی والا شوہر نہیں چاہیے! بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ کورٹ میرج کر رہی ہیں۔
آج آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں پورے بھارت میں مسلم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے سرگرم ہیں، جس کے خوفناک نتائج ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔ ہر سال ہزاروں مسلم بچیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کر کے فتنۂ ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں اور اپنی دنیا و آخرت برباد کر رہی ہیں۔
یہ المناک صورتِ حال مسلم تنظیموں اور علمائے کرام کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ فتنۂ ارتداد کے اعداد و شمار بڑے افسوس ناک اور تکلیف دہ ہیں۔
فتنۂ ارتداد ایک سنگین چیلنج ہے جو ہمیشہ سے امت مسلمہ کے لیے آزمائش رہا ہے۔ اس کے اسباب اور اس کے سد باب کے طریقے کو سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے تاکہ اس فتنہ کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ ہمیں دینی تعلیمات کے فروغ اور عقائد کی حفاظت کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
دوسری طرف مسلمانوں پر ایسا خوف مسلط کر دیا گیا ہے کہ ذرا سی آزمائش یا مشکل پر دلوں میں گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ کا خوف دلوں سے نکل گیا اور دنیاوی طاقتوں، حکومتوں اور وبائی امراض کا خوف دلوں پر چھا گیا ہے۔ مسلمان ہونے کے باوجود دین پر عمل کرنے میں شرمندگی محسوس کی جاتی ہے۔ ظالموں کا ڈر دلوں پر غالب آچکا ہے، حکومت کے فیصلے پورے انہماک سے سنے جاتے ہیں لیکن پانچ وقت موذن کی "اللہ اکبر” کی صدا کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوں اور آخرت میں کامیاب و کامران ہوں، اپنے رب اور پیارے آقا ﷺ کو خوش کر سکیں، تو آج ہی عہد کیجیے کہ ہر حال میں اپنے اور اپنی اولاد کے ایمان کی حفاظت کریں گے۔ جان، مال، عزت و آبرو، اور دنیا کی ہزار نعمتیں ایمان کے مقابلے میں ہیچ سمجھیں گے، لیکن ایمان کا سودا ہرگز نہیں کریں گے۔
Comments are closed.