اپوزیشن متحد ہو کر لڑے بہار الیکشن
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
بہار کے الیکشن کا ابھی اعلان نہیں ہوا ہے ۔ کچھ وقت باقی ہے لیکن وہ ہر خاص و عام کی گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہے ۔ اس کی وجہ ہے الیکشن کمیشن کے ذریعہ بہار ووٹر لسٹ کی گہرائی سے نظر ثانی ۔ دوسرے الفاظ میں اسے بی جے پی کی ووٹ جوڑنے گھٹانے کی مہم کہا جا سکتا ہے ۔ انتخابی کمیشن ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے آدھار، ووٹر کارڈ اور راشن کارڈ کو مسترد کر اپنا اور والدین کی پیدائش کا سرٹیفکٹ، ہائی اسکول کا سرٹیفکٹ یا ذات کا سرٹیفکٹ مانگ رہا ہے ۔ بہار میں 61.80 فیصد پڑھے لکھے ہیں، چھ میں سے ایک کے پاس پیدائش کا سرٹیفلٹ ہے، 16 فیصد کے پاس ذات کا سرٹیفکٹ اور صرف 14 فیصد ہائی اسکول پاس ہیں ۔ ایسے میں یہ دستاویز جو ووٹر بننے کے لیے طلب کئے جا رہے ہیں کہاں سے آئیں گے ۔ اس طرح کے کاغذ ووٹر بننے کے لئے اس سے پہلے کبھی نہیں مانگے گئے ۔ آدھار کا تو حکومت نے یہ کہہ کر پروپیگنڈہ کیا تھا "میرا آدھار میری پہچان” کارڈ پر لکھا تھا آدھار عام آدمی کا ادھیکار ۔ آدھار کو بینک کھاتہ، پین نمبر، راشن کارڈ، گیس کنکشن سے لنک کرایا گیا ۔ حکومت کی کسی بھی اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے آدھار ضروری ہے ۔ الیکشن کمشن کے اس قدم نے بہار کے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ۔ اپوزیشن کے ذریعہ بہار بند کے دوران عوام کا زبردست غصہ دکھائی دیا ۔
اپوزیشن کے بہار بند کو ملی عوامی حمایت سے نہ صرف بی جے پی کے خیمہ میں بوکھلاہٹ پیدا ہوئی بلکہ الیکشن کمیشن کا جھوٹ بھی سامنے آیا ۔ خود بی ایل او کیمرے پر کہتے دکھائی دیئے کہ ابھی آدھے فارم بھی نہیں بٹے ہیں ۔ 25 جولائی تک نظر ثانی کا کام مکمل نہیں ہو سکتا ۔ اس بند نے ہی ٹی ڈی پی کو الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کے لئے مجبور کیا ہے ۔ خط میں کمیشن سے کہا گیا ہے کہ یہ کام اسے انتخاب سے چھ ماہ پہلے کرنا چاہئے عین الیکشن کے وقت نہیں ۔ دوسرے جس کا ووٹر لسٹ میں نام ہے اس سے دستاویز مت مانگئے ۔ تیسرے آپ ووٹر لسٹ میں ہی سدھار کیجئے اور چوتھی تجویز ہے کہ اگر کسی کا نام کاٹ رہے ہیں تو اسے ثابت کرنے کے لئے پورا موقع دیجئے ۔ خیر یہ لڑائی چلتی رہے گی اسے اپوزیشن کو اور. طاقت سے لڑنا ہوگا ۔ ایک بھی ووٹ کٹے نہیں یہ دیکھنا ہوگا ۔ دراصل کمیشن صحیح غلط دیکھ کر ووٹ نہیں کاٹے گا، اس لیے وہ ووٹر رویژن نہیں لایا ہے ۔ اس کا سیدھا مقصد ہے ان ووٹوں کو کاٹنا جو اپوزیشن کو جا سکتے ہیں ۔ مہاراشٹر میں ووٹ بڑھا کر بی جے پی کو بتایا تھا یہاں ووٹ کاٹ کر کمیشن بی جے پی کی جیت کا امکان بڑھانا چاہتا ہے ۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ گیا، اس نے کچھ سخت سوال تو پوچھے لیکن الیکشن کمیشن کی اس کاروائی پر کوئی روک نہیں لگائی ۔ نہ کوئی آرڈر پاس کیا بلکہ کچھ مشورے دیئے ۔ جس پر الیکشن کمیشن دھیان دے گا اس کی امید کم ہے ۔ سپریم کورٹ کا کام فیصلہ دینا ہے صلاح کار بننا نہیں ۔ ای وی ایم کے بارے میں بھی عدالت نے کمیشن کی بات کو ہی صحیح مانا تھا ۔ مودی کے رہتے یہ سب کچھ ہوتا رہے گا مگر اپوزیشن کو اپنی انتخابی حکمت عملی اور اتحاد پر توجہ دینی ہوگی ۔ اس وقت بی جے پی اور نریندر مودی سب سے کمزور حالت میں ہیں ۔ 11 سال میں پہلی مرتبہ ان کے سپورٹر بھی ان سے مایوس ہیں ۔ بہار بی جے پی اور نریندر مودی کے لئے ضروری ہے کیونکہ ان کی سرکار بہار اور آندھرا پردیش کی حمایت پر ٹکی ہے ۔ بی جے پی بہار میں نتیش کے بغیر حکومت بنانے کی کوشش میں ہے ۔ پچھلے الیکشن میں نتیش کو کمزور کرنے کے لیے چراغ پاسوان کو استعمال کیا گیا تھا ۔ اس مرتبہ پرشانت کشور کو آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ کانگریس اور تیجسوی کو بہار میں اس کی کاٹ تیار کرنی ہوگی ۔
کانگریس نے لوک سبھا الیکشن سے پہلے 12 ریاستوں کے نگراں بدلے تھے ۔ اس وقت بہار میں بھکت چرن داس کی جگہ راجستھان کے موہن پرکاش کو نگراں بنایا گیا تھا ۔ ان کے رہتے بھی بہار میں کانگریس کو زمینی کارکنوں کا اکال پڑا ہوا ہے ۔ اسی طرح بہار کانگریس کمیٹی میں اے آئی سی سی کا نمائندہ کرشن الاورو کو بنایا گیا ہے ۔ جو ملیکارجن کھرگے اور راہل کے قریبی ہیں لیکن وہ بہار کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ۔ طارق انور اور میرا کمار جن کا بہار سے تعلق ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہے ۔ نہ ان سے بہار کے بارے میں مشورہ کیا جا رہا ہے ۔ بہار کے بارے میں وینو گوپال کی مانی جا رہی ہے ۔ کانگریس نے کانگریس نے بہار کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اے آئی سی سی کے 58 نگراں کا تقرر کیا ہے ۔ جن کی ذمی داری امیدواروں کی سفارش کرنا، انتخابی حکمت عملی تیار کرنا اور تنظیم کو بہار میں مضبوط کرنا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود بہار کانگریس میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ پچھلے اسمبلی الیکشن میں کانگریس 40 سیٹوں پر لڑی تھی، اس کا اسٹرائیک ریٹ آر جے ڈی اور لیف کے مقابلہ کافی خراب رہا تھا ۔ کانگریس کو 2014 سے مہاراشٹر الیکشن تک اپنی ہار کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ وہ اپنی پچھلی غلطیوں کو دوہرانے سے بچ جائے ۔
اپوزیشن کے اندرونی اختلاف بہار بند کے دوران بھی سامنے آیا ۔ راہل گاندھی کے رتھ پر پپو یادو اور کنہیا کمار کو چڑھنے سے روکا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ لالو اور تیجسوی ان کو پسند نہیں کرتے ۔ پپو یادو نے میڈیا کے سامنے آ کر اس بات کو سنبھال لیا ۔ ورنہ اس کا بہت غلط پیغام جاتا، کامیاب بند کا عوام پر جو اثر ہوا وہ ضائع ہو جاتا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کو پہلے سے مینج کیا جاتا ۔ کوئی سینئر لیڈران نیچے رہتے جو اس طرح کی صورتحال پیدا نہ ہونے دیتے ۔ یہ وقت بہت اہم ہے ایک طرف مودی کی عوام میں مقبولیت کم ہوئی ہے ۔ دوسری طرف نتیش کمار بیمار ہیں ۔ پٹنہ میں ہی کھلے عام کرائم ہو رہے ہیں ۔ مجرم بے خوف گھوم رہے ہیں، بہار کی ترقی کے نام پر کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔ مسلمان اور دلت بھی نتیش سے ناراض ہیں ۔ تیسرے عوام میں عام طور پر حکومت کے خلاف غصہ ہے ۔ اگر اس وقت اپوزیشن بہار میں بی جے پی کو نہیں ہرا پائی تو لمبے وقت تک واپس اندھیرا چھا جائے گا ۔ بہار میں کانگریس بی جے پی کے مل کر لڑنے کا سوال تو بعد کا ہے پہلا سوال یہ ہے کہ کانگریس میں وہاں سب کچھ ٹھیک کیوں نہیں ہے ۔ تیجسوی ہر الیکشن میں اچھا کر رہے ہیں لیکن جیت نہیں رہے ہیں ۔ اس بار کامیاب ہو سکتے ہیں مگر سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ۔ راہل کو چاہئے کہ وہ تیجسوی اور لالو کو سمجھائیں کہ یہ دونوں تیجسوی کے وزیر اعلیٰ بننے میں معاون ہیں روکاوٹ نہیں ۔ وزیر اعلیٰ بننے کے لئے پہلے جیتنا پڑے گا ۔ سیاست موقع کا فائدہ اٹھانے کا نام ہے گنوانے کا نہیں ۔ سب سے زیادہ فائدہ تیجسوی کو ہوگا لیکن اس کے لیے تمام اختلافات ختم کر کے اپوزیشن کو متحد ہو کر لڑنا اور الیکشن جیتنا پڑے گا ۔
Comments are closed.