کیا تمھیں بیٹیوں سے محبت نہیں؟

 

پسِ آئینہ: سہیل انجم

اُن دو کالموں کو پڑھ کر، جو سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں محمود شام اور یاسر پیرزادہ کے تحریر کردہ ہیں، ہم بہت دیر تک سوچتے رہے۔ ہماری عجیب و غریب کیفیت ہو گئی۔ آنکھیں اشک آلود ہو گئیں۔ دل بے چین ہو گیا۔ ان کالموں کی ایک ایک سطر سے ان دو بدنصیب بیٹیوں کا غم جھلک رہا تھا جو اہل خانہ کی سنگ دلی و سفاکی کے سبب اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ دونوں بیٹیاں سامنے آکر کھڑی ہوگئیں۔ پوچھنے لگیں کیا تمھیں بیٹیوں سے محبت نہیں۔ کیا وہ تمھارے جگر کے ٹکڑے نہیں۔ کیا وہ تمھارے دل کی دھڑکن نہیں۔ دونوں دست بستہ فریاد کرنے لگیں کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک مت کرو۔ ہمیں مت مارو۔ ہمیں مت دھتکارو۔ دونوں میں سے ایک اپنے ملک کی ہے دوسری پڑوسی ملک کی۔ ایک غیر مسلم ہے تو دوسری مسلمان۔ لیکن ہم اسے مذہب کے چشمے سے کیوں دیکھیں۔ بیٹیاں کسی بھی مذہب کی ہوں، ان کا ایک مذہب سب پر بھاری ہوتا ہے اور وہ ہے محبت کا مذہب۔ وہ والدین سے محبت اور ان کی خدمت کرنا جانتی ہیں۔ مائکے میں رہتی ہیں جب بھی خدمت کرتی ہیں، سسرال چلی جاتی ہیں جب بھی خدمت کرتی ہیں۔ والدین اور ان کے گھر سے ان کی محبت میں کسی بھی لمحے اور کسی بھی مقدار میں کمی نہیں آتی۔ بیٹیاں گھر آجائیں تو مانو والدین کی عید ہو جاتی ہے۔

ہم نے یہ ضروری تمہید ان دونوں بد نصیب بیٹیوں کا واقعہ اجمالاً بیان کرنے کے لیے باندھی ہے۔ پہلا واقعہ گوڑگاوں کا ہے جہاں ایک 25 سالہ ٹینس کھلاڑی رادھیکا یادو کو اس کے والد دیپک یادو نے جمعرات کو پانچ گولیاں مار کر خاموش کر دیا۔ وہ بھی اُس وقت جب وہ کچن میں اس کے لیے کھانا بنا رہی تھی۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک نامور ٹینس کھلاڑی تھی اور کوچنگ کرکے اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتی تھی۔ وہ متعدد قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے چکی تھی۔ لیکن کندھے میں چوٹ کے بعد وہ ایک اکیڈمی میں کھلاڑیوں کی کوچنگ کرنے لگی تھی۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی فعال تھی۔ باپ اس کی کامیابی سے خوش نہیں تھا۔ وہ جب بھی کہیں جاتا لوگ اس کو طعنے دیتے کہ وہ بیٹی کی کمائی کھا رہا ہے۔ اس نے کئی بار اپنی بیٹی پر کوچنگ چھوڑنے کے لیے دباو ڈالا جس کے لیے وہ تیار نہیں تھی۔ سماج کے طعنوں سے اس کا دل چھلنی ہو گیا اور اس نے گولی مار کر بیٹی کا جسم چھلنی چھلنی کر دیا۔ دوسرا واقعہ پڑوسی ملک کی اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کا ہے۔ گزشتہ دنوں اس کی سڑی گلی اور متعفن لاش کراچی کے ایک اپارٹمنٹ میں پائی گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت آٹھ نو ماہ قبل ہی ہو چکی تھی۔ وہ وہاں کرائے کے فلیٹ میں رہتی تھی۔ جب مکان مالک نے پولیس میں فلیٹ خالی کرانے کی رپورٹ درج کرائی تو پولیس نے فلیٹ کا تالا توڑا اور وہاں کا منظر دیکھ کر سب دنگ رہ گئے۔ اس کے والدین لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ والدین اور بالخصوص باپ کو اس کا شو بز میں جانا پسند نہیں تھا۔ وہ اس سے ایک طرح سے لاتعلق تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کی بیٹی آٹھ نو ماہ قبل ہی مر چکی ہے۔ حمیرا کے چچا کے مطابق اس کا اپنے خاندان سے رابطہ صرف فون پر تھا۔ وہ چار چھ ماہ پر لاہور کا چکر لگا لیتی تھی۔ لیکن بہرحال جب اس کی لاش دریافت ہوئی تو اس کے والد نے لاش لینے سے انکار کر دیا۔ تاہم بعد میں اس کے بھائی اور بہنوئی نے لاش وصول کی اور جمعے کو لاہور میں اس کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ کیا حمیرا اپنے والدین سے نفرت کرتی تھی، جی نہیں، وہ بھی دوسری بیٹیوں کی طرح والدین سے محبت کرتی تھی۔ ایک ٹی وی پروگرام کے اختتام پر اس نے مداحوں کے نام دل کو چھو لینے والا پیغام دیا تھا۔ اس نے اپنے مداحوں پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ والدین کی عزت کریں، انھیں ساتھ لے کر چلیں۔ آپ کا جو بھی پیشہ ہو آپ ماں باپ کی دعاوں سے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس نے جانوروں سے بھی محبت کی تلقین کی۔ اس کے مطابق گلی محلوں اور سڑکوں پر موجود جانوروں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ معصوم سی مخلوق ہیں ان کا بھی خیال رکھیں۔ دیکھا جائے تو اس کے اس پیغام میں بہت کچھ پوشیدہ ہے جو شاید والدین سے اس کے اچھے یا برے رشتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کی وہ پوسٹ بھی وائرل ہورہی ہے جس میں اس نے اپنے ہاتھوں سے پینٹ کیا ہوا والد کا پورٹریٹ شیئر کیا تھا۔ اس پوسٹ میں اس نے اپنے والد کو ہیرو قرار دیتے ہوئے اسے سال گرہ کی مبارک باد بھی دی تھی۔ بہرحال ہم لوگ ایسے واقعات کو اخباروں میں پڑھتے اور ٹی وی و سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں اور سرسری گزر جاتے ہیں۔ ہم نے بھی ان واقعات پر معمول کے واقعات سمجھ کر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ ہم نے اگر مذکورہ کالموں کو نہیں پڑھا ہوتا تو ہمیں بھی ان واقعات کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا ہوتا۔ معاشرہ بیٹیوں کے ساتھ کیسا ناروا سلوک کرتا ہے یہ واقعات اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ غیرت کے نام پر بیٹیوں پر ظلم و زیادتی اور یہاں تک کہ ان کے قتل کی وارداتیں آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن ہمارے ضمیر کو کچوکے نہیں لگتے۔ ابھی ایک ایسی خبر اخباروں میں پڑھی جس نے چونکا دیا۔ بھونیشور کے ایک گاوں میں ایک عورت اور اس کے شوہر کو بیل کی طرح جوئے میں باندھ دیا گیا اور انھیں کھیت میں ہل چلانے پر مجبور کیا گیا۔ ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے سماجی رسوم و رواج سے بغاوت کرتے ہوئے شادی کی تھی۔ لڑکا لڑکی کے خالہ کا بیٹا ہے اور وہاں کے رواج کے مطابق ایسی شادی کی اجازت نہیں تھی۔

ان واقعات کو پڑھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی قبیح اور غیر انسانی رسم اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ ابتدائی دونوں واقعات کو پڑھ کر ہمیں بالی ووڈ کی ایک فلم ’دی میسیج‘ کا ایک منظر اور اس کے مکالمے یاد آئے۔ ابتدائے اسلام میں مشرف بہ اسلام ہونے والے صحابہ چھپ چھپ کر قرآن سیکھ رہے ہیں۔ عمار بن یاسررضی اللہ عنہما صبح ہونے پر جب اپنے گھر جاتے ہیں تو ان کی والدہ سمیہ اور والد یاسر سوالوں کی بوچھار کر دیتے ہیں۔ اس دوران ایک بت ٹوٹ کر زمین پر گر جاتا ہے۔ ماں خوف زدہ ہو جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس نے زندگی بھر ہماری مدد کی ہے۔ عمار کہتے ہیں کہ یہ تو گر کر ٹوٹ گیا اپنی بھی مدد نہیں کر سکا۔ والدہ کہتی ہیں تم کس کی باتیں سنتے رہتے ہو۔ وہ کہتے ہیں میں محمد کی باتیں سنتا ہوں اور پھر اسلام کا پیغام سناتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آج رات ہی انھوں نے فرمایا کہ بچیوں کو زندہ دفن کرنا بند کر دو۔ اس پر والد کہتے ہیں میں خوش قسمت ہوں کہ آج تمھاری ماں کے ساتھ ہوں۔ والدہ کہتی ہیں کہ تم جانتے ہو ہم کبھی نہ مل پاتے یاسر اور تم پیدا ہی نہیں ہوئے ہوتے عمار، اگر میں بھی زندہ دفن ہو جاتی اپنی دو بہنوں کی طرح۔ لیکن میرا باپ ایسا نہ کر سکا تیسری مرتبہ۔ جب دوسری بیٹی پر مٹی ڈال رہا تھا تو میری منی سی بہن نے اس کی انگلی پکڑ لی۔ اس نے میری ماں کو بعد میں بتایا کہ جب تک وہ مر نہ گئی میرا باپ اس کے منے ہاتھ سے اپنی انگلی چھڑا نہ سکا۔ وہ ہمت ہی نہ کر سکا۔ جب میں پیدا ہوئی تو میرا باپ باہر نکل گیا۔ وہ چلایا کہ وہ ایسا نہیں کر سکے گا، کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا۔ اس پر یاسر کہتے ہیں ’سمیہ یہی دستور ہے‘۔ وہ کہتی ہیں ’یہ ظلم ہے‘۔ پھر وہ عمار کو قرآن سیکھنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ ظلم کا یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔

موبائل: 9818195929

Comments are closed.