مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے 7 این سی سی کیڈٹس نے سی اے ٹی سی-42 کیمپ میں اعزازات حاصل کیے
علی گڑھ، 17 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی این سی سی اکائی کی1/8 اور 2/8 کمپنیوں کے سات کیڈٹس نے 2 جولائی تا 11 جولائی 2025 منگلایتن یونیورسٹی، بیسوان میں منعقدہ مشترکہ سالانہ تربیتی کیمپ (سی اے ٹی سی-42) میں عمدہ کارکردگی اور ٹیم اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعزازات حاصل کیے۔ یہ کیمپ 8 یو پی بٹالین این سی سی، علی گڑھ کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر یو او دیپک کمار کو کیمپ سینئر کے طور پر ان کے کردار کے لئے گولڈ میڈل سے نوازا گیا، جبکہ سارجنٹ محمد عامر حسین نے ثقافتی پروگرام میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ان کے علاوہ سارجنٹ آرین انصاری نے گلوکاری کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتا اور سارجنٹ اِبشار علی کو فلیگ ایریا ایونٹ میں شرکت پر گولڈ میڈل دیا گیا۔ رسہ کشی کے مقابلے میں سارجنٹ اویس خان، سارجنٹ دیپانشو اور سارجنٹ یوراج مان رانا نے اجتماعی طور پر گولڈ میڈلز حاصل کیے۔
دس روزہ کیمپ کے دوران کیڈٹس کو کیمپ کمانڈنٹ اور 8 یو پی بٹالین این سی سی کے کمانڈنگ آفیسر کرنل اجے لمبا کی جانب سے مسلسل حوصلہ افزائی اور رہنمائی ملی۔ کیڈٹس کی کامیابی پر اے ایم یو این سی سی اکائی دفتر میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جہاں انہیں 1/8کوائے کے کمانڈر کیپٹن فاروق احمد ڈار اور 2/8 کوائے کے کمانڈر کیپٹن نجف علی خان نے اعزازات سے نوازا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے پروفیسر شاہ عالم نے اڑیسہ میں بین الاقوامی نفسیات سیمینار میں کلیدی خطبہ پیش کیا
علی گڑھ، 17 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ نفسیات کے صدر پروفیسر شاہ عالم نے اڑیسہ کی فقیر موہن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سیمیناربعنوان ”تبدیل ہوتے عالمی منظرنامے میں نفسیات کا اطلاق: تفہیم، نفاذ اور تبدیلی“ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کلیدی خطبہ پیش کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر عالم نے کہا کہ نفسیات کی اہمیت ہر فرد اور ہر مقام کے لیے آفاقی ہے اور اسے عملی طور پر حقیقی دنیا کے مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہندوستان میں دماغی صحت کے سنگین مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ملک کی 60 فیصد سے زائد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، لہٰذا تعلیم، صحت اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ میں نفسیاتی امداد کی فوری ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک معاشرہ میں بیداری پیدا نہیں کی جاتی، ہندوستان کا دماغی صحت مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔
سرکاری اعداد و شمار کے حوالہ سے پروفیسر شاہ عالم نے کہا کہ ملک کی 20 فیصد آبادی کو باقاعدہ کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے، اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کم از کم 15 لاکھ کاؤنسلرز کی تربیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے تربیت یافتہ ماہرین کی کمی کے پیش نظر دماغی صحت کی خود سے دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا۔ خودکشی اور نشے کی لت دو ایسے مسائل ہیں جن کی روک تھام کے لئے نفسیاتی مداخلت اشد ضروری ہے۔ انھوں نے دماغی صحت کے فروغ کے لیے خوداعتمادی اور ڈسپلن کی تربیت کو لازمی حکمت عملی کے طور پر اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی فیکلٹی ممبر نے بھُج میں چیتے کے تعارف اور جنگلاتی زندگیوں کے تحفظ پر ورکشاپ کی قیادت کی
علی گڑھ، 17 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نازنین زہرہ نے گجرات کے ضلع بھُج میں ایک روزہ ورکشاپ کی قیادت کی، جس کا عنوان تھا: جنگلاتی زندگیوں کا تحفظ اور کَچھ کے بنّی گراس لینڈ میں چیتے کو متعارف کرنا“۔ یہ ورکشاپ ڈاکٹر زہرہ نے کَچھ کے محکمہ جنگلات کے اشتراک سے منعقد کی، جو جنگلاتی زندگیوں کے تحفظ کے سلسلہ میں فیلڈ میں جاری ان کی علمی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
ورکشاپ میں 100 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا، جن میں رینج فاریسٹ آفیسرز، فاریسٹرز، فاریسٹ گارڈز، محققین اور دیگر سینئر افسران شامل تھے۔
ورکشاپ کا آغاز کَچھ سرکل کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ ڈاکٹر سندیپ کمار کے صدارتی خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کَچھ کے علاقے میں چیتے کو لانے اور اسے رکھنے سے متعلق حکمت عملی اور چیلنجوں پر روشنی ڈالی اور اے ایم یو کے ساتھ اشتراک کو سراہتے ہوئے بنّی گراس لینڈ میں سائنسی بنیادوں پر محفوظ پناہ گاہیں تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر نازنین زہرہ نے ورکشاپ میں ایک لیکچر دیا جس میں انھوں نے جنگلاتی زندگیوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور خشک علاقوں میں چیتوں کو دوبارہ لانے پر اپنے تحقیق کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے طویل مدتی حکمت عملیوں جیسے کہ نان انویزیو مانیٹرنگ (بغیر دخل اندازی کے نگرانی)، ایڈیپٹیو مینجمنٹ اور جدید ٹکنالوجی کے انضمام پر زور دیا۔ انہوں نے فیلڈ میں کام کرنے والے جنگلاتی عملے کی تعریف کی اور انہیں جدید وائلڈ لائف مانیٹرنگ آلات کی تربیت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ترغیب دی۔
ڈاکٹر زہرہ کی رہنمائی میں اے ایم یو کے محققین مسٹر شہباز خان اور مسٹر مرزا الطاف بیگ نے بھُج کے چَڈوا راکھل جنگل میں حیواناتی تنوع پر اپنی جاری تحقیق کے نتائج پیش کیے۔ انہوں نے کیمرہ ٹریپس کی مدد سے علاقے میں موجود پستانوں والے جانوروں کی فراوانی اور نان انویزیو سروے تکنیکوں کی افادیت کو اجاگر کیا۔ مسٹر بیگ نے فیلڈ کے ڈیٹا کو جمع کرنے اور نیویگیشن کے لیے موبائل ایپلی کیشنز کا تعارف کراتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیجیٹل ٹولز کس طرح کنزرویشن کے کاموں میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورکشاپ کے انتظامی امور، شرکاء کے ساتھ رابطہ سازی اور کِٹ کی تقسیم کی ذمہ داری اے ایم یو کے ہی مسٹر انتخاب نے انجام دی۔
ورکشاپ کا اختتام ایک پینل مباحثے کے ساتھ ہوا جس میں سینئر فاریسٹ افسران، اے ایم یو کے محققین اور فیلڈ اسٹاف نے شرکت کی۔ اس مباحثے میں مشترکہ تحفظاتی حکمت عملیوں پر بامعنی گفتگو ہوئی۔ تمام شرکاء کو اسناد اور یادگاری نشان پیش کیے گئے۔ بنّی کے اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فاریسٹ مسٹر پریمل پٹیل نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ فارماکولوجی میں بی بی اے یو، لکھنؤ کے طلبہ کی سمر ٹریننگ مکمل
علی گڑھ، 17 جولائی: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی (بی بی اے یو)، لکھنؤ کے بی ایس سی، لائف سائنس کے طلبہ آرین مشرا اور انوراگ کے لیے ایک ماہ پر مشتمل سمر ٹریننگ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی۔
اختتامی تقریب میں دونوں طلبہ نے اے ایم یو میں اپنے عملی تجربے پر مبنی ایک جامع پرزنٹیشن دیا، جس میں انہوں نے فارماکوویجیلنس (دواؤں کی اثرات کی نگرانی) کے عملی نکات، جانوروں پر تجربات کے ضوابط، اور ڈرگ اینڈ پوائزن انفارمیشن سینٹر (ڈی پی آئی سی) کی کارگزاری سے متعلق اپنی تربیت کے اہم نکات کو اجاگر کیا۔
صدر شعبہ ڈاکٹر سید ضیاء الرحمٰن نے دونوں طلبہ کو کورس کی تکمیل کی سند، یادگاری تحائف اور شعبہ سے شائع شدہ کتابیں پیش کیں۔ اس موقع پر شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر احمر حسن، ڈاکٹر عمار خالد، مسٹر غفران علی کے ساتھ پی جی اور پی ایچ ڈی اسکالرز موجود تھے۔
Comments are closed.