آپ کے شرعی مسائل

 

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی صاحب مدظلہ العالی

بانی و ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

 

دوسرا سلام ، دیر تک

سوال:- امام صاحب جب سلام پھیرتے ہیں تو پہلے سلام یعنی سیدھے طرف سے زیادہ بائیں طرف دیر تک سلام کہتے ہیں ، دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر مقتدی سلام پھیر کر اپنا منھ سیدھا کرلیتے ہیں جب کہ امام صاحب کا سلام ختم نہیں ہوتا ، امام صاحب کی توجہ اس جانب کروائی گئی اور ان سے خواہش کی گئی کہ اپنا سلام مختصر کریں ، مگر انھوںنے کہا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے ، برائے مہربانی اس پر روشنی ڈالیں ۔ (شفیع اختر ، مہدی پٹنم)

جواب : – سلام کے کلمات جب یکساں ہے تو پہلے سلام کو مختصر اور دوسرے سلام کو لمبا کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں ، الفاظ کی صحیح ادائے گی ہونی چاہئے اور جہاں قاعدہ کے مطابق جتنا مد ہے ، اتنا ہی کھینچنا چاہئے ، ضرورت سے زیادہ کھینچنا اور طویل کرنا ادائے گی کے اعتبار سے بھی غلط ہے ، بعض دفعہ اس سے معنی میں تغیر بھی پیدا ہوجاتا ہے اور یہ مقتدی کے لئے بھی دشواری کا باعث ہے اور اس سے بچنے کا حکم ہے ، اسی لئے امام کے لئے رُکوع و سجدہ میں پانچ بار تسبیحات پڑھنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے ؛ تاکہ مقتدیوں میں جو تیز تسبیح پڑھنے والے ہوں ان کو تین بار پڑھ کر انتظار نہ کرنا پڑے ، اور جو آہستہ پڑھنے والے ہوں ان کو جلدی پڑھنے میں دشواری نہ پیش آئے ، اس لئے امام صاحب کو سمجھانا چاہئے ؛ البتہ اس کے علاوہ جوں ہی امام نے سلام پھیرتے ہوئے ’’ السلام ‘‘ کہا اس کی نماز مکمل ہوگئی ، اس لئے اگر مقتدی نے امام صاحب کے آخری کلمات کہنے سے پہلے اپنا رُخ سیدھا کرلیا تو ان کی نماز ہوگئی : ’’ الإمام إذا فرغ من صلا تہ ، فلما قال السلام جاء رجل واقتدی بہ قبل أن یقول علیکم لا یصیر داخلاً فی صلا تہ ، لأن ھذا سلام‘‘ ۔ (شامی : ۲؍۱۶۲)

نماز تہجد — رکعات و اوقات

سوال:- (الف) تہجد کی نماز کم سے کم کتنی اور زیادہ سے زیادہ کہاں تک پڑھی جاسکتی ہے ؟

(ب) تہجد کا وقت کب شروع ہوتا ہے اور کب ختم ہوتا ہے اور بہتر وقت کونسا ہے ؟

(ج ) نماز تہجد کا جہراً پڑھنا افضل ہے یا سراً ؟

( د ) اگر کسی کے ذمہ قضا باقی ہوتو تہجد پڑھنا افضل ہے یا قضاء عمری ؟

( محمدخالد ، مغلپورہ )

جواب : – (الف) مختلف احادیث کو سامنے رکھ کر فقہاء نے جو بات لکھی ہے ، وہ یہ کہ تہجد کی کم سے کم مقدار دو رکعت ہے ، متوسط مقدار چار رکعت ہے اور زیادہ مقدار آٹھ رکعت ہے ، جو رسول اللہ ا کا عام معمول تھا : ’’ فینبغی القول بأن اقل التہجد رکعتین و اوسطۃ أربعا واکثرہ ثمان‘‘ ۔ ( ردالمحتار : ۲؍ ۳۶۸)

(ب ) عشاء کی نماز کے بعد ہی تہجد کا وقت شروع ہوجاتا ہے ، حدیث میں تہجد کو ’ صلاۃ اللیل ‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ؛ چنانچہ رسول اللہ انے فرمایا : کہ چاہے بکری کا دودھ دوہنے کے بقدر نماز پڑھی جائے ؛ لیکن صلاۃ اللیل پڑھنا چاہئے ، اور یہ بھی فرمایا کہ نماز عشاء کے بعد جو بھی نفل پڑھی جائے ، وہ صلاۃ اللیل ہے : ’’ لا بد من صلاۃ بلیل ولو حلب شاۃ وما کان بعد صلاۃ العشاء فھو من اللیل‘‘ ( طبرانی فی الکبیر : ۱؍۲۴۵ ، مجمع الزوائد: ۲؍۲۵۲) اور نماز فجر کے شروع ہونے سے پہلے تک تہجد کا وقت باقی رہتا ہے ، اگر کسی شخص کو درمیان شب میں اُٹھنا دشوار ہو تو وہ سونے سے پہلے تہجد پڑھ سکتاہے ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ فجر کا وقت شروع ہونے سے کچھ پہلے اُٹھ جائیں اور اس وقت تہجد ادا کرلیں ، تاہم افضل وقت رات کا درمیانی تہائی ہے ، یعنی پہلی تہائی میں آرام کرے ، دوسری تہائی میں تہجد پڑھے اور تیسری تہائی میں پھر آرام کرے ، رسول اللہ اکا معمول مبارک اسی سے قریب تر تھا اور اگر نصف شب سونا چاہے اور نصف میں عبادت کرنا چاہے تو دوسرے نصف میں تہجد پڑھنا افضل ہے : ’’ولو جعلہ أثلا ثا فالأوسط أفضل ولو انصافا فالاخیر أفضل‘‘ ۔ (الدرالمختار مع الرد : ۲؍۴۶۸)

( ج ) رسول اللہ ا کا معمول مبارک تہجد میں جہراً تلاوت کا تھا ؛ البتہ آواز اتنی بلند بھی نہ ہو کہ جس سے دوسروں کی نیند میں خلل ہو ، حضرت ابوبکر ؓبہت ہلکی آواز میں پڑھتے تھے ، آپ نے ان کو آواز بلند کرنے کو کہا اور حضرت عمر ؓکی آواز زیادہ بلند ہوتی تھی تو آپ نے ان کو آہستہ پڑھنے کو کہا ، اس سے معلوم ہوا کہ معتدل آواز میں جہراً پڑھنا افضل ہے ، فقہاء نے بھی صراحت کی ہے کہ رات کی نفل نمازوں میں جہراً قرآن پڑھنا افضل ہے ؛ لیکن سراً بھی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے : ’’ وأما فی التطوعات فإن کان فی النہار یخافت ، وإن کان فی اللیل فھو بالخیار إن شاء خافت وإن شاء جہر ، والجہر أفضل‘‘ ۔ ( بدائع الصنائع : ۱؍۱۶۱)

( د ) قضاء عمری واجب ہے اور تہجد پڑھنا سنت ؛ لیکن چوںکہ نماز تہجد کی بڑی فضیلت ہے اور آپ انے فرمایا کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز نماز تہجد ہے : ’’ افضل الصلاۃ بعد الفریضۃ صلاۃ اللیل‘‘ ( مسلم ، حدیث نمبر : ۲۳۲ ) اس لئے بہتر یہ ہے کہ زیادہ وقت قضاء عمری کرے اور دو رکعت ، جو تہجد کی کم سے کم مقدار ہے ، تہجد کی نیت سے پڑھے ۔

مسجد میں نماز جنازہ اور حرمین شریفین

سوال:- حرم شریف اور مسجد نبوی میں نماز جنازہ کے لئے جنازہ کہاں رکھا جاتا ہے اور کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ؟ بعض مساجد میں نماز کے ہال کافی بڑے ہیں ، اس کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ہے ، نماز جنازہ کہاں پڑھی جائے ؟ تفصیل سے جواب دیں ۔ (ایم ، اے ، حسین ، عنبر پیٹ)

جواب : – حرم مکی میں نماز جنازہ مسجد کے اندر کعبۃ اللہ کے قریب ہوتی ہے اور مسجد نبوی میں غالباً جنازہ باہر ہوتا ہے اور نماز پڑھنے والے اندر ہوتے ہیں ،حرمین شریفین میں انتظامی اعتبار سے یہ بات دشوار ہوتی ہے کہ جنازہ باہر رکھا جائے اور سارے لوگ باہر جاکر نماز پڑھیں ، یہ ایک عذر ہے ، احناف کے یہاں اگرچہ مسجد میں نماز جنازہ ایک قول کے مطابق مکروہ تحریمی اور دوسرے قول کے مطابق مکروہ تنزیہی ہے ، علامہ حصکفی ؒوغیرہ نے مکروہ تحریمی ہونے کو ترجیح دیا ہے اور علامہ ابن ہمام اور بعض لوگوں نے مکروہ تنزیہی ہونے کو ، ( درمختار مع الدر : ۲؍ ۱۲۶) لیکن اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عذر کی بنا پر مسجد کے اندر بھی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے : ’’ انما تکرہ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا ‘‘ علامہ شامیؒ نے اس کے آگے عذر کی صورتوں کو بیان کرتے ہوئے جگہ کی تنگی کو بھی عذر میں شامل کیا ہے ، ( ردالمحتار : ۲؍ ۱۲۹) اس کے علاوہ سعودی عرب کے اہل علم اور حرمین شریفین کے ائمہ عام طورپر حنبلی المسلک ہیں اور ائمہ اربعہ میں سے امام احمدؒ اور امام شافعیؒکے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ مکروہ نہیں ہے ، ( دیکھئے : الفقہ الاسلامی وادلتہ : ۲؍۶۲ ) — آپ نے جو صورت دریافت کی ہے ، اگر وہاں مسجد سے باہر نماز جنازہ کے لئے جگہ میسر نہیں ہے تومسجد میں بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

جبراً طلاق نامہ پر دستخط

سوال:- میرے شوہر کی عمر ۵۵ سال اور میری عمر ۴۷ سال ہے ، دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں ، چار نواسے نواسیاں ہیں ، بیٹا بھی ماشاء اللہ شادی کے قابل ہے ، ہم دونوں میاں بیوی میں معمولی سی بات پر جھگڑا ہوا اور بحث و تکرار کے بعد میں بضد تھی کہ وہ مجھے طلاق دیں ؛ لیکن میرے شوہر اس کے لئے بالکل ہی تیار نہیں تھے ، بیوی نے اپنے ہاتھ سے تحریر لکھی کہ میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں ، اور ان سے دستخط کرنے کے لئے کہا ؛ لیکن شوہر ہرگز تیار نہیں تھے ، دستخط کرنے کے لئے ، لیکن میں نے بہت زور ڈالا ، اس کے باوجود بھی وہ تیار نہیں تھے ، آخر کار میں گلے میں دوپٹہ پھنساکر ان سے زبردستی دستخط کے لئے کہا ، انھوںنے ڈر و خوف کے مارے دستخط کردیئے ، اب میرے شوہر کا یہ کہنا ہے کہ وہ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتے ہیں کہ میرے دل سے ہرگز طلاق دینے کا نہیں تھا ، محض تمہاری جان بچانے کے لئے ایسا کیا ، مقامی مفتیوں نے بھی کہا کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوئی ؛ لیکن میرا ضمیر مطمئن نہیں ، مہربانی فرماکر آپ اس مسئلہ کا شرعی حل بتائیں ۔ (مہر النساء ، حیدرآباد)

جواب : – اول تو یہ بات یاد رکھئے کہ جیسے مرد کے لئے کسی مناسب سبب کے بغیر طلاق دینا گناہ ہے ، اسی طرح عورت کے لئے کسی معقول وجہ کے بغیر طلاق کا مطالبہ کرنا سخت منع ہے ، رسول اللہ انے ایسی عورتوں کے بارے میں جو اس طرح طلاق کا مطالبہ کرے ، فرمایا کہ وہ جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہیں گی :’’ أیما امرأۃ اختلعت من زوجھا من غیر بأس لم ترح رائحۃ الجنۃ ‘‘ ( ترمذی ، باب ماجاء فی المختلعات ، حدیث نمبر : ۱۱۸۶) اس لئے معمولی سے جھگڑے کی بناپر طلاق کا مطالبہ گناہ کی بات ہے اور جب خاندان کی عمر دراز عورتیں اس طرح کی حرکتیں کریں گی تو بیٹیوں اور بہوؤں پر بھی اس کا اثر پڑے گا ، اس لئے طے کرلیجئے کہ پھر آئندہ طلاق و خلع کا لفظ اپنی زبان پر نہ لائیں — شوہر کے طلاق نامہ پر دستخط کرنے کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ بیوی سامنے موجود تھی ؛ لیکن اس نے صرف دستخط کیا ، زبان سے کچھ نہیں کہا ، تو اس صورت میں شوہر کو مجبور کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو ، طلاق واقع نہیں ہوگی ؛ کیوںکہ جب بیوی موجود ہو اور زبان سے طلاق دی جاسکتی ہو تو صرف لکھ دینے سے طلاق واقع نہیں ہوگی ، اور اگر بیوی سامنے موجود نہ ہو اور شوہر کو طلاق لکھنے یا دستخط کرنے پر مجبور کردیا گیا ہو ؛ لیکن زبان سے اس نے طلاق کے الفاظ نہیں کہے ، تب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی ، دوسری صورت یہ ہے کہ شوہر نے زبان سے طلاق کے کلمات کہے تو چاہے مجبوری کی وجہ سے طلاق کے کلمات کہے ہوں یا بغیر مجبوری کے ، ہر دو صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی : ’’ وقید بکونہ علی النطق لأنہ لو أکرہ علی أن یکتب طلاق امرأتہ ، فکتب لا تطلق لأن الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ ھنا ، کذا فی الخانیۃ ‘‘ (البحر الرائق ، کتاب الطلاق : ۳؍۲۶۴) بہر حال آپ نے جو صورت لکھی ہے ، اس کے مطابق شوہر کے طلاق نامہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھیں طلاق پر مجبور بھی کیا گیا ، اس لئے بدرجۂ اولیٰ طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

سودی قرض اور جھوٹی سرٹیفکٹ

سوال:- ہمارے محلے میں ایک صاحب نے اپنی موٹر کی خریدی کے لئے بینک سے سود پر قرض حاصل کیا ہے اور انھوںنے اپنے بیٹے کے لئے انجینئرنگ کالج میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے پس ماندہ ذات کا اور کم آمدنی کا جھوٹا صداقت نامہ M.R.O سے حاصل کرکے داخل کیا ہے ، کیا ایسے شخص کا نماز کی امامت کرنا جائز ہے ؟ ( عبد الغفور، مغلپورہ )

جواب : – (الف)جیسے سود لینا حرام ہے ، اسی طرح سودی قرض لینا بھی جائز نہیں ؛ البتہ اگر کسی وجہ سے موٹر خریدنا اس کے لئے اتنا ضروری ہوکہ اس کے بغیر کام ہی نہ چل سکتا تھا اور اس کے پاس کوئی ایسی جائداد بھی نہیں تھی ، جس کو بیچ کر وہ قرض حاصل کرتا تو اس کے لئے سود پر قرض حاصل کرنے کی اجازت ہے ، اس کی روشنی میں اس کے عمل کا گناہ ہونا یا نہ ہونا متعین ہوگا ، اس لئے جس شخص کو ایسی مجبوری درپیش ہو ، اس کو چاہئے کہ مقامی علماء اور اربابِ افتاء کے سامنے پوری صورت حال رکھ کر ان کی رائے پر عمل کرے ۔

( ب) ذات کا یا آمدنی کا جھوٹا صداقت نامہ حاصل کرنا جھوٹ بھی ہے اور دھوکہ بھی ، اس لئے یہ گناہ ہے ، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جھوٹ انسان کو بدی کی طرف لے جاتا ہے اور بدی اس کو دوزخ کی طرف لے جاتی ہے ۔ ( بخاری ، حدیث نمبر : ۷۹۴)

( ج) جس شخص نے ان حرکتوں کا ارتکاب کیا ہو ، جب تک وہ توبہ نہ کرلے ، فاسق ہے ، اور اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے : ’’ ویکرہ تقدیم الفاسق کراہۃ تحریمۃ‘‘(ردالمحتار : ۲؍ ۲۹۹) لیکن اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی تو نماز ادا ہوجائے گی اور جماعت کا ثواب بھی ملے گا : ’’صلی خلف الفاسق أو مبتدع نال فضل الجماعۃ‘‘ (درمختار : ۱؍۲۹۹) — البتہ اگر اس شخص نے صدق دل سے توبہ کرلی تو اس کا فسق ختم ہوجائے گا اور اس کے پیچھے بلا کراہت نماز درست ہوگی ۔

یہ جواب اس صورت میں ہے کہ آپ کے سوالات واقعہ کے مطابق ہوں ، بہت سی دفعہ جو بات سنی جاتی ہے ، وہ غلط فہمی پر بھی مبنی ہوتی ہے اور جب تک اچھی طرح تحقیق نہ ہوجائے کسی مسلمان کو فاسق قرار دینا گناہ ہے ۔

 

Comments are closed.