ریلس سے روزگار!خواب زندہ، مگر راستے بند

 

از: محمد رفیع ساگر

 

بہار کی سرزمین ایک بار پھر سیاسی مباحثے کے مرکز میں ہے اور اس بار موضوع ہے “ریلس”۔

یہاں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے دور میں ہی انٹرنیٹ عام آدمی تک آسانی سے پہنچا۔ آج ایک جی بی ڈیٹا کی قیمت ایک کپ چائے سے بھی کم ہے اسی لیے نوجوان انٹرنیٹ پر اپنی تخلیقی صلاحیت دکھا کر اچھی کمائی کر رہے ہیں۔

 

یہ بیان سننے میں خوش کن لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اُن لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو برسوں سے روزگار کے منتظر ہیں۔ پہلے کہا گیا تھا کہ “پکوڑا بیچنا بھی روزگار ہے” اور اب کہا جا رہا ہے کہ “ریلس بنانا” ترقی کی علامت ہے۔

یہ الفاظ محض سیاسی جملے نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے خوابوں اور وقار پر طنز ہیں۔

 

بہار کی سرزمین ہمیشہ سے جدوجہد، تعلیم اور شعور کی علامت رہی ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کو جنم دیا، جہاں چمپارن کی سرزمین سے کسانوں کی تحریک نے سامراج کو للکارا۔ یہی بہار ہے جس نے ملک کو پہلا صدر ڈاکٹر راجندر پرساد دیا، جنہوں نے قیادت کو خدمت کے درجے پر فائز کیا۔

اسی سرزمین سے مولانا مظہرالحق، سید حسن امام، شیخ گل محمد حسین اور بطخ میاں انصاری جیسے مسلم مجاہدینِ آزادی اٹھے جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کیا۔ جے پرکاش نارائن نے اسی بہار سے “سارے اندھیرے مٹا دو” کا نعرہ دیا۔

مگر آج اسی بہار کو سستے ڈیٹا اور ریل ویڈیوز کے آئینے میں پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ وہ بہار نہیں جو علم اور کردار کے لیے مشہور تھی۔ یہ وہ بہار ہے جس کے نوجوان کے ہاتھ میں ڈگری ہے مگر نوکری نہیں۔ بہار کی تعلیمی شرح اب تقریباً 72 فیصد تک پہنچ چکی ہے، لیکن بے روزگاری کی شرح قومی اوسط سے زیادہ یعنی تقریباً 4 فیصد ہے۔ نوجوانوں میں یہ شرح 14 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ امتحانات کی تاخیر، بھرتیوں کی بندش اور صنعتی ڈھانچے کی کمزوری نے اس صوبے کو تعلیم یافتہ مگر بے بس بنا دیا ہے۔

سینئر صحافی روش کمار نے اپنی ایک تجزیاتی ویڈیو میں کہا تھا

“ریل بنانا تخلیقی ہو سکتا ہے، مگر اگر ملک کا نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف ویڈیو بنانے میں مصروف ہو تو یہ ترقی نہیں ایک خاموش بحران ہے۔ ڈیٹا سستا ہو جانا اچھی بات ہے لیکن جب نوجوان کا وقت، ہنر اور مستقبل سوشل میڈیا کے فریم میں قید ہو جائے تو یہ پالیسی نہیں، سیاسی جادوگری ہے۔”

ان کے یہ الفاظ بہار کی حقیقت کو آئینے کی طرح واضح کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بہار کا نوجوان ریلس بنانے میں مصروف ہے، تو اُسی پلیٹ فارم پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے بڑے رہنما وزیر اعظم نریندر مودی، امت شاہ، نتن گڈکری، اور اشوینی چوبے اپنی سیاسی مہم کے لیے انہی ریلس اور سوشل میڈیا ویڈیوز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔

ان لیڈروں کے ریلس کروڑوں ویوز حاصل کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جن نوجوانوں کو وہ “ڈیجیٹل انٹرپرینیور” کہہ کر سراہتے ہیں، کیا اُن کے لیے کوئی پالیسی سپورٹ یا روزگار کا ڈھانچہ موجود ہے؟

مودی جی کے ریلس دہلی، وارانسی اور احمدآباد کی چمک دکھاتے ہیں مگر بہار کے مظفرپور،سیتامڑھی، سمستی پور، دربھنگہ اور مدھوبنی کی تاریکی ان میں کہیں نظر نہیں آتی۔

امت شاہ کے ریلس میں نعرے ہیں، وعدے ہیں لیکن اُن وعدوں کے پیچھے روزگار کے اعداد و شمار کی خاموشی گونجتی ہے۔

نتن گڈکری کے ویڈیوز میں انفراسٹرکچر کی باتیں ہیں مگر بہار کی خستہ حال سڑکیں اور صنعتی زوال ان دعووں کو جھٹلا دیتے ہیں۔

مزید بات یہ ہے کہ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے بیٹے ریلس نہیں بناتے وہ کسی کارخانے یا یوٹیوب چینل کے لیے “کانٹینٹ کریئیٹر” نہیں ہیں، بلکہ ایک بڑی کمپنی کے چیئرمین ہیں۔اسی طرح وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے جئے شاہ آئی سی سی کے چیئرمین ہیں۔

یہ مثال اس ملک کے سیاسی نظام کی تلخ حقیقت بیان کرتی ہے کہ

اقتدار والوں کے بچے “بورڈ چیئر” بنتے ہیں اور بہار کے تعلیم یافتہ بچے “ریلس کریئیٹر”۔

ایک کے لیے عہدے، عیش اور عزت کے دروازے کھلے ہیں اور دوسرے کے لیے صرف ویوز، لائکس اور کمنٹس کا جھوٹا اطمینان۔

یہ فرق کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند عدم مساوات ہے۔

ایسے میں جب بہاری نوجوان اُنہی پلیٹ فارمس پر ریلس بنا کر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حقیقت اور تماشے کے درمیان لکیر کو مزید دھندلا دیتا ہے۔

یہ تضاد دردناک ہے ایک طرف وہی سوشل میڈیا ہے جہاں طاقتور سیاست داں اپنی شبیہیں چمکا رہے ہیں اور دوسری طرف وہی نوجوان جنہیں ان ویڈیوز میں “نیا بھارت” کہا جاتا ہے اصل زندگی میں بے روزگاری اور مایوسی کا شکار ہیں۔

 

بہار کا نوجوان آج ایک نفسیاتی جال میں پھنسا ہوا ہے۔ تعلیم حاصل کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے مگر نتائج کے انتظار میں مایوس ہو جاتا ہے۔ جب اس کے سامنے “ریل بنانے” کو روزگار کا متبادل بتایا جاتا ہے تو یہ محض تفریح نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔ سستا ڈیٹا ترقی کا ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن ترقی تبھی ممکن ہے جب اس کے ساتھ مواقع اور صنعتی ڈھانچے کا قیام ہو۔

 

بہار کو “ریل” نہیں، راستہ چاہئے۔ اسے موبائل کی چمک نہیں، کارخانوں کی روشنی چاہئے۔ اسے سیاسی وعدے نہیں، پالیسی اور منصوبہ بندی چاہئے۔

یہ وہ صوبہ ہے جہاں کا نوجوان صبح اُٹھ کر وائرل نہیں بلکہ کامیاب ہونا چاہتا ہے۔

حکومت کو خالی آسامیاں پر کرنی چاہئیں، صنعتی زون قائم کرنے چاہئیں، ٹیکنیکل تعلیم اور اسٹارٹ اپ فنڈنگ کو فروغ دینا چاہئے۔

ورنہ بہار کا قابل، محنتی اور ہنر مند نوجوان اسی طرح مواقع کی تلاش میں صوبہ چھوڑتا رہے گا۔

 

بہار کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہے۔ یہاں کے مسلم و غیر مسلم عوام نے ہمیشہ کندھے سے کندھا ملا کر قوم کی تعمیر کی۔

مولانا مظہرالحق، راجیندر پرساد، جے پرکاش نارائن، سید حسن امام — سب نے یہ سبق دیا کہ ترقی مذہب سے نہیں، اخلاص اور علم سے ہوتی ہے۔

یہی وہ روح ہے جو بہار کے وقار کو زندہ رکھتی ہے۔

 

آج جب گجرات کو ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو بہار کی محرومی پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔

اگر گجرات میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں تو بہار کیوں نہیں؟

کیا بہار کے لوگ کم اہل یا کم محنتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔

فرق صرف نیت اور عمل کا ہے۔ بہار کے نوجوانوں کو جذباتی نعرے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اقدامات چاہئے۔

 

بہار کی موجودہ نسل اپنی خاموشی میں احتجاج لیے بیٹھی ہے۔ وہ سڑکوں پر کم مگر ذہنوں میں زیادہ بغاوت رکھتی ہے۔ ان کے خواب اب بھی زندہ ہیں — بس راستہ بند ہے۔

اگر حکومت نے موقع دیا تو یہی نسل بہار کو ایک بار پھر علم، ہنر اور وقار کے اوج پر لے جا سکتی ہے۔

یہ وہ بہار ہے جس نے ملک کو انقلاب دیا تھا۔آج وقت ہے کہ وہی بہار اپنے وقار کی بازیافت کرے ۔

سستے ڈیٹا اور ریلس کے نعروں سے نہیں بلکہ علم، روزگار اور انصاف کی پالیسیوں سے۔

کیونکہ بہار کے نوجوان کو لائک نہیں، زندگی چاہئے ، ویوز نہیں، مواقع چاہئے تبھی بہار ایک حقیقی ترقی یافتہ ریاست بن سکتا ہے۔

Comments are closed.