بہار اسمبلی الیکشن میں ہم کہاں کسے ووٹ دیں

 

عماد عاقب مظفر پوری

موجودہ حالات میں اصل سیاسی کام دستور ہند کی حفاظت ہے ، یہ وقت سی ایم اور ڈپٹی سی ایم کے عہدوں کے لیے ہنگامہ کرنے کا ہے ہی نہیں ،

مسلمانوں کے لیے ان عہدوں کے لیے وہ پارٹیاں بھی راشٹریہ جنتادل اور انڈین نیشنل کانگریس وغیرہ پر حملہ آور ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ایک فیصد بھی نمائندگی نہیں دی ہے ۔

چراغ پاسوان ولد رام ولاس پاسوان نے اپنی پارٹی کے کل 29 امیدوارں میں سے صرف ایک مسلمان کو ٹکٹ دیا ہے ، جب کہ انہیں کم از کم پانچ مسلمانوں کو ٹکٹ دینا چاہیے ، 29 میں سے 5.133 مسلمانوں کو واجبی حق ہے ، انہوں نے اپنی پارٹی سے مسلمانوں کا 19.48 فیصد حق دیا ہے ، مگر وہ بھی راشٹریہ جنتادل پر حملہ آور ہیں جس نے مسلمانوں کو 75.07 فیصد حق دیا ہے۔

 

انڈین نیشنل کانگریس نے مسلمانوں کو ان کا 91.16فیصد حق دیا ہے ۔ انڈین نیشنل کانگرس کے کل 62 امیدوار ہیں ، ان میں 10.97مسلمانوں کا حق ہے اور کانگریس نے دس مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے ،

راشٹریہ جنتا دل نے مسلمانوں کو ان کا 75.07 فیصد حق دیا ہے  ۔ اس کے کل 143 امیدوار ہیں ، ان میں 25.31مسلمانوں کا حق ہے مگر راشٹریہ جنتا دل نے صرف انیس مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے ، اس نے مسلمانوں کو 75.07 فیصد حق دیا ہے  ۔

جو سیکولر پارٹیاں عملی اعتبار سے مسلمانوں کے حقوق کی حمایت کرتی ہیں یا زیادہ نمائندگی دیتی ہیں وہی مسلمانوں کے ووٹ کی حقدار ہیں ۔

چونکہ مہا گٹھ بندھن نے بھی مسلمانوں کو ان کا پورا حق نہیں دیا ہے ، اور ان کے چھوٹے یا بڑے لیڈران میں سے ایک نے یا چند نے اپنا کھیل کھیلا ہے ، دربھنگہ کی جالے سیٹ میں جو کھیل کھیلا گیا اس نے مہاگٹھ بندھن کو بدنام کیا ہے ،

بہار کے مسلمانوں سے گذارش ہے کہ وہ ووٹ کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں

1- فرقہ پرستوں اور فرقہ پرستوں کی حمایت یافتہ پارٹیوں کو ووٹ نہ دیں ،

2- مہاگٹھ بندھن کے مسلم اور غیر مسلم امیدواروں کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں

3-جہاں مہاگٹھ بندھن کے امیدوار اچھے نہ ہوں یا جہاں مسلمانوں کا حق مہاگٹھ بندھن نے نہیں دیا ہے وہاں اگر کوئی مضبوط مسلم امیدوار ہو تو اسے ووٹ دیں مثلا ، جالے میں انتیس فیصد مسلمان ہیں ، وہاں مشکور عثمانی یا محمد نوشاد کو ٹکٹ دیا جانے والا تھا مگر آخر وقت میں ایک بدتمیز فرقہ پرست کو کانگریس نے ٹکٹ دے دیا ہے ، مشکور عثمانی بطور آزاد امیدوار میدان میں ہے ، جالے کے مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ مشکور عثمانی کو کامیاب کرائیں ۔

4-جن بارہ سیٹوں پر مہاگٹھ بندھن کے امیدوار آمنے سامنے ہیں وہاں مضبوط امیدوار کو ووٹ دیں ،

5-وی آئی پی کو مہاگٹھ بندھن میں شامل کرکے راہل گاندھی اور تیجیسوی نے بہت بڑی غلطی کی ہے ، اور اس کے لیڈر مکیش سہنی کو ڈپٹی سی ایم کا چہرہ بناکر بہت بھیانک غلطی کی ہے ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ وی آئی پی کے امیدوارں کامیاب نہ ہوں اور ان کی جگہ پر دیگر سیکولر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ووٹ دیا جائے ۔

6-چونکہ مہاگٹھ بندھن نے مسلمانوں کو صرف 68.69 فیصد تا 72.08 فیصد حق دیا ہے ۔

بہار میں مسلمانوں کی آبادی 17.70فیصد ہے ، اور دو سو تینتالیس رکنی اسمبلی میں تینتالیس نشستوں پر مسلمانوں کو واجبی حق ہے ۔

اور چونکہ مہاگٹھ بندھن نے 255 امیدوار اتارے ہیں اس حساب سے مہاگٹھ بندھن کے 45.13یعنی پینتالیس امیدوار مسلم ہونے چاہیے تھے ۔

مگر مہاگٹھ بندھن کے کل مسلم امیدوار صرف اکتیس ہیں ،

دو سو تینتالیس کے حساب سے مہاگٹھ بندھن نے مسلمانوں کو ان کا 72.08 فیصد حق دیا ہے اور دو سو پچپن کے حساب 68.69فیصد حق دیا ہے ۔

ایسے حالات میں مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ بڑی خاموشی اور حکمت کے ساتھ کوئی ایسا راستہ بھی تلاش کریں جس سے مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہو ، ہمیں نہ مہاگٹھ بندھن کے خلاف طوفان بد تمیزی کرنی چاہیے اور نہ ہی اس پر آنکھ موند کر مکمل اعتبار اور اعتماد کرنا چاہیے ،

7- پرشانت کشور ایک منتظم ہیں اور ماضی میں انہوں نے نریندر مودی کے لیے کام کیا ہے ، اس لیے ان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانا ایک فطری امر ہے ، انہوں نے اپنی پارٹی جن سوراج پارٹی سے کل چونتیس مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا مگر اب ان کی پارٹی کے کل تیس مسلم امیدوار میدان میں ہیں ، ان میں سے اٹھارہ امیدوارں کے خلاف مہاگٹھ کے امیدوار غیر مسلم ہیں ، ان حلقوں میں اگر جن سوراج پارٹی کے مسلم امیدوار مضبوط ہوں تو ان کو مزید مضبوط کرکے اور انہیں کامیاب کراکر بہار اسمبلی میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔

8- مجلس اتحاد المسلمین تلنگانہ سے باہر کے لیے ایک غیر مناسب جماعت ہے ، اس کی سیاست بھی تلنگانہ کے لیے اور ہے اور تلنگانہ سے باہر کے لیے اور ہے ، اس نے 119رکنی تلنگانہ اسمبلی کے لیے دو ہزار اٹھارہ میں آٹھ اور دو ہزار تیئیس میں نو سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا ، جب کہ وہاں اس کے سات ممبران اسمبلی دو ہزار نو سے ہیں ، وہاں وہ کسی بھی پارٹی سے اتحاد نہیں کیا تھا ، وہاں وہ حکمراں جماعت سے نرمی کا معاملہ کرتی ہے ، مگر تلنگانہ سے باہر اپنی طاقت سے بہت بہت زیادہ طاقت کا دعوی کرتی ہے ، اور عجیب و غریب باتیں کرتی ہے ، بہار اسمبلی کے اسی الیکشن میں ٹکٹ دینے کے معاملے میں اس کا جو مظاہرہ سامنے آیا ہے ، اس سے اس کے خلوص کی ہوا نکل گئی ہے ،

میرا مشورہ یہ ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو ووٹ دے کر اپنا ووٹ برباد نہ کیا جائے ، البتہ امور میں مجلس اتحاد المسلمین کی بہار اکائی کے ریاستی صدر اختر الایمان صاحب کو ووٹ دیا جاسکتا ہے ۔

Comments are closed.