صبر اہل ایمان کا شیوہ ہے
مفتی محمد عارف باللہ القاسمی
فراق… یہ لفظ سننے میں چھوٹا ہے مگر اپنے اندر غم کا ایک اتھاہ سمندر سموئے ہوئے ہے، اس مشکل مرحلے کا سامنا زندگی کا لازمی حصہ ہے کہ اس دنیا کی ہر ملاقات عارضی ہے، اور ہر قرب کو آخرکار جدائی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس طرح دنیاوی وصال کو دوام نہیں بلکہ فراق اس کا انجام ہے، اسی طرح اہلِ ایمان کے لئے دنیاوی فراق کا انجام دائمی وصال ہے، اگر موت وجدائی تقدیر کا حصہ ہے تو اس کے بعد فرحت وسرور سے آباد اخروی حیات اور ازلی ملن بھی ایمان والوں کا مقدر ہے۔
اس دنیا میں انسان جن جن طریقوں سے آزمایا جاتا ہے ان میں سب سے سخت آزمائش اپنے پیاروں کے انتقال کی گھڑی ہے، اس لمحے انسان اس فانی دنیا کی حقیقت کو قریب سے محسوس کرتا ہے، مگر یہی لمحہ ایمان کی آزمائش کا بھی ہوتا ہے اور جو اس موقع پر صبر کو اختیار کرتا ہے وہ درحقیقت کامیابی کے زینے پر قدم رکھتا ہے، قرآنِ مجید نے اہلِ صبر کی شان یوں بلند فرمائی ہے:
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرہ: 153)
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہ’’ معیتِ الٰہی‘‘ ایسی تسکین ہے جو کسی دنیاوی تعزیت سے حاصل نہیں ہو سکتی، جو شخص فراق کے عالم میں اپنے آپ کو شکوہ و فریاد سے دور رکھتا ہے، اور اپنے آنسوؤں کو رضا کے موتیوں میں ڈھال لیتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کے قرب میں داخل ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الصَّبْرُ عِندَ الصَّدْمَةِ الأُولَىٰ (بخاری و مسلم)
حقیقی صبر وہ ہے جو مصیبت کے پہلے لمحے میں کیا جائے۔
یعنی صبر کا مطلب یہ نہیں کہ وقت کے ساتھ غم مٹ جائے، بلکہ یہ ہے کہ ایمان اس وقت دل پر غالب رہے جب دل سب سے زیادہ زخمی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اہلِ صبر کے لیے اپنی تین عظیم نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے:
أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرہ: 157)
یہ لوگ وہ ہیں کہ ان پر نوازشیں ہوں گی ان کے پروردگار کی طرف سے اور رحمت (بھی) یہی لوگ راہ یاب ہیں۔
یہ آیت ان دلوں کے لیے مرہم ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے: تمہارے صبر کے بدلے میں میری نوازشیں تمہارے ساتھ ہیں، میری رحمت تم پر سایہ فگن ہیں، اور ہدایت وراہ یابی تمہارا نصیب ہے۔
تکلیف دہ حالات بے چین وبے قرار کرتے ہیں، اور اس سے زیادہ تکلیف دہ حالت اور کیا ہوسکتی ہے جوانسان کے خوابوں کو چکنا چور کردے، انسان اپنے سینے میں سنگ وخشت کا ٹکڑا نہیں بلکہ الفت ومحبت کا خوگر دل رکھتا ہے، لیکن اس دل پر رب کی حکمرانی کا اظہار بھی تو ضروری ہے، اس لئے اہلِ ایمان کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ مشکل اور غم کے حالات میں اور اپنوں سے بچھڑنے میں جزع و فزع کریں، بلکہ ایسے حالات میں ان کا ایمانی شیوہ یہ ہے کہ وہ صبر کریں اور ان کی زبان پر وہی کلمات ہوں جو قرآن نے سکھائے:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرہ: 156)
ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
یہ الفاظ درحقیقت ایمان کا اقرار ہیں کہ زندگی کا مالک وہی ہے جس نے دی، اور موت بھی اسی کے حکم سے ہے، بندہ جب یہ حقیقت تسلیم کر لیتا ہے، تو فراق کے اندھیروں میں اسے رضا کے نور کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔
اس لئے کسی جدائی کے امتحان میں غم کے بجائے ربِ کریم کے وعدوں پر یقین پیدا کریں، جزع و فزع کے بجائے دعا اور رضا کا دامن تھامیں کہ فراق کے بعد وصال ہی اہلِ ایمان کا مقدر ہے۔
قرآن وسنت کی تعلیمات نےہمیں سکھایا ہے کہ موت بچھڑنا نہیں، بلکہ دوبارہ ملنے کی تیاری ہے، دنیا کا فراق لمحاتی ہے، مگر آخرت کی ملاقات لافانی۔ جو دل رب پر ایمان رکھتا ہے، وہ غم کو بے معنی نہیں سمجھتا، وہ جانتا ہے کہ دکھ بھی عبادت ہے اگر اس پر صبر کیا جائے، فراق کے آنسو جب رضا کے رنگ میں بہتے ہیں تو وہ بندے کو جنت کی راہوں پر لے جاتے ہیں۔
یقین رکھیں کہ اگر آپ کا کوئی عزیز دنیا سے رخصت ہو گیاہے، تو وہ آپ سے چھنا نہیں، بلکہ رب کی امان میں چلا گیاہے، اس کے لیے آپ کی دعائیں قیمتی تحفہ ہیں، اور آپ کا صبر آپ کے مقام کی بلندی کی ضمانت ہے،اور یہ حقیقت ہے کہ جن دلوں نے صبر کا ذائقہ چکھا، ان کے لیے فراق محض ایک وقفہ ہے، ملاقات کی گھڑی ابھی باقی ہے۔
Comments are closed.