ٓایس ڈی پی آئی نے حکومتی دباؤ کے تحت LIC-ADANIڈیل کی پارلیمانی انکوائر ی کا مطالبہ کیا

 

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا (SDPI) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ تازہ ترین انکشافات پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مودی حکومت نے مبینہ طور پر لائف انشورنش کارپوریشن آف انڈیا (LIC)کو جاری تنازعات اور شفافیت کے سنگین سوالات کے باوجود اڈانی (ADANI)گروپ میں تقریبا 3.9بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ وزرات خزانہ اور متعلقہ محکموں کے عہدیداروں نے LICکے فنڈز کو اڈانی بانڈز اور ایکویٹی میں منتقل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جبکہ کارپوریٹ گروپ اسٹاک میں ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ کی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد عالمی سطح پر جانچ پڑتال میں تھا۔ اس طرح کے انکشافات، اگر سچ ہیں تو، عوامی پیسے کے خطرناک غلط استعمال اور ہندوستان کے لوگوں کی محنت کی کمائی سے ایک پسندیدہ کارپوریٹ گھرانے کی بیل آوٹ کرنے کی واضح کوشش کی طرف اشارے کرتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی کا خیال ہے کہ یہ موجودہ حکومت کے تحت سیاسی طاقت اور کارپوریٹ اجارہ داریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ LICلاکھوں پالیسی ہولڈرز کے بھروسے پر قائم ایک عوامی ادارہ ہے۔ اسے کھبی بھی کرونہ مفادات کی خدمت کے لیے ایک آلہ نہیں بنا نا چاہئے۔ پارٹی مبینہ ہدایت اور اڈانی کمپنیوں سے متعلق LICکے سرمایہ کاری کے ریکارڈ کے مکمل عوامی انکشاف کی آزاد پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ کیا قومی ادارون کو حکمرانی کے قریب نجی گروہوں کو بچانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

Comments are closed.