محمود حکیمی، سماجی خدمت کا معروف نام
محمد لقمان ندوی
صدر ابناء ندوہ ممبئی
اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد ذاتی مفاد سے زیادہ خلقِ خدا کی خدمت ہوتا ہے ایسے لوگ نہ شہرت کے متلاشی ہوتے ہیں، نہ جاہ و منصب کے طلبگار، ان کی زندگی بڑی قیمتی ہوتی ہے اور وہ اس قیمتی زندگی کے روز و شب اپنی قوم، اپنے شہر اور اپنے لوگوں کے منافع کے لئے استعمال کرتے ہیں، انہیں کمیاب شخصیات میں سے ایک نمایاں نام برادرم محمود حکیمی صاحب کا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سماجی خدمت، عوامی بیداری اور تنظیمی استحکام کے لیے وقف کر دیا۔
بلا شبہ محمود حکیمی کا شمار ان مخلص اور درد مند افراد میں ہوتا ہے جو اپنے عزم، خلوص اور عمل سے سماج میں تبدیلی لانے کے خواہاں رہتے ہیں، ان کی خدمات کا سب سے نمایاں باب انجمن باشندگانِ بہار کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
یہ وہ تنظیم ہے جسے حکیمی صاحب نے اپنی محنت، خلوص، اور قربانیوں سے پروان چڑھایا، وہ تقریباً دس سال تک انجمن کے جنرل سیکریٹری رہے ( ان سے قبل اس تنظیم کو عوامی سطح پر کوئ نہیں جانتا تھا) انہوں نے اپنے خون پسینے سے انجمن کو نہ صرف مضبوط بنایا بلکہ عروس البلاد ممبئی جیسے تیز رفتار شہر میں اس کو باوقار تعارف عطا کیا، اس کے ذریعے عوامی مسائل کو مسائل کو حل کرنے، تعلیم، روزگار، اور فلاحی کاموں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
لیکن عام طور پر شریف، ایماندار، بے لوث و مخلص شخص کو آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، سو یہاں بھی ایسا ہی ہوا لیکن یہ کون جانتا تھا قدرت اسے آزمائش کی پھٹی میں تبا کر کندن بناتا چاہتی ہے، آج وہ جس مقام پر ہے، جس طرح بڑے بڑوں کی آنکھ کا سرمہ ہے وہ اسی حصہ ہے،
ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء.
ہر تنظیم کی طرح انجمن میں بھی کچھ ایسے عناصر تھے جنہیں حکیمی صاحب کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر و رسوخ پسند نہ آیا، انہوں نے پس پردہ سازشوں کے ذریعے ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، مگر حکیمی صاحب کے عزم و استقلال کو کوئی متزلزل نہ کر سکا، لیکن حکیمی صاحب نے انجمن سے علیحدہ ہوکر اپنی الگ آزاد و خود مختار دنیا بسانے کا ارادہ کیا جہاں خدمت خلق کے راستے میں کوئ روڑا نہ اٹکاۓ، اور اس طرح انجمن باشندگان بہار کو خیرباد کہا۔
انجمن سے علیحدگی کے وقت کافی بھونچال آیا، محمود حکیمی کے ساتھ انجمن سے ایک بڑی تعداد نے استعفی دیا، کیونکہ ان سب نے ہمیشہ انجمن کو محمود حکیمی اور محمود حکیمی کو انجمن کی شکل میں دیکھا تھا اس لئے اس پورے سیناریو میں حکیمی صاحب کے ساتھیوں نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا، بطور خاص محترم محمد اسلام شیخ ( ریٹایرڈ مہاراشٹرا کالج) محمد نصر شیخ، پرویز عالم صدیقی اور بصیرت میڈیا کے انقلابی اڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی حکیمی صاحب کی قوت بازو بنے رہے، ساتھی برادرم فہیم خان نے بھی حکیمی صاحب کو تنہا نہیں چھوڑا, اور یہ سارے لوگ ماشاءاللہ پوری طاقت کے ساتھ حکیمی صاحب کے معاون ہیں،
حکیمی صاحب جانتے تھے کہ خدمت کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں، مگر جو اپنے مقصد پر یقین رکھتا ہے وہ ٹھوکر کھا کر بھی نہیں رکتا بلکہ اور سنبھل جاتا ہے کیونکہ اس کا منتہاء نظر کچھ اور ہے، خدمت و محبت کے بلند ترین میناروں پر قدم جو رکھنا ہے،
سنگ ریزوں کی چبھن کا ہمیں احساس کہاں
ہم تو منزل کے مناروں پہ نظر رکھتے ہیں
ان حالات میں، حکیمی صاحب نے مایوسی کے بجائے ایک نیا راستہ اختیار کیا، وہ راستہ جو اس منزل تک پہونچتا ہے جس کے لئے زندگی وقف کردی،
لہذا انہوں نے ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کا نام بھی معنی خیز و یونیک ہے، پازیٹیو چینج فاؤنڈیشن Positive Change foundation تاکہ خدمتِ خلق کا سفر رکنے نہ پائے بلکہ نئی قوت، نئے حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھے، یہ نام موصوف کی وسیع الفکری اور ہمہ جہت خدمات کا آئینہ دار ہے۔
ان کی قیادت میں اس نئی تنظیم نے عوامی بھلائی کے منصوبے، تعلیمی مہمات، اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے اہم امور پر تیزی سے کام شروع کردیا ہے۔
سب جانتے ہیں محمود حکیمی خاموش بیٹھنے والا انسان نہیں، وہ ایسے شخص ہیں جو حق گوئی، سچائی، بے خوفی و ایمانداری کو اپنا شعار سمجھتے ہیں وہ کسی دباؤ یا لالچ کے سامنے نہیں جھکتے، ان کی شخصیت میں وہ کشش ہے کہ ہر خاص و عام ان سے ملنے، مشورہ لینے، اور رہنمائی حاصل کرنے آتا ہے۔
ان کی گفتگو میں اخلاص، ان کے عمل میں استقامت، اور ان کے رویّے میں عاجزی جھلکتی ہے۔
محمود حکیمی قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں وہ معاشرے میں امید کا چراغ ہیں اور دوسروں کے لیے مثال ہیں۔
ہمارے سماج میں ایسے افراد کی قدر کی جانی چاہیے، ان کے کام کو سراہا جائے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلا جائے تاکہ ایک بہترین، بیدار معاشرہ وجود میں آسکے۔
کسی نے کہا تھا، "جو دوسروں کے لئے جیتا ہے اس کا نام اور کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔”
Comments are closed.