نتیش حکومت اب بوڑھی ہو چکی ہے، ہماری حکومت بنی تو ہر گھر میں روزگار اور پندرہ سو کی پنشن یقینی
جالے: (محمد رفیع ساگر) جالے کے قاضی احمد انٹر کالج کے میدان میں انڈیا اتحاد کے امیدوار رشی مشرا کے حق میں منعقد شاندار انتخابی جلسے میں قائدِ حزبِ اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو نے زبردست سیاسی حملے کیے۔ اپنے پُرجوش خطاب میں انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور بی جے پی پر گھن گرج کے ساتھ تنقید کی اور بہار کے عوام کے لیے بڑے اعلانات کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ جب میں نے اعلان کیا کہ بزرگوں کی پنشن چار سو سے بڑھا کر پندرہ سو روپے کر دوں گا تب نتیش حکومت نے فوراً گیارہ سو کر دیا۔ 20 برسوں سے وہ کیوں خاموش تھے۔
اسی طرح انہوں نے کہا کہ جب میں نے دو سو یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تو نتیش کمار نے گھبرا کر 125 یونٹ فری کر دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش حکومت میں شامل رہتے ہوئے انہوں نے ساڑھے چار لاکھ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دی۔
تیجسوی نے وعدہ کیا کہ ہماری حکومت بننے کے 20 مہینوں کے اندر ہر خاندان کے ایک فرد کو روزگار دیں گے تاکہ بہار سے روزگار کی تلاش میں ہجرت ختم ہو جائے۔
وزیر اعلیٰ پر طنز کرتے ہوئے تیجسوی نے کہا کہ نتیش کمار عمر کے اس مرحلے میں پہنچ چکے ہیں جہاں وہ خود فیصلہ نہیں لے پاتے، بی جے پی کے رہنما انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ میرے والد لالو پرساد یادو نے اپنے وزیر اعلیٰ کے دور میں اڈوانی جی کو گرفتار کیا تھا۔ ہم کبھی بھی فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا سکتے۔
بی جے پی امیدوار اور وزیر جیویش کمار پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ایک یوٹیوبر کی پٹائی کی تھی مگر پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ میری مداخلت کے بعد ہی مقدمہ درج ہوا۔ ہماری حکومت بننے کے بعد ایسے وزیر کو جیل کی سیر کراؤں گا۔
جلسے کے اختتام پر تیجسوی یادو نے عوام سے انڈیا اتحاد کے امیدوار کے حق میں ووٹ دینے کی پرزور اپیل کی اور کہا کہ مجھے مزید کئی جلسوں سے خطاب کرنا ہے، وقت کم ہے یہ کہہ کر وہ ہیلی کاپٹر سے روانہ ہوگئے۔
بارش کے باوجود انتخابی ریلی میں عوام کی کافی بھیڑ رہی جہنوں نے ان کے جوش و خروش سے خطاب کو آندھی اور طوفان قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیجسوی یادو جالے میں آندھی کی طرح آئے اور طوفان کی طرح واپس چلے گئے۔
Comments are closed.