جامعہ ملیہ سے وابستہ صحافیوں کا تذکرہ
سہیل انجم
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی صحافت کا جائزہ لیں تو دو پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔ پہلا ادبی صحافت کا اور دوسرا اخباری یا مین اسٹریم صحافت کا۔ جامعہ کی اول الذکر یعنی ادبی صحافت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ رسالہ جامعہ، اسلام اور عصر جدید اور مکتبہ جامعہ کے رسالے کتاب نما اور پیام تعلیم ایسے جریدے ہیں جن کے توسط سے ادبی اور بالخصوص اسلام اور عصر جدید کے حوالے سے کسی قدر مذہبی صحافت کے گیسو کی آرائش بڑی خوبی سے کی گئی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ رسالہ جامعہ اور اسلام اور عصر جدید نے ادبی و مذہبی صحافت کے تاج میں دانشوری کے نگینے جڑے ہیں۔ جبکہ پیام تعلیم نے ادب اطفال کی ایسی پرورش کی ہے کہ اس کی مثال خال خال ہی ملے گی۔ ان رسائل و جرائد سے انتہائی نامی گرامی شخصیات اور ایک سے بڑھ کر ایک عالم و فاضل بحیثیت مدیر وابستہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان رسائل و جرائد کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن راقم الحروف جامعہ کی ادبی صحافت کے بجائے اس کی اخباری صحافت پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہے۔ ادبی صحافت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ لیکن خاکسار کا خیال ہے کہ اس کی اخباری صحافت پر ویسا کام نہیں ہوا جیسا کہ ہونا چاہیے۔ میرا یہ نامکمل مضمون اس موضوع کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن بہر حال میں چند ایسے صحافیوں کا ذکر کرنا چاہوں گا جن کا کسی نہ کسی حیثیت سے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے رشتہ رہا ہے۔
مولانا محمد علی جوہر
جب ہم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ اخباری صحافیوں یا مین اسٹریم صحافیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو سب سے پہلا نام اس کے پہلے شیخ الجامعہ مولانا محمد علی جوہر کا سامنے آتا ہے۔ اگر جامعہ سے وابستہ صحافیوں کی فہرست سازی کی جائے تو بلا شبہ یہ نام سر فہرست ہوگا۔ مولانا محمد علی جوہر جد و جہد آزادی کے ایک عظیم رہنما تو تھے ہی ممتاز صحافی، انشاپرداز اور شاعر بھی تھے۔ وہ ریاست رامپور اور بڑودہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ لیکن ان کی طبیعت میں حریت پسندی تھی۔ وہ ملازمت کے لیے نہیں بنے تھے۔ قدرت کو ان سے کچھ اور ہی کام لینا تھا۔ لہٰذا انھوں نے ملازمت ترک کر کے میدان صحافت اور سیاست میں قدم رکھا اور 14 جنوری 1911 کو کلکتہ سے انگریزی اخبار ”کامریڈ“ جاری کیا۔ انھوں نے اس اخبار میں صحافت کے نئے رجحانات داخل کیے جس سے صحافت کر مرتبہ بلند ہوا۔ کامریڈ کی معیاری انگریزی کے معترف انگریز بھی تھے۔ ومبر 1914 میں پہلی جنگ عظیم کے دوران جب ترکی جرمنی کے حلیف کے طور پر برطانیہ کے مقابلے میں آیا تو کامریڈ نے لندن ٹائمس کے جواب میں ایک طویل مضمون شائع کیا۔ وہ مضمون مولانا نے بیماری کی حالت میں چالیس گھنٹے بیٹھ کر لکھا تھا۔ اس مضمون سے ایوان اقتدار میں زلزلہ آگیا او رانگریزی حکومت نے اخبار کی ضمانت ضبط کر لی۔ اس سے قبل ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ہارڈنگ نے حکومت برطانیہ کو ایک رپورٹ ارسال کی جس میں لکھا تھا کہ محمد علی کے اخبار کامریڈ کا لب و لہجہ بہت ہی سخت اور بدترین ہے۔ ہمارے قانونی مشیروں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف اتنا موا دموجود ہے کہ ان کی ضمانت ضبط ہو سکتی ہے۔
اخبار کامریڈ کے ذریعہ ایوان اقتدار میں زلزلہ پیدا کرنے کے بعد انھوں نے 23 فروری 1913 کو اردو اخبار ”ہمدرد“ جاری کیا۔ شروع میں وہ کبھی ایک صفحے کا اور کبھی دو صفحے کا چھپتا۔ البتہ یکم جون 1913 سے وہ سولہ صفحات کا ہو گیا۔ اس موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے لکھا کہ ہمدرد کا فرض ہوگا کہ روز سچی خبریں سنائے۔ ناظرین کی معلومات میں ہر روز اضافہ کرے تاکہ وہ خود رائے قائم کر سکیں۔ اس کی رائے کے ہمیشہ محتاج نہ رہیں۔ مگر یہ خیال نہ کیجیے کہ ہمدرد مسجد کا ملا ہوگا۔ ہمدرد آپ سے سیکھے گا اور آپ کو سکھائے گا۔ کبھی ہنستوں کو رلائے گا اور کبھی روتوں کو ہنسائے گا۔ اس میں اختصار کے ساتھ مزے مزے کے افسانے بھی ہوں گے اور فلسفے کی پھیکی کھچڑی بھی ہوگی۔
مولانا محمد علی جوہر نے ہمدرد کے قارئین کو حالات و واقعات سے فوری او ربروقت آگاہ کرنے کے لیے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹر اور ایسو سی ایٹڈ پریس کی خدمات حاصل کیں۔ انھوں نے اس دور میں ہمدرد کا آغاز کیا جب پورے ہندوستان میں مولانا ظفر علی کے اخبار زمیندار کا سکہ چلتا تھا۔ ہمدرد نے زمیندار کے مقابلے میں سنجیدہ، متین اور مدلل صحافت کا راستہ اختیار کیا۔ ہمدرد کی پالیسی وہی تھی جو کامریڈ کی تھی۔ زمیندار نے جہاں عوامی صحافت کو متعار ف کرایا وہیں ہمدرد نے معیاری صحافت کو رواج دیا۔ انھوں نے 29 فروری 1928 کے شمارے میں لکھا کہ میں نے صحافت پیسہ کمانے کے لیے اختیار نہیں کی بلکہ ملک و ملت کی خدمت کرنے کے لیے اختیا رکی ہے۔ میں رہنما ہوں رہزن نہیں۔
اخبار کامریڈ کی ضبطی کے سلسلہ میں مولانا محمد علی جوہر نے دہلی کی عدالت میں خود بحث کی۔ دوران بحث دہلی کے وکیلوں اور بیرسٹروں کا ہجوم موجود تھا۔ ہر شخص دم بخود تقریر کا حرف حر ف دل کے کانوں سے سن رہاتھا۔ بحث کے بعد جب مولانا کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو تمام بیرسٹروں کے منہ سے یہی جملہ نکلا”محمد علی! کاش آپ بیرسٹر ہوتے“۔ محمد علی جوہر نے یہ سن کر فرمایا:” اب بھی جو کچھ ہوں، اس کی کون سی قدر ہورہی ہے جوبیرسٹری میں ہوتی“۔
محمد علی جوہر کے ایک دوست نظام الدین نے گجرات سے اخبار نکالنا چاہا تو ان سے مشورہ طلب کیا۔ جوہر نے مشورے کی صورت میں جواصول بتائے وہ ان کے نظریہ صحافت کی عکاسی کرتے ہیں ، وہ اصول درج ذیل ہےں:
1۔ اخبار ذاتیات سے بالکل مبرا ہو، نہ کسی دشمن کے خلاف کچھ لکھا جائے، نہ خواہ مخواہ دوستوں کی تعریف کے قصیدے گائے جائیں۔
2۔ کسی شخص یا اخبار کی رائے کے خلاف کچھ لکھنا ہو تو مخالفت محض رائے تک رہے، ذات کا حصہ شامل نہ ہو۔
3۔ جو کچھ لکھا جائے، عبارت آرائی کے خیال سے نہیں، نہ لوگوں کی چٹکیاں لینے کی غرض سے، بلکہ متانت وسنجیدگی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
4۔ اخبار کا مقصد خبروں کی اشاعت ہوتا ہے، اس لیے زیادہ تر حصہ خبروں پر مشتمل ہوناچاہیے۔
5۔ ایڈیٹوریل نوٹ حال کے واقعات اور خبروں پر اپنی رائے زنی کے لیے ہیں، اس لیے اسی کام آنے چاہئیں۔
6۔ اخبار کا مقصد کسی دوسری قوم کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اپنی قوم کو فائدہ پہنچانا ہے۔ مذہبی مباحث سے اخبار کو بچایا جائے۔
7۔ اخبار کے ایڈیٹر کو خود تمام مسئلوں پر غور کرنا اور دوسرے اخبارات اور کتابوں سے واقفیت حاصل کرنا لازم ہے۔
الغرض مولانا محمد علی جوہر نے کامریڈ اور ہمدرد کے توسط سے جس معیاری اور تعمیری صحافت کی بنیاد ڈالی تھی وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
پروفیسر ضیاءالحسن فاروقی
مولانا محمد علی جوہر کی صحافت پر تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن پروفیسر ضیاءالحسن فاروقی کی صحافت پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ آپ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ان لائق و فائق اور مایہ ناز افراد میں سے ہیں جو جامعہ کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دیتے ہوئے دار فانی سے رخصت ہوئے۔ جب بھی جامعہ تحریک اور اس کی روایات و نظریات کو آگے بڑھانے میں اپنی جان تک نچھاور کر دینے والوں کی فہرست سازی ہوگی تو ان میں پروفیسر ضیاءالحسن فاروقی کا نام یقیناً شامل ہوگا۔
ضیاءصاحب نے تعلیم سے فراغت کے بعد جب عملی میدان میں قدم رکھا تو سب سے پہلے میدان صحافت ہی کو منتخب کیا۔ وہ 21 مئی 1950ءکو بجنور سے شائع ہونے والے مایہ ¿ ناز اخبار مدینہ سے منسلک ہوئے۔ انھوں نے اس وقت سے لے کر جون 1953ءتک بحیثیت مدیرِ مدینہ خدمات انجام دیں۔ مولوی مجید حسن کے اخبار مدینہ سے انتہائی نامی گرامی شخصیات بحیثیت مدیر وابستہ رہی ہیں۔ جن میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا حامد الانصاری غازی، مولانا محمد عثمان فارقلیط، مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی، قاضی محمد عدیل عباسی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا ماہر القادری، مولانا نصر اللہ خاں عزیز، قاضی بدر الحسن جلالی اور ابو سعید بزمی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام حضرات اخبار مدینہ میں ضیاءالحسن فاروقی کے پیش رو تھے۔ ان میں سے بیشتر عالم و فاضل تھے اور دینی جذبہ رکھتے تھے۔ چونکہ اخبار مدینہ کا مزاج بھی دینی تھا اس لیے ضیاءالحسن فاورقی کے مزاج سے اس کی خاصی مطابقت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دور ادارت میں بھی مدینہ کے اداریے اور دیگر مضامین میں مذہبیت اور اس کے ساتھ ساتھ دانشورانہ جھلک ملتی ہے۔ ضیاءالحسن فاروقی کے پیش رو مدیروں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جو نقوش پا چھوڑے تھے جناب ضیاءنے ان کو اور شوخ کر دیا۔
اداریہ لکھنے کا ان کا ایک خاص انداز تھا۔ وہ عام طور پر اپنے اداریے کسی بلیغ شعر سے شروع کرتے۔ وہ شعر اتنا برجستہ اور حسب حال ہوتا کہ پورے اداریے کا نچوڑ اس میں آجاتا۔ وہ فرقہ پرستی کے سخت مخالف اور سیکورلزم کے کٹر حامی تھے۔ انھوں نے اپنے بیشتر مضامین میں بڑھتی فرقہ پرستی پر اظہار تشویش کیا۔ وہ مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے معتقد تھے۔ اخبار مدینہ کی ادارت سنبھالنے کے بعد وہ مولانا سے ملنے دہلی آئے اور اس ملاقات میں انھوں نے ان کا ایک طویل انٹرویو کیا جو مدینہ اخبار میں شائع ہوا۔ اس انٹرویو کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اسے بعد میں ان کی تصنیف ”افکار آزاد“ میں شامل کیا گیا۔
اسی درمیان جمعیة علمائے ہند نے نئی دہلی سے ایک انگریزی ہفت روزہ The Message شروع کیا تو اس نے اس کی ادارت کی ذمہ داری ضیاءالحسن فاروقی کو تفویض کی۔ اس وقت جمعیة علمائے ہند کا دفتر گلی قاسم جان بلی ماران میں تھا۔ ضیاءصاحب وہیں آگئے اور وہیں رہائش اختیار کی۔ اس دوران ان کے تعلقات مولانا محمد عثمان فارقلیط، مولانا حفظ الرحمن اور مولانا محمد میاں وغیرہ سے ہوئے۔ اس کا ذکر انھوں نے مولانا فارقلیط اور مولانا حفظ الرحمن کے انتقال کے وقت رسالہ جامعہ کے لیے تحریر کردہ اپنے مضمون میں کیا ہے۔ خیال رہے کہ مولانا فارقلیط 25 برسوں تک الجمعیة اخبار کے مدیر اعلیٰ رہے۔
کچھ دنوں کے بعد یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مجیب کے زمانے میں جامعہ میں تاریخ و سیاست کے ایک استاد کی جگہ خالی ہوئی تو اس پر ضیاءصاحب کا تقرر ہو گیا۔ اس طرح وہ اخباری صحافت کی دنیا سے نکل کر جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے تعلیمی ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ لیکن یہاں بھی ان سے صحافت کی شراب نہیں چھوٹی۔ وہ ایک طویل عرصے تک جامعہ کالج کے پرنسپل بھی رہے اور بعد میں قائم مقام شیخ الجامعہ کی ذمہ داری بھی ادا کرتے رہے۔ وہ 1964 میں رسالہ جامعہ کے مدیر بنائے گئے۔ اس وقت سے لے کر 1988 تک وہ اس کی ادارت کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ انھوں نے اسلام اور عصر جدید اور اسلام اینڈ دی ماڈرن ایج کی ادارت کی بھی ذمہ داری نبھائی۔ رسالہ جامعہ کے مدیر کی حیثیت سے انھوں نے اس کے متعدد خصوصی نمبر شائع کیے۔ جن میں مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر مختار انصاری، اسلم جیراجپوری، پروفیسر مجیب اور اردو ادب نمبر قابل ذکر ہیں۔اس دوران وہ بیک وقت تین رسالوں کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
خاکہ نگاری میں بھی ان کو ملکہ حاصل تھا۔ اس فن میں ان کا انداز بالکل منفرد تھا۔ ان کے بیشتر خاکے رسالہ جامعہ میں تعزیتی مضامین کی شکل میں شائع ہوئے۔ یہ خاکے عام طور پر علما، ادبا، اخبار نویسوں، سیاسی رہنماو ¿ں، اسلامی علوم علم سیاسیات اور تعلیم کے ماہرین پر لکھے گئے۔ حالات حاضرہ کا جائزہ اور ہندوستان کے عہد جدید کی تاریخ ان کے مطالعہ کے اہم موضوعات تھے۔ان کے مضامین معارف اور تعمیر ملت جیسے رسائل میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔1984 میں جب یو پی اردو اکیڈمی نے لکھنو میں ایک صحافت سمینار کا انعقاد کیا تو ضیاءصاحب نے اس میں اخبار مدینہ کے بانی و مالک مولوی مجید حسن پر ایک مقالہ پیش کیا تھا۔
ضیاءالحسن فاروقی دو مئی 1925 کو مشرقی یو پی کے معروف ضلع فیض آباد کے ایک علمی قصبہ ٹانڈہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ٹانڈہ میں فاروقی شیوخ کے ایک ایسے خاندان سے تھا جسے دینی و دنیوی دونوں اعتبار سے اہم مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی تربیت خالص دینی ماحول میں ہوئی تھی۔ لہٰذا ان کی طبیعت میں دینداری رچی بسی تھی جس کا اظہار صحافت میں بھی ہوا اور انھوں نے جو کتابیں تصنیف کیں ان میں بھی ہوا۔
عرفات ظفر اعظمی رسالہ جامعہ میں شائع اپنے ایک مضمون ”پروفیسر ضیاءالحسن فاروقی“ میں رقم طراز ہیں:
”تصنیف و تالیف ان کا خاص میدان تھا۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے تھے۔ وہ عہد حاضر کی اسلامی سیاست، تیزی سے بدلتے ہوئے حالات، وقت کے چیلنج اور دین کے تقاضوں پر یکساں نظر رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب ”اسلام اور بدلتی دنیا“ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں انھوں نے عالم اسلام کے واقعات اور مسلمانو ںکو درپیش سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مسائل اور ان کے انجام و نتائج کا جائزہ لیا ہے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عقل و تدبر سے کام لے کر انھیں حل کرنے کی دعوت دی ہے۔ اسی طرح اُن عبقری شخصیات بالخصوص ان مسلم رہنماوں سے ضیاءصاحب کو خصوصی دلچسپی تھی جنھوں نے مفید دینی اصلاحی و تعلیمی خدمات انجام دیں اور مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی بیداری میں جن کا خاص رول رہا۔ ”افکار و اشخاص“ ان کی اسی طرح کی ایک کتاب ہے جس میں ہندوپاک اور عالم عرب کے مشہور علما و مفکرین کے اصلاحی افکار و خیالات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے“۔ (بحوالہ: انتخاب رسالہ جامعہ اپریل تا جون 2004)
ان کی دینی و اسلامی فکر نے ان سے فکر اسلامی کی تشکیل نو، حضرت جنید بغدادی شخصیت اور تصوف، مولانا ابوالکلام آزاد فکر و نظر کی چند جہتیںاور شہید جستجو ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی کتابیں تصنیف کروائیں۔ مولانا آزاد سے ان کی ذہنی ہم آہنگی بھی تھی اور وہ ان سے غیر معمولی عقیدت بھی رکھتے تھے۔ اس کتاب پر رسالہ جامعہ جولائی اگست ستمبر 1995ءکے شمارے میں تبصرہ کرتے ہوئے اس وقت کے مدیر شمیم حنفی لکھتے ہیں کہ ”اس کتاب میں ضیاءصاحب کی فکر اور ان کے اسلوب کا غالب عنصر ان کی غیر جذباتیت اور متانت ہے۔ اس کتاب میں ہر طرح کے تعصبات سے آزاد ہو کر انھوں نے آزاد کی فکر اور مسلمانوں کی اجتماعی فکر سے مربوط مسئلوں پر بڑی گہری نظر ڈالی ہے اور علمی وقار کے ساتھ قلم اٹھایا ہے۔ ان کی باتیں اپنے قاری کو بہت خاموشی اور متانت کے ساتھ قائل کرتی جاتی ہیں۔ اپنے موضوع پر یہ ایک کارآمد کتاب ہے“۔
ان کی کتاب ”حضرت جنید بغدادی: شخصیت اور تصوف“ تصوف کے موضوع پر ایک نہایت اہم تصنیف ہے جس میں حضرت جنید بغدادی کے احوال و سوانح کے علاوہ ان کے نظریہ توحید سے بحث کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی سوانح عمری لکھنے کی ذمہ داری بھی انھی کو سونپی گئی۔ ان سے بھی ان کو والہانہ عقیدت تھی۔ انھوں نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ یہ کتاب تصنیف کی اور سوانح نگاری کا حق ادا کر دیا۔
عبد اللطیف اعظمی
اگر چہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا جنم سیاست کے بطن سے ہوا تھا لیکن وہ بوجوہ عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ اسی لیے اس نے اپنا کوئی اخبار نہیں نکالا۔ لیکن جب ڈاکٹر ذاکر حسین شیخ الجامعہ تھے تو ان کے مشورے سے ”نئی روشنی“ نام کا ایک سیاسی ہفت روزہ جاری کیا گیا۔ اس کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر سید عابد حسین تھے۔ لیکن چونکہ یہ ایک سیاسی پرچہ تھا اس لیے اسے جامعہ سے الگ تھلگ رکھا گیا۔ ا س اخبار کے جوائنٹ ایڈیٹر صالحہ عابد حسین اور عبد اللطیف اعظمی تھے۔ عبد اللطیف اعظمی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
”میرے ذمے پہلے ہندوستان کا کالم تھا۔ بعد میں بیرونی ممالک کا کالم بھی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں جب عابد صاحب دلی کے باہر چلے جاتے تو اداریہ تو وہ باہر سے لکھ کر بھیج دیتے تھے مگر ادارتی نوٹ میں لکھا کرتا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ میرے سیاسی خیالات عابد صاحب کے خیالات سے اس قدر ملتے جلتے تھے کہ انھیں کبھی شکایت کا موقع نہیں ملا۔ سوائے ایک مرتبہ کے۔ اس زمانے میں ٹنڈن جی (پرشوتم داس ٹنڈن) سے مسلمانوں کو شدید اختلاف تھا۔ مجھے ان کی تقریر زبان اور خیالات دونوں لحاظ سے پسند آئی۔ چنانچہ نامہ نگار خصوصی کے نام سے ایک تعریفی نوٹ لکھ کر اخبار میں شائع کر دیا۔ عابد صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کو تو عام طور پر ”نئی روشنی“ کے خیالات سے اختلاف ہے۔ اب اگر آپ ٹنڈن جیسے لوگوں کی تعریف کریں گے تو ہمارا اخبار کون پڑھے گا۔ چنانچہ فوری طور پر پرزور لفظوں میں اس کی تردید کر دی“۔ (بحوالہ: اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا حصہ۔ مرتبہ: صغریٰ مہدی۔ شائع کردہ مکتبہ جامعہ لمٹیڈ۔ اکتوبر 1997)۔
نئی روشنی میں ”بزم بے تکلف“ کے نام سے ایک مزاحیہ کالم شائع ہوتا تھا جسے قارئین بہت پسند کرتے تھے۔ بقول عبد اللطیف اعظمی ”مولانا عبد الماجد دریابادی نے اس کالم پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ جی چاہتا ہے کہ آپ پورا اخبار بھیجنے کے بجائے مجھے صرف یہی کالم بھیج دیا کریں“۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ عابد صاحب اس کالم کے لکھنے پر بہت وقت صرف کرتے تھے۔ ان کی طنز نگاری کی ایک خوبی یہ تھی کہ موقع ملنے پر اپنے آپ پر بھی طنز کرنے سے نہیں چوکتے۔ ان کی زبان میں لکنت تھی۔ ایک مرتبہ کوشش کے باوجود وہ یہ کالم نہیں لکھ سکے۔ نئی روشنی کے دفتر آئے تو برجستہ فرمایا کہ لطیف صاحب زبان کی طرح قلم میں بھی لکنت آگئی ہے۔ آج اس کی لکنت سے مجھے بے حد پریشانی ہوئی۔
رئیس احمد جعفری
جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے متعدد افراد نے میدان صحافت میں شہرت اور نیک نامی حاصل کی۔ ان میں ایک بڑا نام رئیس احمد جعفری کا ہے۔ انھوں نے ندوة العلما لکھنو کے علاوہ جامعہ سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ مولانا شوکت علی نے 1934 میں انھیں ممبئی بلایا اور اپنے اخبار روزنامہ ”خلافت“ کا ایڈیٹر مقرر کر دیا۔ مولانا شوکت علی کے انتقال کے بعد وہ اس سے الگ ہو گئے اور انھوں نے روزنامہ ”ہندوستان“ کا اجرا کیا۔ ان کی معروف کتاب ”دید و شنید“ پہلی مرتبہ 1946 میں ممبئی سے شائع ہوئی۔ 1987 میں اس کی اشاعت ثانی کراچی سے ہوئی۔ اس کے فلیپ پر ان کا جو تعارف لکھا گیا ہے اس کے مطابق:
”رئیس احمد جعفری نے 1942 میں ممبئی کے بڑے اخبار انقلاب کی ادارت سنبھالی۔ اس میں وہ تحریک پاکستان کی حمایت کرتے تھے۔ لہٰذا ممبئی کے وزیر داخلہ مرارجی دیسائی نے آزادی کے بعد انھیں ترک وطن پر مجبور کر دیا۔ وہ 1948 کے شروع میں کراچی آ گئے اور یہاں سے روزنامہ خورشید جاری کیا۔ 1955 میں روزنامہ زمیندار لاہور کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں انھوں نے کچھ عرصے کے لیے روزنامہ انجام کراچی کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔ ان کا انتقال 27 اکتوبر 1968 کو لاہور میں ہوا۔ تدفین کراچی میں ہوئی“۔ (دید و شنید رئیس احمد جعفری اکیڈمی کراچی اشاعت ثانی 1987)۔
معین الدین حارث
معین الدین حارث نے جامعہ ملیہ سے گریجویشن کیا تھا۔ انھیں حکیم اجمل خاں سے بے انتہا عقیدت تھی۔ لہٰذا انھوں نے ممبئی سے 1929 میں جب اپنا روزنامہ جاری کیا تو اس کا نام روزنامہ ”اجمل“ رکھا۔ یہ اخبار 1978 تک جاری رہا۔ ماجد قاضی نے اپنی کتاب ”تذکرہ صحافیان ممبئی اور دیگر مضامین“ میں لکھا ہے:
”روزنامہ اجمل نے ممبئی کی اردو صحافت میں سنجیدگی اور دانشوری کی ایک منفرد روایت قائم کی جو اپنے معاصر اخبارات روزنامہ خلافت اور روزنامہ ہلال سے بالکل الگ شناخت رکھتی تھی۔ معین الدین حارث سوشلسٹ فکر کے حامل کانگریس کے بے حد فعال رکن تھے۔ سیاست اور صحافت دونوں ہی میدانوں میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔ انھوں نے اپنے تقریباً پچاس سالہ صحافتی کرئیر میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے مگر پائے استقلال سلامت رہا“۔ (تذکرہ صحافیان ممبئی اور دیگر مضامین: ماجد قاضی)۔
معین الدین حارث ملک و قوم کے لیے درد مند دل رکھتے تھے۔ ان کے پر مغز اور فکر انگیز اداریوں میں اس کی جھلک ملتی تھی۔ تحریر میں متانت، وقار اور تدبر کی آمیزش تھی۔ انھوں نے اپنے اخبار کی تعداد اشاعت میں اضافے کے لیے غلط ہتھکنڈے کبھی نہیں اپنائے۔ اس کے باوجود روزنامہ اجمل تقریباً پچاس برسوں تک زندہ رہا۔ غلام حیدر نے اپنی کتاب ”نقوش جامعہ“ میں لکھا ہے کہ معین الدین حارث جامعہ کے معین و مددگار رہے۔ جامعہ کے سخت وقتوں میں انھوں نے ممبئی سے چندہ دلانے میں بہت مدد کی۔
اصغر علی جامعی
اصغر علی جامعی بھی یہیں کے پروردہ تھے۔ وہ 1950 میں ممبئی کے روزنامہ انقلاب کے شعبہ ادارت میں شامل ہوئے۔ اس زمانے میں ظ۔ انصاری پہلی مرتبہ انقلاب سے وابستہ ہوئے تھے۔ ان کی یہ وابستگی بہت مختصر رہی۔ ظ۔ صاحب کے الگ ہو جانے کے بعد انقلاب کے اداریے اصغر علی جامعی ہی لکھتے رہے ہیں۔ طویل ادارتی مضمون پر ان کا نام بھی چھپتا تھا۔ وہ ایک افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کے تیرہ افسانوں کا ایک مجموعہ ”رات کی رانی“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔
م۔ افضل
یہ تو تھا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ چند متقدمین صحافیوں کا تذکرہ۔ اب تھوڑی سی گفتگو جامعہ سے وابستہ موجودہ صحافیوں پر۔ ایسے لوگوں میں سب سے پہلے جس نام پر نظر جاتی ہے وہ م۔ افضل کا ہے۔ انھوں نے یہاں سے 1973-74 میں بی ایڈ کیا تھا۔ 70 کی دہائی میں شمع کے ادارے سے ظ۔ انصاری کی ادارت میں ”آئینہ“ نامی ایک پرچہ نکلتا تھا جو ان کے مطالعے میں رہا۔ اس پرچے نے انھیں مضمون نگاری کی طرف راغب کیا اور ان کے مضامین اخبارات میں شائع ہونے لگے۔ اسی دوران ان کے دوست شاہد صدیقی نے ان کے سامنے ہفت روزہ نئی دنیا میں کام کرنے کی پیشکش کی۔ اس وقت اس کے بانی مدیر مولانا عبد الوحید صدیقی زندہ تھے اور وہی اس کے ایڈیٹر تھے۔ م۔ افضل نے یہ پیشکش قبول کر لی اور اس طرح وہ باضابطہ طور پر کوچہ صحافت میں داخل ہو گئے۔ اس دوران انھوں نے روزنامہ قومی آواز کے لیے سیاست دانوں کے انٹرویو کرنے شروع کیے جنھیں قومی آواز کے مدیر موہن چراغی اخبار میں چھاپ دیا کرتے تھے۔ انھوں نے معروف صحافی سلامت علی مہدی کے ہفت روزہ بنیاد میں بھی کام کیا۔ اس طرح ان کی صحافت کی گاڑی آگے بڑھتی گئی اور پھر انھوں نے مئی 1983 میں ”اخبار نو“ کے نام سے اپنا ہفت روزہ شروع کر دیا۔ ان کی محنت رنگ لائی اور دو سال کے اندر ہی اخبار نو ملک کا دوسرا سب سے بڑا ہفت روزہ اخبار بن گیا۔ پہلے نمبر پر نئی دنیا تھا۔
م۔ افضل نے اخبار نو میں ایک نئی طرح ڈالی۔ انھوں نے ملک بھر میں اپنے نمائندے بنائے اور ہر نمائندے کا نام اس کی رپورٹ کے ساتھ شائع ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی نمائندے کو اس کی رپورٹ کی اجرت نہیں دے سکتے تو کم از کم نام تو دیں۔ اس سے نمائندوں کو بہت فائدہ پہنچا۔ کئی لوگ اس کا سہارا لے کر کافی آگے بڑھتے چلے گئے۔ م۔ افضل نے لندن کے ایک ادبی و فلمی ماہنامہ ”شفق“ کے لیے برسوں تک ہندوستان سے نمائندگی کی۔ صحافت کی بنیاد پر وہ سیاست میں داخل ہوئے اور پہلے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور پھر ہندوستان کے سفیر مقرر ہوئے۔ ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت 1990 سے 1996 تک رہی۔ وہ ہندوستان کے ایسے پہلے اردو صحافی ہیں جن کو چار ملکوں کی ایمبسڈر شپ کرنے کا شرف حاصل ہے۔ وہ 29 جولائی 2005 سے 28 جولائی 2007 تک انگولہ، کانگو اور گیبن میں سفیر ہند کے منصب پر فائز رہے۔ وہ آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کے چیئر مین رہے اور اب بھی ہیں۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انھوں نے بڑے پیمانے پر ایک اردو کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں ملک بھر سے اردو مدیروں اور صحافیوں نے شرکت کی تھی۔ پارلیمنٹ انیکسی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کیا تھا۔ م۔ افضل نے اردو زبان و صحافت کے بارے میں پارلیمنٹ میں اتنے سوالات کیے کہ ایک ریکارڈ بن گیا۔ آپ دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین بھی رہے۔ انھوں نے تین سو سیاست دانوں کے انٹریوز کیے جو کہ اردو صحافت میں ایک ریکارڈ ہے۔
فرحت احساس
معروف صحافی اور شاعر و ادیب فرحت احساس گو کہ جامعہ کے تعلیم یافتہ تو نہیں ہیں لیکن صحافت کے کوچے سے نکل کر انھوں نے جامعہ برادری میں شمولیت اختیار کی۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیمی فراغت کے بعد انھوں نے پہلے جاوید حبیب کے ہفت روزہ ہجوم میں خدمات انجام دیں اور اس کے بعد روزنامہ قومی آواز کے شعبہ ادارت میں شامل ہوئے۔ ہجوم نے نئی طرز کی صحافت کی روایت ڈالی تھی جس میں فرحت احساس کا اہم رول تھا۔ ان کے مضامین میں ندرت ہوتی اور وہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے مزاج میں فقرہ بازی کا بھی عنصر ہے جس کا مظاہرہ ان کی تحریروں میں بھی ہوتا رہا ہے۔ ان کے قلم میں طنز و مزاح کی بھی کاٹ ہے جس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔ ہجوم میں ان کا اسی قسم کا ایک مضمون ”ایک گلاس پانی بغیر انگلی والا“ خاصا مقبول ہوا تھا۔
فرحت احساس نے روزنامہ قومی آواز میں بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ اس میں اگر چہ سب ایڈیٹر تھے لیکن شفٹ انچارج کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ وہ سائنس کے طالب علم رہے ہیں لیکن انھوں نے اردو زبان و ادب کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں روزنامہ اخباروں میں کام کرنے کے لیے انگریزی کا علم ضروری نہیں رہ گیا۔ کمپیوٹر چلانا آنا چاہیے۔ لیکن جب ہم لوگوں نے صحافت شروع کی تھی تو کمپیوٹر نہیں تھا اور نہ ہی اردو کی کوئی نیوز ایجنسی تھی۔ اس وقت انگریزی کا جاننا ضروری ہوا کرتا تھا۔ فرحت احساس کی انگریزی بھی بہت اچھی ہے جس کا مظاہرہ قومی آواز میں خبروں کے ترجمے کے دوران ہوتا تھا۔ وہ زبان کی درستگی کا بہت خیال رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی زبان میں ادبیت ہوتی۔ ترجمہ بہت شاندار ہوتا اور بغیر کسی تکلف کے رواں اور تیز ترجمہ کرتے۔ قومی آواز سے وابستہ بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ بزرگ صحافی محفوظ الرحمن اور ظفر زاہدی کے بعد ترجمے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کی اس صلاحیت کا مشاہدہ خاکسار نے بھی قومی آواز میں ملازمت کے دوران کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی آواز کے بہترین مترجمین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ جب وہ شفٹ ہولڈ کرتے تو اس دن کے اخبار بالخصوص صفحہ اول کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا۔ اخباریت تو ہوتی ہی تھی ادبیت بھی ہوتی تھی۔ ایک بار پاکستان کے سیاست داں نواز شریف کی انتخابی کامیابی پر پارٹی کے جشن کی ایک تصویر اخبار کے دفتر میں آئی جس میں ان کی اہلیہ مرحومہ کلثوم نواز پارٹی کارکنوں کے رقص میں شامل رہیں تو فرحت احساس نے اس کا کیپشن لگایا ”مسلم لیگی رقص“۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایک جملے پر بھی ایک بہترین مضمون لکھ دیتے ہیں۔ ان دنوں وہ آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کے لیے بھی کام کرتے تھے۔ وہاں حالات حاضرہ پر ان کا تبصرہ سننے اور پڑھنے کے قابل ہوتا تھا۔ انھوں نے اردو سروس کے تبصروں کو ادبی رنگ دیا اور انھیں ایک نئی جہت بخشی۔ جب قومی آواز کا ضمیمہ شروع ہوا تو اخبار کے مدیر موہن چراغی نے ان کو اس کا انچارج بنا دیا۔ ضمیمہ کی انفرادیت اور مقبولیت نے یہ ثابت کیا کہ موہن چراغی کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ فرحت احساس نے ضمیمے کو جو ادبی رنگ دیا اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔
فرحت احساس قومی آواز سے نکل کر جامعہ ملیہ میں آگئے اور رسالہ جامعہ کے مدیر بنائے گئے۔ انھوں نے برسوں تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔ انھوں نے اس کے معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ اس کو اور بلند ہی کیا۔
ڈاکٹر شمس الحق عثمانی
ایسے افراد میں ایک نام ڈاکٹر شمس الحق عثمانی کا بھی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو سے وابستہ ہونے سے قبل انھوں نے بھی روزنامہ قومی آواز میں کچھ دنوں تک یعنی زائد از دو سال تک کام کیا تھا۔ اگر چہ وہ وہاں جزوقتی ملاز تھے لیکن کام کل وقتی ملاز م کی مانند کرتے اور بہت سے کل وقتی صحافیوں کے برعکس انھوں نے قومی آواز پر اپنی ایک چھاپ چھوڑی۔ زبان و بیان میں انھیں بھی مہارت حاصل ہے جس کا مظاہرہ قومی آواز میں خبروں کے ترجمے میں ہوتا تھا۔ وہ زبان سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ وہ بھی بہت تیز اور رواں ترجمہ کرتے۔ اخبار میں زبان و بیان کی کوئی بھی غلطی ان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔ کام کرنے کا ان کا انداز دوسروں سے مختلف تھا۔ دیگر سب ایڈیٹر میز پر سلپ رکھ کر اس پر لکھتے لیکن شمس الحق عثمانی لکھنے کا تختہ یا گتہ اپنے پاس رکھتے اور بہت سلیقے اور نستعلیقیت کے ساتھ اس کو پہلے سجاتے اور پھر لکھنا شروع کرتے۔ بڑی دلچسپی اور دلجمعی کے ساتھ اپنا کام کرتے۔ وہ اس سے قبل کالج اور یونیورسٹی کے ڈبیٹ میں جاتے رہے اور عام طور پر فاتح ہو کر لوٹتے رہے ہیں۔ برجستہ تقریر کرنے کا ان کے اندر ایسا ملکہ تھا کہ امروہہ میں منعقد ہونے والے آل انڈیا ڈبیٹ میں بہت سے لوگ ان کا نام دیکھ کر ہی اپنا نام واپس لے لیتے تھے۔ بہر حال قومی آواز سے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں آئے اور صدر شعبہ کے منصب تک پہنچے۔
تحسین منور
جامعہ سے تعلیمی فیض حاصل کرنے والے صحافیوں میں ایک نام تحسین منور کا بھی ہے۔ وہ اس وقت نیوز 18 میں جو کہ پہلے ای ٹی وی کہلاتا تھا، اردو چینل کے ہیڈ ہیں۔ اس سے قبل وہ دور درشن اردو سے وابستہ رہے۔ جس کے دوران انھوں نے کشمیر میں بھی اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ کئی سیرئیلوں اور فلموں میں اداکاری بھی کر چکے ہیں۔ یوں تو وہ ایک صحافی ہیں لیکن انھوں نے مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔ چونکہ وہ ملک کے ایک معروف صحافی پروانہ ردولوی کے بیٹے ہیں اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ صحافت ان کو ورثے میں ملی ہے۔ وہ یونیورسٹیوں میں میڈیا کی تعلیم سے بھی وابستہ ہیں اور اس سلسلے میں گریجویشن سطح کے پیپر بھی تیار کرتے ہیں۔ ان کے کالم ملک کے مختلف اخباروں میں شائع ہوتے ہیں۔ وہ کتابوں پر بے لاگ تبصرے بھی کرتے ہیں۔ ان کے تبصروں کی ایک کتاب ”کتاب عرض ہے“ بھی شائع ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جامعہ کے ”دیار شوق“ سے اٹھنے والا بہت آگے تک جاتا ہے۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
منور حسن کمال
منور حسن کمال نے جامعہ ملیہ کے شعبہ اردو سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ بھی ملک کے ایک معروف صحافی ہیں۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کے شعبہ ادارت سے 21 سال تک وابستہ رہنے کے بعد سبکدوش ہو چکے ہیں۔ وہ اس وقت دہلی اردو اکادمی کے ادبی رسالہ ایوان اردو کے ایڈیٹوریل انچارج ہیں۔ سہارا میں ان کا ہفتہ وار کالم برسوں سے شائع ہو رہا ہے۔ وہ سہارا میں کتابوں پر تبصرے بھی کیا کرتے تھے۔ ان کے ادبی و تنقیدی مضامین ملک کے ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہو رہے ہیں۔
خالد انور
روزنامہ ہمارا سماج کے مالک و مدیر خالد انور بھی جامعہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ انھوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا سے اپنی صحافت کا آغاز بحیثیت رپورٹر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے روزنامہ ہندوستان ایکسپریس کی ادارت سنبھالی۔ لیکن اس کے مالک سے اختلاف کے بعد انھوں نے ہمارا سماج نام سے اپنا روزنامہ شروع کر دیا جو اس وقت بھی پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ یہ اخبار پٹنہ سے بھی نکلتا ہے۔ خالد انور اس وقت بہار کونسل کے رکن یعنی ایم ایل سی ہیں۔ اسرار جامعی کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یوں تو وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں لیکن چٹنی اور پوسٹ مارٹم کے نام سے طنز و مزاح کے اخبار بھی نکالتے رہے ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ایکسپریس کے مالک و مدیر پرویز صہیب بھی جامعہ ہی کے تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ اخبار کے مالک و مدیر تو ہیں لیکن ان کا ذریعہ معاش دوسرا ہے۔ صحافت سے ان کا کوئی عملی تعلق نہیں ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تعلق سے اکتوبر 1920میں منعقد ہونے والے جلسہ افتتاح میں جامعہ ملیہ کے لیے جو مجلس تاسیس قائم کی گئی تھی اس میں ملک کے مختلف علاقوں سے مندوبین نے شرکت کی تھی۔ ان مندوبین میں سے بیشتر آگے چل کر ہندوستان کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے۔ انھی میں مولانا ابوالکلام آزاد حیدرآباد کے نمائندے کی حیثیت سے اور مولانا ثناءاللہ امرتسری بنگال اور بہار کے نمائندے کی حیثیت سے شریک ہوئے تھے۔ اگر اس کو کسی بھی شکل میں جامعہ سے وابستگی سمجھا جائے تو مولانا آزاد اور مولانا امرتسری بھی اس فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مولانا آزاد کی صحافت پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب مزید لکھنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اِلا یہ کہ کوئی نیا گوشہ تلاش کیا جائے۔ البتہ مولانا ثناءاللہ امرتسری پر زیادہ نہیں لکھا گیا ہے۔ انھوں نے 1903 میں امرتسر سے ہفت روزہ ”اخبار اہلحدیث“ جاری کیا تھا جو بلا ناغہ 1947 تک نکلتا رہا۔ درمیان میں حکومت کی سختیوں کی وجہ سے مختصر وقفے تک اس کی اشاعت موقوف رہی لیکن اس کے ازالے کے طور پر انھوں نے مرقع قادیان اور مسلمان نام سے دوسرے اخبارات جاری کر دیے۔ یوں تو اخبار اہلحدیث ایک مذہبی اخبار تھا لیکن اس میں سیاست اور حالات حاضرہ بھی تواتر کے ساتھ مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ اس اخبار کے صفحات کی مجموعی تعداد 35 ہزار تک پہنچتی ہے۔
یہ جائزہ مختصر بھی ہے اور نامکمل بھی۔ اس موضوع پر لکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے اور لکھا بھی جانا چاہیے۔ شرط صرف جذبے اور محنت و مشقت کی ہے۔ اگر کوئی دیوانہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اخباری صحافت پر کوئی مبسوط کام کر دے تو جامعہ کی اردو خدمات کے تعلق سے یہ بڑا گراں قدر کام ہوگا۔
Comments are closed.