مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں سمر انٹرن شپ پرزنٹیشن مقابلہ منعقد

علی گڑھ، 30 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے ایم بی اے 2024–26 بیچ کے طلبہ کے لیے سمر انڈسٹری انٹرن شپ پرزنٹیشن مقابلہ منعقد کیا، جس کا مقصد طلبہ کو اپنی پیشہ ورانہ تعلیم اور صنعتی تجربات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

25 منتخب طلبہ نے اپنی سمر انٹرن شپ کے دوران حاصل کردہ تجربات پیش کیے، جن میں صنعتی چیلنجز، تنظیمی طریقہ کار اور مینجمنٹ تصورات کے عملی استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔ پروگرام میں سوال و جواب کے دلچسپ سیشن بھی شامل تھے، جن کے ذریعے طلبہ کی تجزیاتی صلاحیت، ابلاغی مہارت اور مسئلہ حل کرنے کے انداز کا جائزہ لیا گیا۔

تقریب کا آغاز ایم بی اے، سال اوّل کی طالبہ علزہ اسرائیل کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا۔ اس کے بعد شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد اور دیگر اساتذہ نے طلبہ سے خطاب کیا۔ ججوں کے پینل میں پروفیسر امام الحق (شعبہ کامرس)، پروفیسر محمد علی اور پروفیسر فیصل طالب (شعبہ مکینیکل انجینئرنگ) اور پروفیسر عبید صدیقی (شعبہ اینستھیسیالوجی) شامل تھے۔ انہوں نے شرکاء کی پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور فکری وضاحت کو سراہا۔

اس مقابلے میں منال تحسین ملک نے پہلا انعام حاصل کیا، جبکہ ارحم اللہ خان اور عریبہ عباس بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر رہے۔ ججز اسپیشل ایوارڈ اقصیٰ قریشی، صفدر خان اور تانیہ سکسینہ کو دیے گئے۔ بیسٹ انڈسٹری ریلیونس ایوارڈانکیتا گوڑ کو دیا گیا جب کہ موسٹ امپیکٹ فل پرزنٹیشن ایوارڈفاطمہ انتخاب کے حصہ میں آیا۔

پروفیسر فضا تبسم عظمی اور ڈاکٹر آصف اختر (فیکلٹی انچارج برائے سمر انٹرن شپ) نے پروگرام کو مربوط کیا جبکہ طلبہ منتظمین میں عریشہ صدیقی، علزہ اسرائیل اور محمد عریب صدیقی شامل تھے۔

ٌ٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے جامعہ ہمدرد میں یونانی طب میں فارماکو وجیلنس کے موضوع پر لیکچر دیا

علی گڑھ، 30 اکتوبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید ضیاء لرحمن نے نئی دہلی میں جامعہ ہمدرد کے اسکول آف یونانی میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں ”یونانی طب میں فارماکو وجیلنس کی ضرورت“ عنوان پر لیکچر دیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر رحمن نے زور دیا کہ یونانی ادویات کی سیفٹی، افادیت اور معیار کی نگرانی نہایت ضروری ہے، جس کے لیے ادویات کے مضر اثرات کی منظم رپورٹنگ کے ذریعے مریضوں کے تحفظ اور شواہد پر مبنی روایتی طب کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

تقریب میں شعبہ علم الادویہ نے شعبہ صیدلہ کے اشتراک سے پوسٹر سازی مقابلے کا بھی اہتمام کیا، جس کا مقصد طلبہ میں فارماکو وجیلنس سے متعلق بیداری پیدا کرنا تھا۔ نمایاں تین بہترین پوسٹرز کے تخلیقی اور معلوماتی انداز کو سراہتے ہوئے انعامات دیے گئے۔

پروفیسر عبد الودود (سابق ڈائریکٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن، بنگلورو) نے اپنے اختتامی کلمات میں روایتی نظامِ صحت کو مضبوط بنانے میں فارماکو وجیلنس کے کردار پر روشنی ڈالی۔

اس سے قبل ڈاکٹر عائشہ صدیقی (چیئرپرسن، شعبہ علم الادویہ) نے مہمان مقرر کا تعارف کرایا۔ پروفیسر یاسمین شمسی (ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن) نے فاتحین کو انعامات سے نوازا اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر راسخ جاوید اور ڈاکٹر نفیس نے کی۔

ٌ٭٭٭٭٭٭

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام تقسیم انعامات کی پروقار تقریب منعقد

علی گڑھ، 30 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ”ہفتہئ سیرت النبی ؐ“ کے اختتام پر تقسیم انعامات کی تقریب منعقد کی گئی۔ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔

اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر گلریز نے کہا کہ یہ ہماری سعادت ہے کہ آج ہم اس ذاتِ گرامی ؐ کے ذکر و سیرت کے حوالے سے جمع ہیں جس نے انسانیت کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی راہ دکھائی اور قیامت تک کے لیے نمونہئ کامل قرار پائے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ سیرتِ رسول ؐ کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں اور اسوہ نبوی کو اپنا طرزِ حیات بنائیں۔

اس موقع پر کنوینر سیرت کمیٹی و چیئرمین شعبہ سنی دینیات پروفیسر محمد راشد نے تمام معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سیرت النبیؐ کے پروگراموں کا مقصد محض تقریبات کا انعقاد نہیں بلکہ یہ کوشش ہے کہ طلبہ میں عملی دینی شعور پیدا ہو اور وہ نبی کریمؐ کی سنتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے انسان سازی میں مذہب کی بنیادی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

مہمانِ اعزازی پروفیسر محمد نوید خان (شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن) نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی کریمؐ کی حیاتِ طیبہ زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل نمونہ ہے۔ خصوصاً اصولِ تجارت میں دی گئی ہدایات آج کے بزنس مین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ نبی کریمؐ نے تجارت کو محض منفعت کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی خدمت کا وسیلہ قرار دیا۔

دینیات فیکلٹی کے سابق ڈین پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سیرت تقریبات کی تاریخی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ سلسلہ علامہ شبلی نعمانی کے زمانے سے جاری ہے۔ سرسید احمد خاں رحمۃ اللہ علیہ تعلیم و تربیت دونوں کو یکساں اہمیت دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ یونیورسٹی میں ایک ایسی روحانی فضا قائم ہو جہاں طلبہ کی شخصیت علمی و اخلاقی دونوں لحاظ سے نکھرے۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر محمد رفیع الدین (ڈین ویلفیئر آف اسٹوڈنٹس) نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری زندگیوں میں سیرتِ نبویؐ کی جھلک دکھائی دینی چاہیے۔ ہمیں ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جس میں سیرتِ رسولؐ پر عمل کرنا آسان ہو۔ انہوں نے منتظمین کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور آئندہ بھی تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

پروگرام کی رپورٹ ڈاکٹر محمد ناصر (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سنی دینیات) نے پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ سیرت النبیؐ کے تحت منعقد ہونے والے اس چھ روزہ پروگرام میں 375 طلبہ و طالبات نے مختلف مقابلوں میں شرکت کی، جن میں سے 72 طلبہ انعام یافتہ قرار پائے۔ یہ مقابلے پرائمری، سیکنڈری اور یونیورسٹی تینوں سطح پر منعقد کیے گئے، جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسکولوں کے علاوہ شہر کے 15 مقامی اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے بھی بھرپور حصہ لیا۔

تقریب کا آغاز ابو ہریرہ کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، نعتِ رسولِ مقبول حمزہ کلیم نے پیش کی، جب کہ سمرا انصار نے تقریر کی۔ نظامت کے فرائض شعبہ سنی دینیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ندیم اشرف نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ و طالبات میں انعامات اور توصیفی اسناد تقسیم کی گئیں۔

اس موقع پر سیرت کمیٹی کے سکریٹری زاہد علی، جوائنٹ سکریٹری عبدالصمد، محمد شاہد، معین اشرف کے علاوہ بڑی تعداد میں اراکین سیرت کمیٹی موجود تھے۔ ڈاکٹر محمد عامر، ڈاکٹر احمد مجتبیٰ، پروفیسر صفدر اشرف جناب نسیم صاحب اور دیگر معزز اساتذہ کے علاوہ ڈین، فیکلٹی آف تھیولوجی پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی بھی موجود رہے۔

ٌ٭٭٭٭٭٭

انڈونیشیائی وفد نے اے ایم یو کا دورہ کیا، تعلیمی اشتراک، طلبہ کے تبادلہ اور داخلہ کے مواقع کی توسیع پر گفتگو

علی گڑھ، 30 اکتوبر: ہندوستان میں انڈونیشیا کے سفارت خانے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا دورہ کیا اور تعلیمی اشتراک، طلبہ کے تبادلے، اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس وفد میں پروفیسر فواد (ایجوکیشن اینڈ کلچرل اتاشی)، مسٹر موسونی (فرسٹ سکریٹری، پولیٹیکل سیکشن)، مسٹر ادھی بووانو (فرسٹ سکریٹری، پروٹوکول اینڈ قونصلر سیکشن) اور مسٹر آگو مولیاوان شامل تھے۔ یہ دورہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ممتاز انڈونیشیائی تعلیمی اداروں کے درمیان تعلیمی و ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

وفد کا خیرمقدم اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر اور ممبر انچارج دفتر رابطہ عامہ، پروفیسر وبھا شرما نے کیا۔

پرووائس چانسلر دفتر میں دونوں فریقوں نے سائنس، ٹکنالوجی، انسانی علوم، اسلامیات اور سماجی علوم جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو باضابطہ شکل دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ طلبہ و اساتذہ کے تبادلہ پروگرامز، مشترکہ ورکشاپ، اور تحقیقی منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ وفد نے اے ایم یو کی علمی شہرت، کثیرثقافتی ماحول اور عالمی سطح پر تعلیم میں تاریخی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مزید انڈونیشیائی طلبہ اے ایم یو میں داخلہ حاصل کریں۔

پروفیسر محسن خان نے اس موقع پر کہا کہ اے ایم یو بین الاقوامی تعلیمی شراکت داری کے فروغ کے تئیں پرعزم ہے اور ایک ایسا تعلیمی ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کی کوشش میں ہے جو علم کے تبادلے اور باہمی ترقی کو فروغ دے۔

انہوں نے کہا ”اے ایم یو ہمیشہ سرحدوں سے ماورا تعلیمی اشتراک و تعاون پر یقین رکھتا ہے۔ ہم انڈونیشیا سے مزید طلبہ کا خیرمقدم کرنے اور ایک پائیدار علمی تعلق قائم کرنے کے منتظر ہیں“۔

انڈونیشیائی وفد کے ارکان نے اے ایم یو کے متنوع تعلیمی ماحول اور ثقافتی ورثے کی تعریف کرتے ہوئے اسے روایت اور جدت کے درمیان ایک پل قرار دیا۔وفد نے اے ایم یو میں زیر تعلیم انڈونیشیائی طلبہ سے بھی ملاقات کی۔

دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل قریب میں تعاون کے لیے مخصوص فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔

یہ دورہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اے ایم یو اعلیٰ تعلیم کے بین الاقوامی فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے، جو ہندوستان کے تعلیمی سفارت کاری اور بین ثقافتی علمی روابط کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

Comments are closed.