قومیں تعداد سے نہیں، شعور و اتحاد سے ترقی کرتی ہیں

 

تحریر: مولانا انوار احمد رشادی

9973061313

 

ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی حالت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں کی رائے سیاسی جماعتوں کے فیصلے بدل دیا کرتی تھی۔ وہ کسی بھی انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے تھے، مگر آج وہ اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 18 فیصد ہے لیکن اس تناسب کے مقابلے میں ان کی سیاسی نمائندگی نہایت مایوس کن سطح پر پہنچ گئی ہے۔

 

آزادی کے بعد 1952 میں پہلی لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی 8.5 فیصد تھی لیکن آج یہ گھٹ کر 3 سے 4 فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح کئی ریاستوں میں جہاں مسلمانوں کی آبادی 20 تا 30 فیصد ہے وہاں اسمبلیوں میں ان کی موجودگی صرف 2 تا 5 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ صورتِ حال صرف سیاسی جماعتوں کی بے اعتنائی کا نتیجہ نہیں بلکہ خود مسلم سماج کی اندرونی کمزوریوں، باہمی انتشار، اور غلط سیاسی فیصلوں کی دین ہے۔

 

گزشتہ ایک دہائی میں ملک کے سماجی ڈھانچے میں نفرت اور فرقہ پرستی کا زہر بھر دیا گیا ہے۔ ایک مخصوص نظریہ نے مذہب کے نام پر عوام کے درمیان دراڑیں ڈال دی ہیں۔ وہ سماج جو کبھی گنگا جمنی تہذیب کی علامت تھا۔آج تفریق، شکوک اور عدم اعتماد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔

 

بدقسمتی سے خود مسلمانوں کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ذاتی مفاد کی خاطر پوری برادری کو گمراہ کرتے ہیں۔ ہر انتخاب میں کچھ مفاد پرست چہرے مسلمانوں کو یہ کہہ کر ورغلاتے ہیں کہ ان کی تعداد زیادہ ہے، لہٰذا آزاد امیدواروں کو جتو تاکہ تمہاری سیٹ محفوظ رہے۔ مگر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ووٹ تقسیم ہو جاتا ہے، سیکولر امیدوار ہار جاتے ہیں، اور فرقہ پرست قوتیں جیت جاتی ہیں۔ اس طرح مسلمان نہ نمائندگی حاصل کر پاتے ہیں، نہ اقتدار میں حصہ بلکہ صرف ایک ووٹ بینک بن کر رہ جاتے ہیں۔

 

یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جب تک ووٹ کا استعمال شعور اور فہم کے ساتھ نہیں کیا جائے گا، تب تک سیاسی قوت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ محض نعرے، جذبات یا مذہبی وابستگی کی بنیاد پر ووٹ دینے سے قوم کا بھلا نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں وزن تعلیم، تنظیم اور اتحاد سے آتا ہے۔

 

سیاسی کمزوری کے اثرات صرف پارلیمنٹ یا اسمبلی تک محدود نہیں رہے۔ اس نے مسلمانوں کی سماجی و معاشی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ سچر کمیٹی اور نیتی آیوگ کی رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی شرح محض 7 فیصد ہے۔ منظم شعبوں میں ان کی شرکت 5 فیصد سے بھی کم، سرکاری ملازمتوں میں ان کا تناسب 3 فیصد اور شہری علاقوں میں تقریباً 35 فیصد مسلمان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

 

یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ جب قوم سیاسی طور پر کمزور ہوتی ہے تو اس کی تعلیمی اور معاشی حالت بھی زوال پذیر ہو جاتی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی ترجیحات بدلیں۔ سب سے پہلے تعلیم کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنائیں۔ مدرسے اور دینی ادارے اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، قانون اور انتظامی تربیت کو بھی اپنائیں تاکہ قوم کے نوجوان اس دور کے تقاضوں کے مطابق مقابلہ کر سکیں۔

 

اس کے بعد سیاسی شعور پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ ووٹ دینا کافی نہیں، بلکہ سمجھ کر ووٹ دینا ضروری ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سا امیدوار واقعی مسلمانوں اور کمزور طبقات کے مسائل کو ایوان میں اٹھا سکتا ہے، نہ کہ وہ جو صرف مذہبی جذبات بھڑکا کر قوم کو گمراہ کرتا ہے۔

 

مسلمانوں کو اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ تمام مسلم تنظیمیں، ملی ادارے اور باشعور رہنما ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں اور ایسا ملی و قومی ایجنڈا تیار کریں جو مذہب کے نام پر نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، روزگار اور مساوات پر مبنی ہو۔ اسی کے ساتھ ملک کے دیگر انصاف پسند طبقات، دلتوں اور پسماندہ طبقوں کے ساتھ بھائی چارہ قائم کیا جائے تاکہ جمہوری نظام مضبوط ہو۔

 

فرقہ واریت اور نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا بہترین جواب محبت، مکالمے اور عقل مندی سے دینا ہوگا۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں تعداد سے نہیں بلکہ شعور ،اتحاد اور عمل سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ملک کے 18 فیصد مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر لیں، تعلیم کو اپنی طاقت بنائیں اور انصاف و حق کے ساتھ سیاست میں قدم رکھیں تو کوئی طاقت انہیں حاشیے پر نہیں ڈال سکتی۔

 

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمیں امن اور بھائی چارہ چاہئے یہ یقیناً ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ عزت، انصاف اور حقِ نمائندگی بھی لازمی ہے۔ ہمیں اپنے ووٹ، اپنی تعلیم اور اپنی آواز کو دانشمندی اور بصیرت کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ یہی ہماری بقا، ترقی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ضامن ہے۔

 

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم اپنی آبادی کے باوجود مفاد پرست عناصر کے بہکاوے میں آ کر ووٹ تقسیم کرتے رہیں گے تو نقصان صرف ہمارا ہوگا۔ ایسے مسلم امیدواروں کو ووٹ دینا جو صرف 5 یا 10 ہزار ووٹ حاصل کر کے رہ جاتے ہیں، دراصل سیکولر امیدواروں کی شکست اور فرقہ پرست قوتوں کی جیت کا سبب بنتا ہے۔ پھر ہر انتخاب کے بعد ہم افسوس کرتے ہیں، مگر اگلے انتخاب میں پھر وہی غلطی دہرا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سیکولر پارٹیوں کی نظر میں بھی مشکوک ہو جاتے ہیں اور ہمارا ٹکٹ ملنے کا دعویٰ بے وزن ہو جاتا ہے۔

 

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی قوم، اپنی سیاست اور اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہوں۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

قوم کا نعرہ اب یہی ہونا چاہئے ۔ شعور، اتحاد اور تعلیم یہی کامیابی کی کنجی ہے!

Comments are closed.