ظاہر و باطن کی اصلاح ایمان کا حقیقی تقاضا

مولانا محمد قمر الزماں ندوی

استاذ مدرسہ نورالاسلام کنڈہ پرتاب گڑھ یوپی

 

تمہید

 

الحمد للّٰہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین،

اما بعد!

دوستو بزرگو اور بھائیو!

اسلام وہ کامل اور جامع دین ہے،جو انسان کی ظاہری و باطنی دونوں پہلوؤں کی اصلاح چاہتا ہے۔

یہ دین نہ صرف انسان کے جسم، لباس، گفتار اور اعمال کو سنوارتا ہے، بلکہ اس کے دل، نیت، جذبے اور روح کو بھی پاکیزہ بنانا چاہتا ہے۔

کیونکہ اگر ظاہر درست ہو مگر باطن بیمار رہے، تو وہ عمل محض ایک کھوکھلا خول رہ جاتا ہے، جس میں روحِ اخلاص اور نورِ ایمان موجود نہیں ہوتا۔

اسی لئے قرآن و سنت میں باطن کی اصلاح پر خاص زور دیا گیا ہے، تاکہ انسان کے ظاہر و باطن میں وہ مناسبت و ربط اور ہم آہنگی پیدا ہو جائے، جو اللہ کو محبوب ہے۔

 

اسلام کی تعلیمات میں ظاہر و باطن کی اہمیت

 

اسلام نے انسان کو دو جہتوں میں دیکھا ہے،

ایک اس کا ظاہر، جو لوگوں کو دکھائی دیتا ہے،

اور دوسرا اس کا باطن ، جو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

ظاہر اعمال کا میدان ہے، باطن نیتوں کا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 

انما الاعمال بالنیات ۔

"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔”

 

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اگر نیت خالص نہ ہو، تو بظاہر اچھا عمل بھی اللہ کے ہاں بے وقعت ہو جاتا ہے۔

نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ، سب اپنی جگہ عظیم عبادات ہیں، مگر ان کی اصل روح اخلاص ہے، جو دل کی کیفیت ہے۔

اسی لیے قرآنِ کریم نے فرمایا:

 

الا من اتی اللہ بقلب سلیم (الشعراء: 89)

"وہی نجات پائے گا جو اللہ کے حضور پاک دل لے کر آئے۔”

یہ آیت دل کی پاکیزگی کو نجات کی بنیاد قرار دے رہی ہے۔

دل اگر حسد، ریا، تکبر اور نفاق سے آلودہ ہو جائے تو اعمال کا نور بجھ جاتا ہے۔

 

باطن کی اصلاح کیوں مقدم ہے؟

 

ظاہر کی اصلاح بلاشبہ ضروری ہے، مگر اصل بنیاد باطن کی درستگی ہے۔

جس طرح درخت کی جڑیں نظر نہیں آتیں، مگر انہی سے سارا درخت زندہ رہتا ہے،

اسی طرح دل اور نیتیں اعمال کی جڑ ہیں۔

اگر جڑیں سڑی ہوئی ہوں، تو پتے ہرے نظر آئیں تب بھی دیرپا نہیں رہ سکتے۔

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

الا ان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد واذا فسدت فسد الجسد کلھا،

(بخاری)

"سن لو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے،

اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔”

یہ حدیث گویا اسلام کی اخلاقی و روحانی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔

ظاہر کی اصلاح، باطن کی اصلاح کے بغیر نامکمل ہے۔

ظاہر عبادات کو سنوارتا ہے، باطن ان عبادات میں جان ڈالتا ہے۔

جب تک نیت میں اخلاص نہ ہو، عمل میں وہ قوت اور وزن نہیں آسکتا جو اللہ کو مطلوب ہے۔

دوستو !

اخلاص نیت ایک عظیم سرمایہ اور بیش بہا دولت اور گنج گراں مایہ ہے ،جس کا تعلق دل سے ہےاور اس کا اثر یقینی طور پر انسان کے ظاہر و باطن اعمال پر پڑتا ہے ، اس کے بہت سے فوائد ہیں ، اخلاص نیت سے عبادات میں روحانیت ،علم میں نور، تعلیم و تدریس میں برکت و قوت ،وعظ و ارشاد میں تاثیر ،تبلیغ و دعوت میں قبولیت ،تصنیف و تالیف میں اثر و مقبولیت ،سیاسی و تنظیمی کاموں اور کوششوں میں کامیابی و نتیجہ خیزی ،تعلقات میں استواری ،جماعتوں میں اتحاد ،افراد میں ایثار و قربانی اور محبت و ہمدردی پیدا ہوتی ہے ، غرض پوری زندگی اپنی جگہ آجاتی ہے ۔ ہر طرح کا ضعف و انتشار ختم ہو جاتا ہے اور پھر مخلصین کی زبان میں اللہ ایسا اثر ڈال دیتے ہیں کہ وہ دشمن کو دوست ، پتھر کو موم اور غافلوں ،فاسقوں کو تہجد گزار اور تقویٰ شعار بنا لیتے ہیں ان کے اخلاص اور سوز دروں کے نتیجے میں انسان کا دل بدل جاتا ہے ۔

 

قرآن و سنت میں باطن کی تطہیر کی تعلیم

 

قرآن کریم نے جابجا اہلِ ایمان کو تزکیۂ نفس کی دعوت دی ہے:

 

قد افلح من ذکاھا و قد خاب من دساھا (الشمس: 9-10)

"یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور ناکام ہوا وہ جس نے اسے آلودہ رکھا۔”

یہ تزکیہ دراصل باطن کی صفائی ہے ،دل سے کینہ، ریا، حسد، لالچ، تکبر، تعصب و تنگ نظری اور نفس پرستی کا زنگ اتار دینا۔

 

نبی کریم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بھی یہی بیان فرمایا:

 

انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ۔

"مجھے تو بس اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔”

 

اور اخلاق کا سرچشمہ دل ہے۔ اگر دل درست ہو جائے تو زبان سے جھوٹ نہیں نکلتا، ہاتھ سے ظلم نہیں ہوتا، نظر خیانت نہیں کرتی، قدم گناہ کی طرف نہیں بڑھتے۔

 

عقل و نقل کی روشنی میں دل کی اصلاح کی ضرورت

 

اگر ہم عقل کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا باطن ہی اس کی اصل حقیقت ہے۔

ظاہر تو بدلتا رہتا ہے ، لباس، زبان، چہرہ، رسم و رواج ، مگر دل کی حالت ہی انسان کی شناخت ہے۔

عقل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ظاہر کا حسن وقتی ہوتا ہے،

باطن کا حسن دائمی۔

انسان کا ظاہر تو لوگوں کو دھوکہ دے سکتا ہے،

مگر باطن اللہ سے چھپ نہیں سکتا۔

اسی لیے اہلِ عرفان و اہل فراست اور اولیاءِ کرام نے ہمیشہ "تزکیۂ باطن” کو سب سے بڑا جہاد قرار دیا۔

 

 

عملی اصلاح کا طریقہ

 

باطن کی اصلاح کے لیے چند امور ضروری ہیں:

 

1. نیت کی تجدید ، ہر عمل سے قبل نیت کو خالص کیا جائے۔

 

2. محاسبۂ نفس ، روزانہ اپنے دل کا جائزہ لیا جائے کہ کہیں ریا، کبر یا حسد نے جگہ تو نہیں بنائی۔

 

3. ذکر و تلاوت ، دل کی زنگ کو صاف کرنے کا بہترین ذریعہ اللہ کا ذکر ہے۔

 

4. صحبتِ صالحین ، نیک لوگوں کی صحبت دل میں نور پیدا کرتی ہے۔

 

5. توبہ و استغفار ، دل کی گندگی کا سب سے مؤثر علاج توبہ ہے۔

 

محترم حضرات!

اسلام کا مقصد صرف ظاہری عبادتیں ادا کرنا نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے ایک سلیم القلب بن کر حاضر ہونا ہے۔

ظاہر کی خوبصورتی انسان کو دنیا میں معزز بناتی ہے،

مگر باطن کی پاکیزگی اسے آخرت میں کامیاب بناتی ہے۔

آج ہمیں اپنے دلوں کی دنیا آباد کرنے کی ضرورت ہے ،

ریا کی جگہ اخلاص، حسد کی جگہ خیرخواہی،

اور تکبر کی جگہ عاجزی پیدا کرنی ہے۔

 

اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے،

اور ہمیں ان بندوں میں شامل کرے جن کے بارے میں فرمایا:

یوم لا ینفع مال و لا بنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم ،،

اس دن نہ مال فائدہ دے اور نہ اولاد کام آئے گی مگر وہی کامیاب ہوگا جو قلب سلیم لے کر آئے گا ۔

 

:باطن کی اصلاح ظاہر کی اصلاح سے بھی زیادہ ضروری

 

علماء کرام نے لکھا ہے کہ

 

●● "یوں توانسان کا ظاہر بے انتہا خوبصورت اور جاذب نظر ہے، بہترین ساخت و ڈھانچہ ، اعضاء کی مناسب ترتیب ، شیریں گفتگو اور لبوں پر دلفریب مسکراہٹ ہے، زیب و زینت، بناؤ و سنگھار اور عمدہ لباس ہے، نمائشی اشیا پر مشتمل، چمک دمک رہائش کا بھرپور اہتمام ہے ، ظاہری طور پر خود کو سنوارنے کی ہر ممکن کوشش ہے ۔ ہاں، اگر یہ ایک مخصوص دائرہ میں ہو، اور اسراف سے پاک ہو تو شرعاً ظاہری جمال کا اہتمام کرنا معیوب نہیں ۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: "ان اللہ جمیل یحب الجمال ” (مسلم) ترجمہ:” اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے” ۔ مگر ظاہر سے زیادہ اہم باطن کی اصلاح ہے ، دین اسلام میں کتاب وحکمت کی تعلیم اور متعدد عبادات کا ایک بنیادی مقصد تزکیہ نفس (دلوں کی صفائی) ہے، نیت کی درستگی اور دل کی صفائی ہی اصل خوبصورتی ہے، جس سے معاملات و تعلقات بہتر ہوتے ہیں، اعتماد قائم ہوتا ہے ، اخوت و محبت برقرار رہتی ہے ، وغیرہ فوائد کی بنا پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے باطنی گناہوں سے بھی بچنے کا حکم دیا۔ اللہ فرماتا ہے:”وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْـمِ وَ بَاطِنَه” (الانعام 120) ترجمہ: ’’تم ظاہری اور باطنی سب گناہ چھوڑ دو”۔ مگر افسوس ہے کہ آج مادیت کی دنیا میں بیشتر کا باطن غلط شہوات وشبہات کی غلاظتوں سے بدبو دار ہے، وہاں گندی سوچ، بدظنی، بے وفائی ، عیاری و مکاری ، شک و نفاق، بغض و نفرت ، حقد و حسد اور کبر و غرور ہے، ریا کاری و شہرت طلبی کا بازار گرم ہے، مضمون سے زیادہ غلاف اور مغز سے زیادہ چھلکے کو حیثیت دی جا رہی ہے، اعتماد اٹھ چکا ہے، باطنی خباثت کی صفائی پر کوئی توجہ نہیں، مَن کی کثافت و گندگی دھلنےکے لئے کوئی جد وجہد نہیں، حال یہ ہے کہ اگر انسان کا راز و باطن ظاہر ہو جائے تو وہ معاشرہ میں منھ دکھانے کے قابل نہ رہے ۔ وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے وفاداری ، محبت ، اخوت اور تقویٰ و طہارت کا مظاہرہ کرتا ہے، اپنے آپ کو ولی و صالح بنا کر پیش کرتا ہے، مگر باطن میں برعکس ہوتا ہے، اللہ کا عاصی و دشمن ہوتا ہے، اللہ کو فریب اور دھوکہ دیتا ہے، وہ ایسی ذات کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے، جس کے سامنے ہر راز و باطن عیاں ہے ، عالم الغیب و الشہادۃ ، تمام خیالات و ارادوں کو جاننے والا، ہر راز و باطن کا مکمل علم رکھنے والاہے، {یَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ} (غافر ۱۹) ترجمہ:’’ خائن آنکھوں اور دل میں چھپی باتوں کو جانتا ہے‘‘۔کہیں فرمایا:{ وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ } ( الملك: 13) ترجمہ: ’’اور تم اپنی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو ، بے شک وہ سینہ کی باتوں کو جانتا ہے‘‘۔ ظاہری اعمال قبول کرنے کے لئے باطن کو بھی دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حدیث ہے: "إِنَّ اللهَ تعالى لَا ينظرُ إلى صُوَرِكُمْ وَأمْوالِكُمْ ، ولكنْ إِنَّما ينظرُ إلى قلوبِكم و أعمالِكم” (صحیح الجامع) ترجمہ: ’’اللہ تمہاری شکل و صورت اور اموال کو نہیں دیکھتا ہے، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ جس طرح انسان لوگوں سے حیا کرتے ہوئے اپنا ظاہر خوبصورت بنا کر رکھتا ہے، اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کرتے ہوئے باطن کو بھی خوبصورت بنا کر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ باطن کا علم اللہ کے پاس ہے، کسی کے باطن پر شک کرنا درست نہیں، گرچہ انسان کے ظاہر پر حکم لگایا جائے گا، مگر زندگی کے صفحات پر باطن کے اثرات دِکھ جاتے ہیں، باطن کا بگاڑ ظاہر کو بدنما کردیتا ہے۔

●● باطن کی اصلاح کیسے ہو؟ بندہ اپنے رب سے حیا کرے، اپنا باطن لباس تقوی سے مزین رکھے، اللہ کی معرفت اور اس کی قدرت کاملہ پر یقین ہو، اللہ پر ایمان و توکل، خوف و محبت ، اور امید ہو، حاجات کے وقت اللہ کی طرف متوجہ ہو، عقیدۂ توحید و ایمان کی باریکیوں کو سمجھے اور ان پر عمل پیرا رہے، اللہ کی نگرانی و نگہبانی کا احساس ہو، دلوں میں اخلاص ہو۔ حسن اخلاق کو سمجھے ، رب اور اس کے بندوں کے ساتھ سچائی کا معاملہ کرے ، یہ احساس ہو کہ باطن کی اصلاح سے ہی رب تک رسائی آسان ہوگی، رحمت و قربت ملے گی ۔ اسی طرح سے اپنا محاسبہ کرے، اور یہ احساس پیدا کرے کہ بروز قیامت تمام دفینۂ دل اور پوشیدہ کام انسان کے سامنے کھول کر رکھ دئے جائیں گے۔ اللہ فرماتا ہے:{ یَوْمَ تُبْلَی السَّرَائِرٍ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ } (الطارق) ترجمہ:’’ اس دن تمام رازفاش ہو جائیں گے، پس اس کے پاس نہ کوئی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار ہوگا ‘‘۔ اللہ ہمیں اپنا ظاہر و باطن درست رکھنے کی توفیق دے”۔ آمین

 

نوٹ / اخیر کی واوین کی تحریر مقصود احمد المدنی کی ہے، موضوع کے بالکل مناسب تھی, اس لئے شامل کر دیا گیا, مضمون نگار کے شکریہ کیساتھ۔

Comments are closed.