مردہ لاشوں سے چلتی پھرتی لاشوں تک
سہیل انجم
یہ کہانی مردہ لاشوں سے چلتی پھرتی لاشوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسے لکھا ہے عہد حاضر کے ایک سفاک ترین حکمراں نے۔ ایک ایسے حکمراں نے جس کو انسانیت چھو کر بھی نہیں گزری۔ جو شرافت کے نام سے بھی واقف نہیں۔ اس حکمراں کا نام ہے بنجامن نیتن یاہو۔ نیتن یاہو نے اس کہانی کو لکھنے کے لیے منتخب کیا دنیا کے مظلوم ترین خطہ ارض غزہ کو اور ہدف بنایا وہاں کی انتہائی بے بس قوم کو۔ انھوں نے اس خطہ ارض کو تاخت و تاراج اور وہاں کے باشندوں کی نسل کشی کے لیے نہ صرف مہلک ترین ہتھیاروں کا استعمال کیا بلکہ لاشوں کو بھی ہتھیار بنا لیا۔ جنگ بندی کے بعد اس نے دھمکی دی کہ اگر حماس نے ہلاک شدہ اسرائیلی یرغمالوں کی تمام لاشیں واپس نہیں کیں تو وہ بھول جائیں گے کہ کوئی امن معاہدہ ہوا تھا۔ انھوں نے اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا۔ انھوں نے یہ الزام لگا کر کہ حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے غزہ پر حملہ کرکے سو فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ حالانکہ حماس معاہدے کی خلاف ورزی کی تردید کرتی ہے۔
زندہ یرغمالوں کو اسرائیل کے حوالے کرنے کا کام تو بہت آسانی سے ہو گیا لیکن لاشوں کی واپسی کا مرحلہ مشکل ثابت ہوا۔ حماس کا عذر ہے او رجائز ہے کہ اسے نہیں پتہ کہ مردہ یرغمالوں کی لاشیں کہاں کہاں ہوں گی کیونکہ پورا علاقہ ملبے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ لیکن اس سفاک حکمراں کو یہ جائز دلیل منظور نہیں۔ جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے خود اپنی جیلوں میں دم توڑ بیٹھے تمام فلسطینیوں کی لاشیں ابھی تک واپس نہیں کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق غزہ میں 61 ملین ٹن ملبہ ہے جو کہ پندرہ عظیم اہرام اور 25 ایفل ٹاور بنانے کے لیے کافی ہے۔ یہ ملبہ وہاں پہلے سے موجود نہیں تھا بلکہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے رہائشی مکانات، کاروباری عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور تمام قسم کی عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ جن کے نیچے کارآمد بم اور دھماکہ خیز اشیا ہو سکتی ہیں جن کے کسی بھی وقت پھٹ پڑنے کا اندیشہ برقرار ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ملبوں کے نیچے دس ہزار سے زائد انسان دبے ہوئے ہیں۔ یہ تعداد اور زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے اگر ایسا ہوا تو وہ سب کے سب اپنی جانیں گنوا چکے ہوں گے۔ یعنی لاشوں میں تبدیل ہو چکے ہوں گے۔ حماس نے دیگر ملکوں اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان ملبوں کی صفائی کرکے ان کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے مشینوں اور آلات کی ضرورت ہے۔ جو مشینیں آئیں گی ان کے ایندھن کی بھی ضرورت ہوگی۔ ترکی نے زلزلے کی صورت حال سے نمٹنے والے 80 سے زائد ماہرین غزہ روانہ کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق غزہ میں جو کچھ ہوا ہے اس کی تحقیقات کے لیے آزاد انکوائری کی ضرورت ہے۔ ہر عمارت کا الگ سے جائزہ لینا پڑے گا۔
’عرب برٹش اسٹینڈنگ لندن‘ کے ڈائرکٹر کرس ڈویل کا ایک مضمون سعودی عرب کے انگریزی روزنامہ ’عرب نیوز‘ میں شائع ہوا ہے جس کے مطابق ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ کے 53 فیصد علاقے کو کنٹرول کریں گی۔ اس علاقے کی نشان دہی کے لیے ایک نادیدہ ایلو لائن ہے۔ بہت سے فلسطینیوں کو معلوم ہی نہیں کہ ایسی کوئی لائن بھی ہے۔ لیکن اسرائیلی افواج کا دعویٰ ہے کہ ایسی لائن ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد ایک کار پر حملہ کیا گیا جس میں ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ تھا کہ اس خاندان نے ایلو لائن عبور کر لی تھی۔ یہ لوگ اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی افواج اس 53 فیصد علاقے میں ملبوں کو ہٹانے اور ان کے نیچے دبی لاشوں کو نکالنے کی اجازت دیں گی۔ ممکن ہے کہ ان ملبوں کے نیچے بعض اسرائیلی یرغمالوں کی بھی لاشیں ہوں اور فسلطینیوں کی تو ہوں گی ہی۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لاشو ںکی شناخت کے لیے فورنسک جانچ کی ضرورت ہوگی جبکہ غزہ میں اس قسم کی تمام سہولتیں تہس نہس ہو گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے لاشوں کی شناخت ناممکن ہوگی۔ صرف کپڑوں اور جوتوں سے کچھ سراغ مل پائے گا۔ جنگ بندی معاہدہ کے بعد اسرائیل نے 135 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی ہیں۔ لیکن اس کی کوئی تفصیلات نہیں ہیں کہ ان کا پوسٹ مارٹم ہوا ہے یا نہیں یا ان کی موتیں کیسے ہوئیں۔ ان لاشوں کا شناخت نامہ بھی نہیں دیا گیا۔ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ ان لاشوں پر اذیت رسانی، جلانے اور یہاں تک کہ پھانسی دینے کے نشانات ہیں۔ غزہ کے ایک صحت اہل کار کے مطابق ان کو جانوروں کی طرح باندھا گیا۔ ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور ان کے جسموں پر خوفناک ٹارچر کے نشانات تھے۔ جس سے ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا کا پتہ چلتا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا میں جو تصاویر ہیں وہ انتہائی بھیانک ہیں۔ فلسطینیوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کئی لاشوں پر ٹینک چلنے کے نشانات ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ جب وہ زندہ تھے تو ان پر ٹینک چڑھا دیے گئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی جیلوں میں کم از کم 75 فلسطینی قیدی ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ تو ہوئی مردہ لاشو ںکی کہانی۔ زندہ لاشوں کی کہانی یہ ہے کہ آج غزہ میں لاکھوں چلتی پھرتی لاشیں ہیں جن کی اکثریت غذا کی کمی کی شکار ہے۔ وہاں کے بچوں کی تصاویر میڈیا میں شائع ہو رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ غذائی قلت کے سبب ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے ہیں۔ لاکھوں افراد زخمی ہیں اور ان کے علاج کا کوئی انتظام نہیں۔ جن کا علاج ہو بھی رہا ہے تو وہ انتہائی کم سہولتوں کے ساتھ۔ یہاں تک کہ بغیر بے ہوش کیے یا بغیر سُن کیے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ان زخمیوں کی تکالیف کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان زخمیوں میں سے کتنے زندہ بچتے ہیں اور کتنے لاشوں میں تبدیل ہو کر پہلے سے موجود لاشوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں کہا نہیں جا سکتا۔
گرس ڈویل کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اسرائیل ان تفصیلات سے انکار کرے لہٰذا ایک آزادانہ جانچ کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول حقیقت یہ ہے کہ پورا غزہ اسرائیل کی وسیع جرائم گاہ بن چکا ہے۔ اسرائیل دھمکی دیتا ہے کہ اگر تمام مردہ یرغمالوں کی لاشیں واپس نہیں کی گئیں تو جنگ بندی کے معاہدے کو نظرانداز کر دیا جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود 1990 سے لاشوں کو ہتھیار بناتا رہا ہے۔ اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ لاشوں کو ہتھیار بنانے کی اسرائیل کی ایک طویل تاریخ ہے۔ وہ سودے بازی کے لیے فلسطینیوں کی لاشوں کا استعمال کرتا رہا ہے۔ وہ انھیں اپنے پاس روکتا رہا اور اس کے عوض فائدے اٹھانے کی کوشش کرتا رہا۔ اس نے 2015 میں بھی یہی کیا تھا اور پہلے بھی کیا تھا۔ بین الاقوامی قانون کہتا ہے کہ لاشوں کا احترام کیا جائے اور انھیں باعزت طریقے سے جلد از جلد ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔ لیکن اسرائیل اس قانون کو نہیں مانتا اور اسے ذرا بھی اہمیت نہیں دیتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت غزہ چلتی پھرتی لاشوں سے لبالب ہے۔ غذائی امداد کا سلسلہ شروع تو ہوا ہے لیکن اسرائیل نے اہل غزہ پر جو مصنوعی بھکمری لاد دی ہے اس کے تناسب میں وہ امداد بہت قلیل ہے۔ غذائی اشیا کی سب سے زیادہ ضرورت جنوبی غزہ میں ہے لیکن اسرائیل کی جانب سے پابندیوں کی وجہ سے وہاں تک امداد کا پہنچنا ناممکن لگ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چہ جنگ بندی ہو گئی ہے لیکن اسرائیل کب پھر اپنی ہٹ دھرمی پر اتر آئے کہا نہیں جا سکتا۔ نیتن یاہو اب بھی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دنیا غزہ میں ہونے والی سفاکی کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتی ہے لیکن امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی و یوروپی ممالک اسے نسل کشی ماننے کو تیا رنہیں ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ان کے نزدیک نسل کشی کا پیمانہ کیا ہے۔ کیا پوری آبادی لاشوں میں تبدیل ہو جاتی تب اسے نسل کشی کہا جاتا۔
موبائل: 9818195929
Comments are closed.