لوکل باڈی چناؤ میں میونسپل کمشنر کا کردار

 

مشرف شمسی

 

مہاراشٹر میں لوکل باڈی کے چناؤ 31 جنوری 2026 کرا لیے جانے کا حکم ممبئی ہائی کورٹ نے دیئے ہیں ۔اس چناؤ کے دیکھتے ہوئے حزب اختلاف کی جماعتیں ووٹ چوری کے معاملے جو مہاراشٹر میں گزشتہ اسمبلی الیکشن میں ہوئے ہیں اس کی سچائی عام لوگوں تک پہنچا رہے ہیں ۔ووٹ چوری کا معاملہ آئے دن مہاراشٹر کے اخباروں میں دیکھنے کے لئے مل جاتے ہیں ۔لیکِن اس سب کے بر عکس بی جے پی سمیت سبھی حکمراں جماعت کی پارٹیوں پر کوئی فرق پڑتا نظر نہیں آ رہا ہے اور نہ الیکشن کمیشن آنے والے لوکل باڈی کے چناؤ میں ووٹر لسٹ کی خامیوں کو دور کرنے کے لئے کسی طرح کی مثبت قدم اٹھانے کے لئے تیار نظر آ رہی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو حزب اختلاف کے ذریعے ووٹ چوری پر ہائے توبہ مچانے کا اُن پر ذرّہ برابر فرق نہیں پڑ رہا ہے۔اور ہیں بی جے پی یا حکومت میں شامل جماعتیں ووٹ چوری کے شور و غل سے بے پرواہ آنے والا لوکل باڈی کا چناو میں کیسے جیتا جائے اور الیکشن کمیشن کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیسے کیا جائے اس حکمت عملی پر کام کرنے شروع کر دیے ہیں۔ اہمیت کے حامل تقریباً سبھی میونسپل کارپوریشن میں حکمران جماعت اپنے خاص میونسپل کمشنر کی تقرری کرتی نظر آ رہی ہیں ۔ان میونسپل کمشنر کا ایک ہی کام ہے کہ آنے والے میونسپل کارپوریشن چناؤ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حکمراں جماعت کو پہنچانا ہے ؟ ان کمشنروں نے اپنے اپنے کارپوریشن کے علاقے میں اپنے ماتحت آفیسروں کو ہر طرح کے کام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔کمشنروں کی حالت خاموش تماشائی کی بنی ہوئی ہے ۔آخر تبادلے سے آئے ہوئے میونسپل کمشنر کارپوریشن کے روزمرّہ کے کاموں میں زیادہ دخل کیوں نہیں دے رہے ہیں ؟ کارپوریشن کے اندر اور باہر ایک طرح سے لوٹ مچی ہوئی ہے لیکِن شکایت کے باوجود کمشنر کچھ نہیں کر پا رہے ہیں ۔یہ کسی ایک میونسپل کارپوریشن کی کہانی نہیں ہے بلکہ زیادہ تر کارپوریشن میں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔یہ اس لیے ہونے دیا جا رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ میونسپل آفیسروں کو اپنے ساتھ لیا جائے۔ووٹ چوری الیکشن کمیشن کے ذریعے بی جے پی کو الیکشن جیتا نے کا حربہ ہے۔ووٹر لسٹ میں کہیں ووٹ کم اور کہیں زیادہ کر الیکشن میں یہ صرف ایک طرح کی دھاندلی ہے۔ساڑھے پانچ کے بعد چھ سے سات فیصدی ووٹ میں اضافہ کیا جانا بھی ایک بہت بڑی ووٹ چوری ہے۔یہ چوری اسلئے بھی ثابت ہوتی ہے کہ الیکشن کمیشن شام 5 بجے کے بعد کا ویڈیو حزب اختلاف کے مطالبے کے بعد بھی نہیں دیتا ہے ۔یہاں تک کہ مرکزی سرکار الیکشن کمشنر کو بچانے کے لئے قانون تک بنا ڈالے ہیں کہ الیکشن کمشنروں پر کسی طرح کا ایف آئی آر درج نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

کہنے کا مطلب صاف ہےحزب اختلاف صرف ووٹر لسٹ کی غلطیوں پر دھیان نہیں دے بلکہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنروں کی تقرری پر باریکی نظر رکھے۔الیکشن کمشنر اپنے اپنے کارپوریشن میں روزمرّہ کے کاموں پر مداخلت سے پرہیز کیوں کر رہے ہیں اور ان کا دھیان کس جانب ہے۔کیونکہ میونسپل کمشنر ہی کارپوریشن چناؤ میں الیکشن کمشنر ہوتا ہے اور چناؤ اُنکے ماتحت ہی ہوتے ہیں ۔

میرا روڈ ،ممبئی

موبائیل 93226747

 

Comments are closed.