کیا اردو زبان کے صحافی و مدیران ضروریات ِزندگی سے پاک ہیں؟

 

از قلم۔ ذوالقرنین احمد

 

اردو زبان کے تحفظ کو لے کر سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے اردو اخبارات میں کام کرنے والے مدیران و صحافیوں کو ان کی خدمات کے بدلے صرف شکریہ کہے دیا جاتا ہے یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے کوئی اس جانب توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔میرے صحافتی سفر کے تیرہ سالہ تجربہ میں ہے کہ مجھے آج تک ایک روپیے کی مدد اس صحافتی خدمات کے ذریعے نہیں کی گئی ہے۔ لوگ فوٹو بھیج دیتے ہیں اور دو تین لائن میں چھوٹی سی نیوز وہ بھی صرف ہیڈنگ کی طرح ہوتی ہے اور کہتے ہے کہ آپ اس کو بنا لیجیے۔ پھر دوسری چیز کچھ لوگ اچھی خاصی خبر بنا کر دیتے ہیں جس میں تقریباً اخبار کا ایک چوتھائی حصہ جگہ گھیر لیتا ہے اور کوئی تو اپنے اداروں کی پوری روداد بھیج دیتے ہیں جیسے جلسہ وغیرہ کے وقت اور پھر اس میں خود نمائی بھی الگ ہی ایک ساتھ کولاج کی گئی تصویروں کی بھرمار۔ اتنا ہی نہیں بلکہ نیوز ایڈیٹر کو میل کرنے کے بعد صبح تمام اخبارات کو دیکھنا پڑھتا ہے میں یہ جان بوجھ لکھ رہا ہوں کیونکہ نیوز کونسے اخبار میں لگی ہیں اس کی تلاش میں ہمارا اخبار پڑھنا ایک طرف رہ جاتا ہے۔ صبح کی اہم خبریں ہو یا اداریہ نظر انداز ہوجاتے ہیں اور ان اداروں کی خبریں تلاش کروں ان کے اسکرین شاٹ لو اور تاریخ و اخبار کے نام کے ساتھ سجے سجائے طریقے سے ان اساتذہ، مدارس کے ذمہ داران یا اردو کے نام نہاد چاہنے والوں کو وہاٹس ایپ پر پیش کردوں اور پھر اپنے اپنے فیسبک والاور وہاٹس ایپ اسٹیٹس کی زینت بھی بناؤ اتنا ہی نہیں اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر یہ سب کام کرنے ہوتے ہیں لیکن ہمارے اردو زبان کے نام نہاد رکھوالے اور محبت کرنے والوں کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوتی ہے کہ وہ اخبار کے ایڈیٹر یا اخبار میں کام کرنے والے نامہ نگار کی خدمات کو سراہا کر انہیں تحفہ کے طور پر خاموشی کے ساتھ مدد کردی جائے یا اخبار کو اشتہار دیا جائے یا رپورٹرز کو ان کا حق دیا جائے۔

 

 

آج ایک مستری کی حیثیت بھی ان اخبارات میں کام کرنے والوں سے بہتر ہیں جنہیں اپنی محنت کا معاوضہ رات میں کام پورا ہوتے سے مل جاتا ہے ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ ہمیں نیوز تو باقاعدگی سے اخبارات میں شائع کرنے کے لیے بھیجی جاتی ہے لیکن معاشرہ میں وہ مقام نہیں دیا جاتا جو ایک صحافی کو ملنا چاہیے اسکول، مدارس، دینی جلسہ جلوس ہو یا شادی بیاہ کے مواقع وہاں ان پڑھ جاہل لیڈروں کا استقبال کرنے کے لیے ان سیاسی شخصیات کے وزن سے دوگنا پھولوں کے ہاروں اور بوکے وغیرہ سے استقبال کیا جاتا ہے لیکن صحافتی خدمات انجام دینے والے افراد کو پروگرامز میں بلانا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے ہاں پروگرام ختم ہونے کے بعد یا دوسرے دن ہماری یاد ضرور آتی ہیں کیونکہ نیوز لگانی ہوتی ہے۔ تھوڑی سی غیرت ہونی چاہیے کہ جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ویسی چیزوں کی ضرورت مدیر ان و صحافیوں کو بھی ہوتی ہے یہ کوئی فرشتے نہیں ہے جو انسانی ضروریات سے پاک ہو، صحافیوں کو بھی بیوی بچے ہوتے ہیں ماں باپ ہوتے ہیں دکھ سکھ زندگی میں ہوتے ہیں، بچوں کی اسکول کی فیس ہیں بوڑھے والدین کی دوا گولی ہے غمی خوشی کے مواقع ہوتے ہیں،انسانی خواہشات اور ضروریات ہے خدارا اگر اردو زبان کو زندہ رکھنا ہے تو اردو زبان کے لیے خدمات انجام دینے والوں کو ہر طرح سے مدد کرنے کی ضرورت ہے ورنہ جو قوم اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرسکتی وہ اپنی تہذیب و ثقافت اور دینی تشخص کی بھی حفاظت نہیں کرسکتی ہے۔ اس لیے اگر اردو زبان کی بقاء چاہتے ہیں تو اردو زبان کے لیے چھوٹی موٹے جو بھی کام آپ کسی اردو دان سے کروا کر لیتے ہیں تو ان کا معاوضہ ضرور ادا کریں۔

Comments are closed.