مولانا عبدالعزیز بھٹکلی: عزم واستقلال کا روشن چراغ

 

✍️ محمد حسین قاسمی بجنوری

شریک دورۂ حدیث شریف جامعہ اسلامیہ دار العلوم وقف دیوبند

حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی دامت برکاتہم، کارگزار مہتمم و استاد حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، عہدِ حاضر کے ان جلیل القدر اصحاب علم میں شمار ہوتے ہیں جن کی حیاتِ علمی علم و حلم، وقار و وقوف، عزم واستقلال اور فکر و فن کا حسین مرقع ہے۔ آپ کی ذاتِ گرامی نہ صرف ندوۃ العلماء کے علمی مزاج کی ترجمان ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے فہمِ دین، حسنِ اخلاق اور وسعتِ نظری، کشادہ ظرفی، مہمان نوازی اور رجال سازی کی روشن مثال بھی ہے۔

حالیہ ایام میں بعض حلقوں کی جانب سے آپ پر “امام المتعصبین” وغیرہ کا جو الزام عائد کیا گیا، وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ علمی دیانت سے بھی خالی ہے۔ اختلافِ رائے کو تعصب کا عنوان دے دینا فکری افلاس کی علامت ہے۔ حق پر مضبوطی سے قائم رہنا اگر تعصب ہے تو پھر استقامتِ ائمہ اور غیرتِ دینی کو بھی اسی نام سے موسوم کرنا ناگزیر ہوگا، حالانکہ آپ حضور والا کے مزاج میں مہمان نوازی اور قدردانی کا عنصر نمایاں ہے جس سے اپنے اور پرایے کا امتیاز ہی ختم ہوجاتا ہے، طلبہ کے تئیں آپ کا خلوص اور فکر برابر ہے خواہ وہ دار العلوم دیوبند کے طلبہ ہوں یا ندوہ کے، آپ یکساں طور پر ذہن سازی، مزاج نبوی اور ذوق علمی سے روشناس کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کو بروے کار لاتے ہیں۔

 

مولانا عبدالعزیز صاحب کی زندگی شاہد ہے کہ آپ فقہ و حدیث میں راسخ قدم ہونے کے ساتھ ساتھ وسعتِ قلبی اور حسنِ سلوک کے پیکر ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اتحادِ امت، احترامِ باہمی اور اعتدالِ فکر کو اپنا شعار بنایا ہے۔ علمی اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رکھنا اور دلیل کے ساتھ بات کہنا آپ کے منہج کا حصہ ہے۔ ایسے شخص کو تعصب کی علامت کہنا گویا سورج پر انگلی رکھنے کے مترادف ہے۔

 

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ابتدا ہی سے علم و عمل، جامعیتِ فکر اور اعتدالِ مزاج کا مرکز رہا ہے۔ اس ادارہ کا خاص وصف قدیم صالح، جدید نافع کا حسین سنگم رہا ہے اور اس کا نعرہ الی الاسلام من جدید کا نعرہ ہے، یہ ادارہ نہ کسی خاص مسلک کی تنگ نالی میں بند ہوا اور نہ فکری انتشار کا شکار ہوا، بلکہ اس نے ہمیشہ امت کو جوڑنے والی فکر کو فروغ دیا اور اٹھارویں صدی کے اواخر میں جو خلیج قدیم وجدید فکرو نظر کے درمیان قائم ہو چکی تھی اس کو پاٹنے کا کام کیا، نیز ملت کو وقت کی ضرورتوں، طلبہ مدارس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، ان کے بال وپر کو سنوارنا اور انہیں صیقل کرکے ملت کے درمیان مبعوث کرنا یہ ندوۃ العلماء کا خاص وصف رہا ہے۔ مولانا عبدالعزیز صاحب اسی عظیم ادارے کے فکری ورثے کے امین، اسی علمی روایت کے پاسبان اور داستان شبلی کے فرزند ارجمند ہیں۔ ان کی قیادت میں ندوہ کی درسگاہیں حدیث کی خوشبو، فقہ کی بصیرت اور اخلاق کی لطافت سے معطر ہیں۔

راقم کو حال ہی میں مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ جو کچھ وہاں دیکھا، سیکھا وہ محض ملاقات نہ تھی بلکہ ایک درخشاں کردار کا مشاہدہ تھا۔ خندہ پیشانی، شفقت آمیز گفتگو اور محبت بھری ضیافت نے دل پر گہرا نقش چھوڑا۔ ان کی مجلس میں تکلف کی جگہ سادگی، اور رعونت کی جگہ تواضع جلوہ گر تھی۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ ان کی شخصیت تعصب نہیں بلکہ حسنِ اخلاق کی آئینہ دار ہے۔

آج کے طلبہ اور نوجوانوں کے لیے یہ لمحۂ احتساب ہے کہ وہ اکابرِ امت کے بارے میں لب و لہجہ احتیاط کے ساتھ اختیار کریں اور یہ بات بھی ملحوظ نظر رکھیں کہ جتنے بھی دینی ادارے، تحریکیں اسلام کے نام پر دعوت دین اور خدمت دیں کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ان کے اکابرین واساطین فن ہمارے لیے بھی اتنے ہی محترم و مکرم ہیں جتنا کہ وہ اپنے مکتب فکر کے نزدیک ہیں۔

علم کا راستہ ادب کے دروازے سے ہو کر گزرتا ہے، اور جس علم میں ادب، سلیقہ اور شائستگی نہ ہو وہ روشنی کے بجائے تاریکی کا سبب بنتا ہے۔ اختلاف کو الزام میں بدل دینا نہ شرافتِ علم ہے اور نہ وقارِ طالب علمی۔

مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی علم کے چراغ، حلم کے نگہبان اور اعتدال کے علمبردار ہیں۔ ان پر عائد کیے گئے الزامات وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر ان کی علمی عظمت اور اخلاقی رفعت کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص حق کی شمع جلانے نکلتا ہے، اس کے راستے میں ہوائیں ضرور چلتی ہیں، مگر شمع بجھتی نہیں، بلکہ اور زیادہ روشن ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی کو صحت و عافیت کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو عام فرمائے، اور ہمیں اکابر کے ادب، وسعتِ نظری اور اتحادِ امت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

Comments are closed.